Daily Mashriq

گیلپ ‘ پلس اور IPORسروے

گیلپ ‘ پلس اور IPORسروے

گیلپ ایک عالمی ادارہ ہے جو گزشتہ 80سال سے عالمی سرویز کا انعقاد کرتا آ رہا ہے۔ گیلپ پول کو دنیا بھر میں مستند سمجھا جاتا ہے لیکن حال ہی میں الیکشن 2018ء کے حوالے سے جو سروے گیلپ نے پیش کیا ہے اُسے پاکستان کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورت حال کے تناظر میں قبول کیا جانا عجیب لگتا ہے۔ اس سروے پر ایک اعتراض تو اس کے سیمپل سائز کا ہے۔ 105.96ملین ووٹرز یعنی ساڑھے دس کروڑ ووٹرز میں سے فقط تین ہزار ووٹرز کی رائے کی کیا حیثیت ہے۔ پنجاب کے 36اضلاع ہیں‘ اگر اس سیمپل کو فی ضلع میں تقسیم کیا جائے تو ایک ضلع کے سیاسی رجحان کا فیصلہ 50افراد نے کیا ہے۔ یہ 50افراد صنفی اعتبار سے کون تھے اور کتنے تھے؟ امیر اور غریب کی نمائندگی کیا تھی؟ پوش علاقوں اور متوسط و غریب آبادیوں کا تناسب کیا تھا؟ ان افراد کی عمریں کس ایج گروپ کی تھیں اور کتنی تھیں؟ وغیرہ وغیرہ ۔ اگر سیمپل سائز کو ان سوالات کے مطابق تقسیم کر دیا جائے تو شاید کسی خاص طبقے ‘ صنف اور ایج گروپ کی نمائندگی دو تین افراد کے حصے میں آئے گی۔ کیا اس اعتبار سے مورخہ 4جولائی 2018ء کو شائع ہونے والے گیلپ پول کے ذریعے پاکستانی عوام کے سیاسی رجحان کا تعین صحیح طور پر ہو سکتا ہے اور کیا اسے آنکھیں بند کر کے قبول کیا جانا چاہیے۔ یہی حال "Pulse"کے سروے کا ہے۔ اس کا سیمپل سائز بھی گیلپ جیسا ہے ۔ میری رائے میں جب بھی ایسے سرویز کیے جائیں تو ان میں عوام کی ایک بڑی تعداد کو شامل کرنا چاہیے تاکہ سروے نتائج کو مستند اور نمائندگی کے قابل سمجھا جا سکے۔ ان سرویز کے مقابلے میں IPORکے سروے میں ایک بڑی تعداد کو شامل کیا گیا ہے لیکن اس سروے میں دو بنیادی خامیاں ہیں۔ ایک خرابی تو اس سروے کا ٹائم پیریڈ ہے۔ یہ سروے 15اپریل سے 2جون تک منعقد ہوا۔ اس دوران گراؤنڈ پر کئی تبدیلیاں واقع ہوئیں اور پاکستان کا سیاسی منظر نامہ 31مئی 2018ء کے بعد نہایت تیزی سے تبدیل ہوا۔ پاکستان تحریک انصاف نے ٹکٹوں کی تقسیم کے عمل کو اس وجہ سے مؤخر کیا چونکہ پنجاب کے مختلف اضلاع سے شمولیت کے خواہش مند ایم این ایز اور ایم پی ایز کی ایک لمبی لائن لگی ہوئی تھی۔ اندازاً قومی اسمبلی کے 70سے زائد حلقو ں سے مسلم لیگ ن‘ پیپلز پارٹی ‘ مسلم لیگ ق اور دیگر جماعتوں کو چھوڑ کر سیاسی اثر ورسوخ کے حامل وہ افراد تحریک انصاف میں شامل ہوئے جنہیں پارٹی ٹکٹ سے نوازا گیا۔ اس کی تفصیل میں جائیں تو تحریک انصاف نے قومی اسمبلی کے 19ٹکٹ پیپلز پارٹی چھوڑ کر آنے والوں‘ 18ٹکٹ مسلم لیگ ن چھوڑ کر آنے والوں ‘ 7ٹکٹ مسلم لیگ ق سے آنے والوں اور 30ٹکٹ آزاد یا دیگر جماعتوں سے آنے والوںکو دیے۔ ان افراد کے تحریک انصاف میں شامل ہونے کے بعد لامحالہ ان انتخابی حلقوں کی حرکیات میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی واقع ہوئی ہو گی جس کا احاطہ IPORکا سروے یقینا نہیں کر سکا ہوگا۔ IPORکے چیف ایگزیکٹو اگر وقت نکال کر مجھ سے اس بابت تفصیلی نشست کا اہتمام کریں تو انہیں اپنے سروے کی ٹائمنگ اور حلقوں کی بدلتی حرکیات کے حوالے سے میرے نکتہ نظر سے اتفاق کرنا پڑے گا۔ دوسری غلطی جو اس سروے میں سرزد ہوئی وہ یہ ہوئی کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فائنل نوٹیفکیشن سے پہلے انہوں نے 141حلقوں کا سروے شروع کر لیا حالانکہ 5مارچ 2018ء کو ابتدائی حلقہ بندیوں میں اور 5مئی 2018ء کی حتمی حلقہ بندیوں میںکافی فرق ہے۔ میں نے چونکہ راولپنڈی شہر اور کینٹ کے قومی اسمبلی کے تین حلقوں کی حد بندیوںکو چیلنج کیا تھا لہٰذا یہ بات تو میرے سامنے کی ہے کہ ابتدائی حلقہ بندیاں بعد ازاں تبدیل ہو گئیں اور قدرے تبدیلی کے ساتھ انتخابی حلقوں کی ہیئت بدل گئی۔ صرف ایک حلقے کی مثال پیش کرتا ہوں تاکہ بات سمجھ میں آسکے۔ ابتدائی حلقہ بندیوں میں راولپنڈی کینٹ کے ساتھ راولپنڈی شہر کی 6یونین کونسلیں شامل تھیں جنہیں حتمی فہرست میںکینٹ سے علیحدہ کر دیا گیا اور ان کی جگہ چکلالہ کینٹ کے مردم شماری کے تین چارج (تقریباً پانچ وارڈز) کو انتخابی حلقہ این اے 61کا حصہ بنا دیا گیا۔ اب اس انتخابی حلقہ کا سیمپل مختلف علاقوں سے کیسے لیا گیا اور اس کے نتائج کیا تھے یہ اپنی جگہ ایک سوالیہ نشان ہے۔1420افراد کا سیمپل سائز IPORکے سروے میں ہر حلقے کے لیے مخصوص تھا‘ جب انتخابی حلقوں کی حدود تبدیل ہو گئیں تو یہ سروے کس قدر مستند تصور ہو گا ۔ IPORکے سروے نے پنجاب میں مسلم لیگ ن کا 51فیصد ووٹ بینک ڈکلیئر کیا ہے جو مجوزہ بالا میرے اعتراضات کی روشنی میں بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔ جس دوران یہ سروے ہوا انتخابی حلقوں کی حرکیات اور ہیئت میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں واقع ہوئیں لہٰذا اس سروے کی بنیاد پر پنجاب میں مسلم لیگ ن کی برتری قرار دینا قطعاً درست نہیں ہے ۔ ضلع راجن پور اور ڈیرہ غازی خان میں مسلم لیگ ن کے جن سات امیدواروں نے آخری دن ٹکٹ واپس کیے اور آزادانہ الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ان کے انتخابی حلقوں کی سیاسی حرکیات کیا تبدیل نہیں ہو گئیں اور کیا اس کااحاطہ گیلپ ‘ پلس اور IPORکے سرویز میں کیا گیا ہے؟

متعلقہ خبریں