Daily Mashriq


معاشی بدحالی میں چین کا تعاون

معاشی بدحالی میں چین کا تعاون

عزیزمیں منتخب جمہوری حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی متعدد بحرانوں نے سر اٹھا لیا ہے،جس میں سر فہرست معاشی بد حالی اور غیر ملکی قرضوں کا بوجھ ہے۔روپے کی مسلسل گرتی ہوئی قدر برآمدات کے مقابلے میں درآمدات میں مسلسل اضافے،بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں کمی، غیر ملکی قرضوں کی اقساط کی ادائیگی اور سیاسی خلفشار کی وجہ سے ملکی ساکھ پر منفی اثرات کے نتیجے میں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں صرف دو سال کے عرصے میں 8ارب ڈالر سے زائد کی کمی ہوئی ہے۔ جس سے ملکی معیشت جو ایک وقت میں دنیا کے نقشے پر ابھرتی ہوئی نظر آرہی تھی،ایک بار پھر ہچکولے کھانے لگی ہے اور پاکستان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہ گیاکہ سود خور عالمی اداروں سے مدد طلب کرنے کی بجائے اپنے دوست ملکوں سے رجوع کرے جو آسان شرائط پر مالی معاونت کریں۔ ایک غیر ملکی ایجنسی کے مطابق سابق حکومت کے دور ہی میں اس حوالے سے عظیم ہمسایہ اور ہر مشکل میں کام آنے والے دوست ملک چین سے دو ارب ڈالر کے قرضے کی بات چیت چل رہی تھی جو نتیجہ خیز ثابت ہوئی ہے اور چین نے زرمبادلہ پر دبائو کم کرنے کے لیے ایک ارب ڈالر کا قرضہ پاکستان کو دے دیا ہے۔ وزارت خارجہ نے اس کی تردید کی ہے نہ تصدیق لیکن وزارت خزانہ کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ یہ رقم پاکستان کو مل چکی ہے۔

اس سے تیزی سے کم ہوتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر کو وقتی طور پر سہارا مل سکے گا۔ پاکستان کے پاس اکتوبر2016میں زر مبادلہ کے 24ارب ڈالر سے زائدکے ذخائر موجود تھے جوبڑھتے ہوئے تجارتی خسارے اور غیر ملکی ادائیگیوں کے باعث حیرت انگیز طور پر مئی میں کم ہو کر 16ارب 40کروڑ اور گزشتہ ہفتے مزید کم ہوتے ہوئے 9ارب 66کروڑ ڈالر رہ گئے ہیں۔ اس وقت ملک کے پاس تین ماہ کے درآمدی بل کی ادائیگی کے لیے بھی زرمبادلہ نہیں ہے۔ نئی رقم کے حصول کے بعد رواں مالی سال کے دوران چین سے لیے گئے قرضوں کی حد 5ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ کرنٹ اکائونٹ کے خسارے میں اتنی ہی رقم کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو ملک کی معاشی حالت کی کمزوری کو ظاہر کر رہا ہے۔برآمدات اور غیر ملکی ترسیلات زر سمیت پچھلے گیارہ ماہ میں پاکستان نے تقریباً40ارب ڈالر کمائے جبکہ درآمدات پر 55ارب ڈالر ادا کرنا پڑے۔دستاویزی حساب کتاب کے مطابق 18-2017کے ابتدائی دس ماہ کے دوران چین نے دوطرفہ قرضہ کی مد میں پاکستان کو ڈیڑھ ارب ڈالر دیئے جبکہ اسی عرصے میں پاکستان نے چینی بینکوں سے 2 ارب 90 کروڑ ڈالر حاصل کیے۔ چین مدد نہ کرتا تو پاکستان کو مجبوراً عالمی بینک اور آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑتا جو قرضوں کے لیے مالی ہی نہیں سیاسی شرائط بھی عائد کرتے ہیں اور قوموں کی آزادی گروی رکھ لیتے ہیں۔ ان کی ناروا شرائط تسلیم کرنے سے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانا پڑتا جس سے مہنگائی کو مزید پر لگ جاتے۔ چین سے پاکستان کی دوستی لازوال ہے مگر ایسے دوست کو مسلسل امتحان میں نہیں ڈالتے رہنا چاہئے، ہمیں خود بھی اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کی کوشش کرنی چاہئے، حالیہ ٹیکس ایمنسٹی ا سکیم اس سلسلے میں ایک بار آور اقدام ہے یہ کوشش بھی کرنی چاہئے کہ بین الاقوامی تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے برآمدات بڑھائی اور درآمدات گھٹائی جائیں۔غیر ملکی قرضوں پر انحصار کم کیا جائے ملکی وسائل کو زیادہ سے زیادہ بروئے کار لایا جائے اخراجات کم کیے جائیں اور مالیاتی نظام کو بہتر بنایا جائے۔ ترسیلات زر میں اضافے کے لیے بیرون ملک پاکستانیوں کو ترغیبات دی جائیں پاکستانیوں کے لیے بیرون ملکوں میں روز گار کے مواقعے تلاش کیے جائیں اور ان کے حصول کے لیے مدد کی جائے دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک بھی دوسرے ملکوں میں کام کرنے والے اپنے لوگوں کی ترسیلات زر پر انحصار کرتے ہیں۔اس سلسلے میں بیرون ممالک کام کرنے والے محنت کشوں کے مسائل کو سنجیدگی سے دیکھا جائے ان کے مسائل حل کرنے کے لئے مناسب فورم تشکیل دے کر اور بیرون ممالک کی حکومتوں کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی جائے کہ وہ بھی پاکستانی محنت کشوں کو سہولیات بہم پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں۔بالخصوص عرب ممالک میں کام کرنے والے پاکستانیوں کی مشکلات کا جائزہ لے کر ان کی مدد کیلئے فوری طور پرلائحہ عمل طے کیا جائے کیونکہ عرب ممالک میں چند سالوں سے خارجیوں کو نکالنے کا عمل جاری ہے۔ برآمدی پیداوار بڑھانے پر توجہ دی جائے، نگران حکومت کا کردار اس سلسلے میں بہت محدود ہے، اس لیے سیاسی پارٹیوں کو جو اگلی حکومت بنانے کے لیے انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں ابھی سے ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کی مؤثر تدابیر سوچنی اور ان پر عملدرآمد کے لیے ٹھوس لائحہ عمل تیار کر لینا چاہئے۔آج مشکل وقت میں چین ہمارے کام آیا ہے اور اس نے دیگر ممالک کی نسبت کم شرائط پر ہمیں قرض دے دیا ہے لیکن یاد رہے کہ چین کی طرف سے ملنے والی امداد بھی بہر صورت قرض ہی ہے جو ہمیں یا ہماری نسلوں کو سود سمیت لوٹانا ہے۔ہمارے حکمرانوں کو چین سے قرض لینے کی بجائے اس سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے جن خطوط پر چل کر آج چین لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی بجائے انہیں قرض دے رہا ہے۔

متعلقہ خبریں