Daily Mashriq


ڈھونڈو گے اگر تم ملکوں ملکوں

ڈھونڈو گے اگر تم ملکوں ملکوں

پشتو زبان و ادب کی ایک سے زیادہ نابغہ روزگار شخصیات اپنے بہت سے چاہنے والوں کو داغ مفارقت دے کر داعی اجل کو لبیک کہہ گئیں۔

تو بھی فانی میں بھی فانی فانی سب سنسار۔ دمادم اللہ ہو

باقی ذات اسی کی جو ہے سب کا پالن ہار۔ دمادم اللہ ہو

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم سب نے اس عالم فنا سے کوچ کر جانا ہے۔ہم جو زندگی کی چلتی ریل گاڑی میں سفر کرتے ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور ہماری یہ ملاقات پیار محبت دوستی اور آشنائی کا روپ دھار لیتی ہے توہمارا دل بلیوں اچھلنے لگتا ہے اور اس بات کو کسی قیمت بھی قبول نہیں کرتا کہ ہم نے ایک دن گاڑی کی بوگی سے اتر کر دور بہت دور نیلے گگن کے اس پار چلے جانا ہے، ایک دوسرے کا سنگ ساتھ، رشتہ ناتا ، پیار بندھن سب کچھ توڑ جانا ہے۔ آپ لاکھ بار میرے اس جملے سے پہلے یا اس کے بعد اللہ نہ کرے یا خدانخواستہ کالفظ کہہ لیں۔ مگر ایسا ہونا ہے ایسا ہوتا ہے اور ایسا ہوکر ہی رہے گا۔ یہ ایک کڑوی اور اٹل حقیقت ہے ۔

نہ تھا کچھ تو خدا تھا ، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا

ڈبویا مجھ کو ہونے نے،نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

کتنے ایسے لوگ ہیں جو تماشا گاہ عالم میں پہنچنے سے پہلے ہی اجل کے بے رحم جبڑوں کا لقمہ بن جاتے ہیں۔ یونیسیف کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پیدا ہونے والے کسی بچے کا پہلے ہی ماہ میں انتقال کر جانے کا امکان جاپان، آئس لینڈ یا سنگاپور میں پیدا ہونے والے بچوں کے مقابلے میں 50 گنا زیادہ ہے۔پاکستان میں پیدا ہونے والے ہر 22 بچوں میں سے ایک بچہ پہلے ہی ماہ میں انتقال کر جاتا ہے، یعنی 1000 نوزائیدہ بچوں میں سے 46 بچے اپنی زندگی کا دوسرا ماہ نہیں دیکھ پاتے ، جی ہاں ایسا روز ہوتا ہے بہت سے بچے جینے سے پہلے ہی مرجاتے ہیں لیکن سچ تو یہ بھی ہے کہ بہت سے بچے جی جی کر مرتے ہیں اور بہت سے مر مر کر جیتے رہتے ہیں

زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے

ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے

اگر آپ کو ہماری اس بات پر یقین نہ آئے تو خدارا جھانک لیجئے گا کسی فاقہ زدہ بستی کے چیتھڑے پہنے نحیف ونزار بچوں کو۔ منشیات کے عادی جواں نسل کے ان زندہ لاشوں کو جو زندہ رہنے کے لئے دم مارو دم کاوظیفہ جپتے رہتے ہیں ۔ ہائے کہ در آتی ہیںزندگی کی چند سانسوں کو تڑپتی اور بلکتی جوانیاں ہماری تحریر میں اور ہم اپنے موضوع سے ہٹ کر اپنا سر پیٹتے گریبان چاک کرتے ماتم کرنے لگتے ہیں ان بے موت مر جانے اورزندہ در گور ہوجانے والی جوانیوں کا۔ اس گھڑی ایک ووٹ کا سوال ہے بابا کہنے والے بھک منگوں کی سنگ دلی پر پھوٹ پھوٹ کر رونے کو جی کرتا ہے اور یوں ہم بھی مرجاتے ہیں اپنے پژ مردہ احساس کو دفناتے دفناتے اور چل نکلتے ہیں ان لوگوں کے حق میں اپنا قیمتی ووٹ ڈالنے جن کی عینکیں پہن کر بسنت کے اندھے کو کالے باغ بھی ہرے ہی ہرے نظر آنے لگتے ہیں۔ ہم میں سے کتنے لوگ مر مر کر جی رہے ہیں اور کتنے جی جی کر مر رہے ہیں۔ اس کی نہ کوئی حد ہے نہ حساب لیکن آج

لکھتے رہے جنوں کی حکایات خوں چکاں

ہر چند کہ اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

کے مصداق ہم نے جن سرو چراغاں بچھڑنے والوں کو یاد کرنے کی غرض سے قلم تھاما ہے وہ زندہ رہ کر زندگی گزارتے رہے۔ اور داعی اجل کو لبیک کہہ کر بھی زندہ رہ گئے کہ ایسے لوگ مرا نہیں کرتے پشتو زبان و ادب کی زلفہائے گرہ گیر سنوارنے والی ان نابغہ روزگار شخصیات میں سردار خان فنا بھی تھے جن کی مادری زبان پشتو تھی جنہوں نے پشتوزبان کو نظم و نثر کے بے بدل شہپارے دئیے لیکن وہ جہاں اور جب کبھی راقم الحروف سے مخاطب ہوئے تو ہندکو کے بے تکان لب و لہجے میں عہد و پیمان کی حلاوت اور شیرینی نچھاورکرتے رہے اور دارالفنا سے دارالبقا کو کوچ کرنے سے پہلے اپنی لاڈوں پالی پاکستان رائٹرز گلڈ خیبر پختون خوا کی صوبائی سیکرٹری شپ کی نہایت کٹھن ذمہ داریوں کا طرہ اس کے سینے پر سجا گئے۔ پشتو زبان کے بے بدل محقق شاعر اور حضرت رحمان بابا علیہ رحمت کے سخن فہم اور رمز آشنا پروفیسر داور خان داؤد بھی پاکستان رائٹرز گلڈ کی مجلس عاملہ کے بزرگ ترین رکن تھے ،دنیا ئے فانی سے رخصت ہونے سے چند روز پہلے اپنی آخری کتاب’’ رنگہائے پشتو ادب‘‘ تحفہ کرتے وقت محبتوں بھری ید بیضائی کرتے ہوئے لکھا ’’محترم شین شوکت کے نام جن کی شبانہ روز تگ ودو نے ہندکو اور پشتو کو ایک ہی پلیٹ فارم پر ایستادہ کرنے کا ایک اہم لسانی فریضہ پایہ تکمیل تک پہنچایا‘‘۔ زہے نصیب یہ سنداعتراف مرحمت فرمانے والے پروفیسر داور خان داؤد بھی چل بسے۔ داد محمد دل سوز بھی رخصت ہوئے۔ پروفیسرفرمان الدین بخشالی، پروفیسر محمداللہ خلیل، اور ڈاکٹر قابل خان آفریدی، بھی اپنے بہی خواہوں کوداغ مفارقت دے گئے اور منعقد ہونے لگے تعزیتی ریفرنس ان کی یاد میں ، اللہ جانے کس چور دروازے سے گھس آیا ہے کمبخت ریفرنس کا یہ لفظ ہماری ڈکشنریوں میں بس ایک تعزیتی ریفرنس ہی کرنے جمع ہوجاتے ہیں ان کی یاد میں جن کی خاموشیاں چیخ چیخ کر پکار اٹھتی ہیں کہ

ڈھونڈو گے اگر ملکو ں ملکوں ، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

تعبیر ہے جس کی حسرت و غم، اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

اللہ مغفرت کرے عجب آزاد بندے تھے جو

چل نکلے امر ہوکر گیت گانے آزادی کے

متعلقہ خبریں