Daily Mashriq

احساس پروگرام کا خوش آئند آغاز

احساس پروگرام کا خوش آئند آغاز

قوم وزیراعظم کی اس یقین دہانی پر مطمئن تھی اور انتظار اس بات کا تھا کہ بے نامی جائیدادوں اور ٹیکس نادہندگان کی جو فہرست حکومت کے پاس آچکی تھی ایمنسٹی مدت کے خاتمے کے بعد پورے ملک میں بھرپور مہم شروع ہو جائے گی۔ بے نامی جائیدادیں اتنے بڑے پیمانے پرضبط ہوں گی کہ ان کی فروخت سے بجٹ کا خسارہ متوازن ہو جائے گا لیکن پہلے دن سیاستدانوں کے دوچار مبینہ بے نامی جائیدادوں کیخلاف کارروائی کے ابھی تک کوئی ٹھوس کارروائی سامنے نہیں آئی۔ دریں اثناء وزیراعظم عمران خان نے بے نامی جائیدادوں کی نشاندہی کرنے والوں کو 10فیصد دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بے نامی جائیدادوں کی جو بھی نشاندہی کرے گا ہم رولز تبدیل کر کے اس کو 10فیصد دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بے نامی جائیداد سے حاصل ہونے والا سارا پیسہ احساس پروگرام میں ڈال دیا جائے گا۔ وزیراعظم کی جانب سے بے نامی جائیدادوں کی نشاندہی پر انعامات کے اعلان سے اس امر کا شبہ ہوتا ہے کہ حکومت کے پاس مطلوبہ اطلاعات کافی نہیں۔ ہمارے تئیں بے نامی جائیداد میں حصہ دینے کا طریقہ کار عرصہ دراز سے مروج ہے اور یہ کبھی بھی کامیاب ثابت نہیں ہوا ہے اور نہ ہی اب یہ ہوگا۔ عوام کو اولاً حکومتی اداروں پر اعتماد نہیں، دوم یہ کہ ہمارے معاشرے میں دشمنی مول لینا بہت گھاٹے کا اور خطرات کا سودا ہوتا ہے۔ بہتر ہوگا کہ حکومت اپنے ذرائع پر اعتماد کرے اور سرکاری مشینری کو بروئے کار لاکر بے نامی جائیدادوں کا پتہ چلائے' حکومتی ادارے اگر سنجیدگی سے کام کریں تو استطاعت وآمدنی سے کئی گنا زیادہ اور اونچی زندگی گزارنے اور آمدن نہ ہونے کے باوجود بچوں کی لاکھوں کی فیس دینے اور پرتعیش گھر وگاڑیاں رکھنے والے چھپے نہیں بلکہ معاشرے کے کھلے عام اور اعلانیہ کردار ہے ان سے استفسار میں کوئی مشکل نہیں ہونی چاہئے۔ غربت کے خاتمے کیلئے احساس پروگرام کو کتنی کامیابی سے چلایا جاتا ہے اور اس کیلئے ایسی کیا منصوبہ بندی کی گئی ہے اور وسائل کا ایسا کیا نظام وضع کیا گیا کہ اس پروگرام کو غیرسیاسی طور پر شفاف انداز میں چلایا جاسکے تو زیادہ بہتر ہو۔ قوم غربت مکاؤ سمیت اس قسم کے دیگر پروگراموں کی ناکامی، اس میں سیاسی وابستگیوں کا لحاظ رکھنے اور حقدار کو حق ملنے کی کم سے کم شرح اور تعداد جیسے تجربات سے گزر چکی ہے۔ اس قسم کے معاملات سے اس پروگرام کو بچا کر حقیقی معنوں میں حقدار افراد کی دست گیری صاف اور شفاف انداز میں یقینی بنا کر ہی یہ بات کرنا ممکن ہوگا کہ موجودہ حکومت کا پروگرام پہلی حکومتوں کے پروگرامات سے مختلف اور شفاف ہے۔

گمشدگان بارے یقین دہانی

ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور کا یہ استدلال بجا ہے کہ ہر لاپتہ شخص کی گمشدگی کو ریاست سے نہیں جوڑا جاسکتا، کئی لاپتہ افراد افغانستان میں یا کہیں اور کالعدم ٹی ٹی پی کا حصہ ہیں جبکہ کئی لاپتہ افراد ٹی ٹی پی کی طرف سے لڑتے ہوئے مارے گئے اور جو افراد ریاست کے پاس ہیں وہ قانونی عمل سے گزر رہے ہیں۔ لاپتہ افراد کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن سمیت حکومت اور سیکورٹی فورسز بھی کام کر رہی ہیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ دیگر اداروں سے ملکر لاپتہ افراد کے مسئلے کو منطقی نتیجے تک پہنچائیں، لاپتہ افراد کیلئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک خصوصی سیل بنایا ہے تاکہ ہر وہ اقدامات کئے جاسکیں جو پاک فوج اور سیکورٹی ایجنسی کی طرف سے کرنے کی ضرورت ہے، چاہتے ہیں لاپتہ افراد کے خاندانوں کی مشکلات کو کم کریں اور ان کو وہاں لیکر جائیں جہاں ان کی زندگی دوبارہ شروع ہوسکے۔ گمشدہ افراد کے حوالے سے پاک فوج کے ترجمان نے جو نقطہ نظر پیش کیا ہے اس سے اتفاق کرتے ہوئے اس امر کی ضرورت پر زور دینا مناسب ہوگا کہ جو لوگ تحقیقات کے عمل سے گزر رہے ہیں، اگر ان کے نام بتا دئیے جائیں تو گمشدہ افراد کی فہرست میں کمی آئے گی اور ان کے اہل خاندان کو اس امر کا اطمینان ہوگا کہ ان کا پیارا اور عزیز گم شدہ اور غائب نہیں ہوا بلکہ تحقیقات کے عمل سے قانون کے مطابق گزر رہا ہے۔ اس کیساتھ ساتھ تحقیقات کے وقت کا تعین ہو اور یہ عمل جلد سے جلد مکمل کرنے پر توجہ دی جائے تو جہاں یہ غلط فہمیاں پھیلانے والوں اور پراپیگنڈہ کرنے والوں کیلئے مسکت جواب ہوگا وہاں ان کے خاندانوں کے امید کی شمع بجھنے نہیں پائے گی۔ وہ احتجاج مطالبات پر مجبور نہیں ہوں گے اور نہ ہی وہ شرپسند عناصر کے منفی پروپیگنڈے میں آئیں گے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ پاک فوج کے سربراہ کی ہدایت پر اس ضمن میں جو سیل کام کر رہا ہے اس کے کام میں تیزی لائی جائے گی۔ اس امر کی بھی توقع ہے کہ جس طرح بلوچستان کے گمشدگان لوٹ رہے ہیں اسی طرح ملک بھر کے دیگر گمشدگان کی بھی واپسی ہوگی یا کم ازکم ان کے حوالے سے مطلع ضرور کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں