Daily Mashriq

حزب اختلاف کااکٹھ، حکومتی حکمت عملی کیا ہونی چاہئے

حزب اختلاف کااکٹھ، حکومتی حکمت عملی کیا ہونی چاہئے

اپوزیشن جماعتوں کی رہبرکمیٹی نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے کیلئے قرارداد 9جولائی کو جمع کرانے اور حکومت کیخلاف ملک بھر میں 25 جولائی سے احتجاجی مظاہرے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا کہ ملک میں ایک نیا سیاسی ڈھانچہ تشکیل دیا جارہا ہے جو انتہائی باعث تشویش ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کی مرتب کردہ رہبرکمیٹی میں چیئرمین سینیٹ کو عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے ہٹانے پر اتفاق جمہوری طریقے اور جمہوری انداز کا فیصلہ ہے جس کی آئین میں اجازت ہے اور جمہوری ملک میں ایسا ہونا کسی قسم کے تضاد اور جمہوریت کی راہ میں رکاوٹ کا باعث نہیں ہوگا۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کی باہم چپقلش نہ ہوتی تو موجودہ چیئرمین کا انتخاب پہلے ہی ممکن نہ ہوتا، چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کا پیپلز پارٹی کے امیدوار کو نام تجویز کرکے اس کی غیرمشروط حمایت کا اعلان ملک کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم فیصلہ اور طرزعمل تھا جسے پی پی پی نے بوجوہ قبول نہ کیا، اس کے پس پردہ کیا مقاصد اور مصلحتیں تھیں اس کا اندازہ اس وقت کے حالات کے تناظر میں مشکل نہ تھا۔ بہرحال پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) اپنے جماعتی اور سیاسی فیصلوں کے باعث قریب نہیں آئے بلکہ ان کو حالات نے جب ایک ہی نہج پر لاکھڑا کیا دونوں جماعتوں کی سینئر قیادت اور عملی سربراہان جب جیل چلے گئے تب نوجوان قیادت آگے آئی، مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور پی پی پی کے جوانسال چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات اور ایک دوسرے کی دعوت قبول کرنے سے ملک میں سیاست کی بازی پلٹ گئی۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ کی تمام تر مساعی اس ملاقات سے قبل تک بے رنگ ہی تھیں۔ چیئرمین سینٹ کو ہٹائے جانے پر اتفاق صرف ایک منتخب عہدیدار کو جمہوری انداز سے عہدے سے ہٹانے کی حد تک کا فیصلہ نہیں بلکہ یہ ان عناصر کو پہلی مرتبہ نیچا دکھانے کی سنجیدہ سعی ہے جس کا نتیجہ خیز ہونا ملک میں ایک ایسے سیاسی دور کی ابتدا ہوگی جس میں سیاسی جماعتوں کی طرف سے بیرونی مداخلت کے بغیر پارلیمان اور حکومتی معاملات کو آگے چلانے کا چیلنج اور اعلان ہوگا۔ عددی طور پر حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں چیئرمین سینیٹ کیخلاف بہ آسانی تحریک عدم اعتماد کامیاب بنا سکتی ہیں، اس ضمن میں اور تو کوئی مشکل نظر نہیں آتی سوائے اس کے کہ جو قوتیں سیاسی جماعتوں کو تقسیم کرکے اور ان کو شرمات دیکر صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ بنا سکتی ہیں کیا وہ اسے بچانے کی سعی نہیں کریں گی یا پھر حالات کا دھارا بدل جانے کی بناء پر صادق سنجرانی کے عہدے سے محرومی کی صورت میں وہ دل پر پتھر رکھ جائیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک میں میثاق جمہوریت سے جس سیاسی ہم آہنگی کا آغاز ہوا تھا اس میں خلل آنے کے باعث ہی صادق سنجرانی منتخب ہوگئے تھے۔ اسے ہٹانے کا مطلب میثاق جمہوریت کا احیاء ہوگا اور ملک میں ایک ایسی سیاسی روایت قائم ہوگی جو ملکی سیاست کے دھارے میں تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔ جہاں تک حکومت کیخلاف ملک بھر میں پچیس جولائی سے احتجاجی مظاہرے شروع کرنے کا تعلق ہے یہ سیاسی جماعتوں کا جمہوری حق ضرور ہے لیکن جاری معاشی حالات اس کی اجازت نہیں دیتے۔ اس سے کاروبار وروزگار پر اثرات مرتب ہونے اور خاص طور پر سرمایہ کاری رک جانے اور ملک میں غیریقینی سیاسی حالات کے باعث یہ قومی نقصان کا باعث بنے گا جس کا بعد میں ملکر بھی ازالہ ممکن نہ ہوگا۔ اگرچہ ماضی میں موجودہ حکمران جماعت طویل دھرنا دینے اور مسلسل احتجاج کی تاریخ رکھتی ہے جسے اس وقت کی حکومت نے نہایت تحمل سے برداشت کیا تھا لیکن ایسا نہیں لگتا کہ موجودہ حکومت اس قسم کے برداشت کا مظاہرہ کر پائے گی۔ منڈی بہاؤالدین میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کو جلسے کی اجازت نہ دینا اس عدم برداشت کی ایک مثال ہے البتہ پیپلز پارٹی کے جوانسال چیئرمین کو جلسے کرنے میں زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں۔ دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی اجازت مل جاتی ہے، آمدہ دنوں میں حکومت کو جس برداشت اور تحمل کی ضرورت ہے اس کا تقاضا ہے کہ حکومت اپنی حکمت عملی کو جارحانہ رکھنے کی بجائے نرم روی اختیار کرے تاکہ مہنگائی سے تنگ آئے عوام کو حزب اختلاف اشتعال دلاکر اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے میںکامیاب نہ ہو۔ حکومت کو اس امر کا فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ طاقت کے استعمال کے ذریعے حزب اختلاف کی تحریک کیلئے آکسیجن فراہم نہیں کرے گی بلکہ تحمل اور برداشت کیساتھ سیاسی اور جمہوری انداز میں بالکل اسی طرح کا رویہ اختیار کرے گی جس کا خود اسے تجربہ ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کا دباؤ بڑھانے کا حربہ اپنی جگہ لیکن ان کا یہ حربہ اگر ملکی معیشت پر اثرانداز ہو تو اس پر نظرثانی ہونی چاہئے۔ حزب اختلاف کیلئے چیئرمین سینیٹ کو جمہوری اور باوقار انداز میں عہدے سے ہٹانا ناکافی ہوگا۔ جاری حالات میں اقتدار پھولوں کی سیج نہیں کانٹوں کا بستر ہے جس کے حصول کیلئے کوشش اور کاوش سے زیادہ بہتر مصلحت سے حکومت کو کام کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

متعلقہ خبریں