Daily Mashriq

معاشی خوشحالی کی نوید

معاشی خوشحالی کی نوید

پاکستان کے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں پاکستان کے ایک معروف تجزیہ نگار اور صحافی نے کہا کہ امریکہ میں پاکستانی کاروباری شخصیات نے ایک کنسورشیم بنایا ہے اور وہ اپنی سرمایہ کاری بنگلہ دیش، سری لنکا، ویت نام، تھائی لینڈ اور بھارت سے نکال کر پاکستان میں لارہے ہیں۔ یہ صحافی چونکہ پی ٹی آئی کے فیصل واؤڈا سے تعلق نہیں رکھتے اسلئے کسی حد تک بھروسہ کر لیتے ہیں حالانکہ سرمایہ کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ سرمایہ کاری سرمایہ دار وہاں ہی کرتا ہے جہاں اس کو اپنا سرمایہ محفوظ اور سرمایہ کاری کی سہولتوں کے ٹھوس استحکام کا یقین ہو۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کرسی اقتدار سنبھالتے ہی صنعتوں کو سرکاری تحویل میں لینے کا کام شروع کر دیا تھا جس سے سرمایہ کاروں کا یقین ایسا متزلزل ہوا کہ آج تک اعتماد بحال نہیں ہوسکا، جنرل ضیاء الحق نے سرمایہ کاری کے تحفظ کی آئینی ضمانت کا بھی یقین دلایا مگر پھر بھی پاکستان میں کارخانہ داری کو فروغ نہ مل سکا تب سے پاکستان کی صنعتکاری بیٹھی ہوئی ہے۔ موصوف صحافی نے بتایا ہے کہ جنوری 2020ء سے قبل 50بلین ڈالرز تک ملک میں واپس آجائینگے انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے دوران ہی کچھ معاہدوں پر دستخط ہو جائیں۔ ان کے ترجمان ایک پاکستانی شخص ہیں جن کا نام محمد عامر رفیع ہے اور وہ لاہور سے تعلق رکھتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ فوڈ آئٹمز، ٹیکسٹائل سمیت کئی شعبے ہیں جن میں سرمایہ کاری کی جائے گی۔ اللہ کرے ایسا ہو کیونکہ جب سے پی ٹی آئی کے سبزقدم اقتدار میں آئے ہیں تب سے معیشت بیٹھی چلی جا رہی ہے۔ یہ ہی دیکھنے میں آرہا ہے کیونکہ عمر ان خان نے جو دعوے کئے تھے ان کا سارا عمل اس کے برعکس ہی نظر آیا جس سے اعتماد کو اس قدر ٹھیس پہنچا ہے کہ صنعتکار جو کئی برسوں سے پیچھے پیچھے تھے اب تاجر برادری نے بھی پیٹھ دکھا دی ہے جس کی وجہ سے پاکستان مزید معاشی بحران کا شکار ہوا ہے۔ دیکھنے میں یہ ہی آرہا ہے کہ تاجر برادری بھی بوریا بستر لپیٹ کر بیرون ملک سرمایہ کاری کی طرف راغب ہورہی ہے تاہم اب سینئر صحافی کے دعوے کے مطابق پاکستانی سرمایہ کاروں نے اپنی سرمایہ کاری پاکستان واپس لانے کا اعلان کر دیا ہے جو صرف اور صرف موجودہ حکومت پر اعتماد کا نتیجہ ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ دعویٰ حقیقتاً سچ ثابت ہو گیا تو اس سے ملکی معیشت کو کافی حد تک فائدہ پہنچے گا۔ لیکن صحافی کی اطلاع کے علاوہ اور کہیں سے سرمایہ پاکستان لانے کی نوید نہیں آئی۔ یہ تو اہم خبر ہے کیسے پنہاں رہ سکتی ہے۔ اگر ایسا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ سرمایہ کاروںکا اعتماد بحال ہوا ہے مگر کسی وزارت نے آج تک صحیح اعداد وشمار جاری نہیں کئے بلکہ پیش کردہ اعداد وشمار کے ذریعے اپنے سیاسی کھیل کھیلے ہیں۔ بہرحال ایک اچھی خبر یوں بھی دی گئی ہے کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ کی میڈیا ٹیم کے ممبر ڈاکٹر شاہد صدیق خان نے کہا ہے کہ معیشت کیلئے حکومت کو مشکل فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں، ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے ایک لاکھ سینتیس ہزار افراد کا رجسٹر ہونا اور ستر ارب روپے کا ٹیکس ملنا حکومت کی بڑی کامیابی ہے، پی ٹی آئی حکومت کی کاوشوں سے تین ہزار ارب روپے کے اثاثے ظاہر ہوئے ہیں جس سے ایک لاکھ فائلر سسٹم میں شامل ہوگئے ہیں، اگر اس بات پر بھی بھروسہ کر لیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی قوم دنیا کی مالدار ترین قوم ہے جس کے ایسے ڈھیروں سارے اثاثے ہیں پھر کیوں پاکستان کی معاشی حالت ابتر بتائی جاتی ہے، جہاں تک پی ٹی آئی کا تعلق ہے ایک سال اقتدار کو ہونے کو ہے اس عرصے میں ایک ہی سب سے بڑا پراجیکٹ ہی عوام کے سامنے آیا ہے کہ ڈالر جمع کرو اور اب تک پی ٹی آئی کی حکومت نے چین، سعودی عرب، امارات، قطر وغیرہ وغیرہ سے اربوں ڈالر کھینچ لئے ہیں اور اب تو آئی ایم ایف نے بھی منظوری دیدی ہے جبکہ ایک لاکھ فائلر کا اضافہ بھی کر کے ستر ارب روپے کی آمدنی بصورت ٹیکس حاصل کر لی ہے پھر بھی عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں اس کی کیا وجہ ہے ہر روز سونے کی قیمت پر افتاد پڑتی ہے، آئے دن ڈالر کی اڑان بلند تر ہوتی جارہی ہے۔ دعوے کرنے میں تو پی ٹی آئی کم نہیں ہے، مثلاً گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے ایک انتہائی خوشگوار خبر یہ دی کہ بجلی کی مد میں ریکوری پچھتر فیصد بڑھ گئی ہے جو بجلی چوری کیخلاف پی ٹی آئی کی حکومت کا کامیاب نتیجہ ہے۔ ظاہر ہے کہ بجلی کی چوری جو برسوں سے ایک مسئلہ ہے اگر اس میں پچھتر فیصد سگھاڑ پیدا ہوگیا ہے تو اس سے زیادہ کیا خوشخبری ہو سکتی ہے مگر حقائق نے ایک دم شش وپنج میں مبتلا کر دیا کیونکہ ریکوری میں اضافہ سے پہلے بجلی ایک سو پانچ فیصد مہنگی ہوئی ہے چنانچہ ریکوری میں تو اضافہ ایک سو پانچ فیصد سے کہیں زیادہ ہونا چاہئے، اگر ان اعداد وشمار کا جائزہ لیا جائے تو وہ یہ بولتے ہیں کہ ریکوری میں تینتیس فیصد کمی ہوئی ہے۔ یہ وہ معاملہ ہوا کہ ایک صاحب ایک کلو بکرے کا گوشت لائے، اپنے باورچی کو پکانے کیلئے دیا، باورچی کا بکرے کے گوشت پر دل للچا گیا چنانچہ خاموشی سے ہڑپ کر گیا جب مالک آیا اور اس نے کھانے کیلئے گوشت مانگا تو باورچی گویا ہوا کہ وہ تو بلی کھا گئی، صاحب فوراً اُٹھے اور انہوں نے بلی کو پکڑ کر وزن کیا، بلی کا وزن ایک کلو نکلا تو اس نے پوچھا کہ بلی ایک کلو وزن کی ہے تو پھر وہ ایک کلو گوشت کہاں گیا اور اگر یہ ایک کلو وزن گوشت کا ہے تو بلی کا وزن کیا ہوا، اسی طرح ریکوری کی بات سمجھ نہ آنے والی ہے، اگر بجلی چوری پر قابو پاکر پچھہتر فیصد آمدنی میں اضافہ ہوا ہے تو ایک سو پانچ فیصد بجلی کی گرانی کی آمدنی کیا ہوئی اور اگر بجلی کی نئی قیمت کی وجہ سے آمدنی بڑھی ہے تو ایک سو پانچ میں صرف ستر فیصد کا اضافہ کیوں ہوا ہے تینتیس فیصد بقایا کا کیا ہوا۔ ایک عظیم یوتھئے ہیں جن کے جہاز کے کرتبوں کی بدولت پی ٹی آئی کو اقتدار ملا، وہ بھی دعویدار ہیں کہ چینی کی قیمت میں جو ٹیکس لاگو کیا گیا ہے وہ پیسہ ان کو نہیں ملے گا ۔ (باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں