Daily Mashriq

تبادلہ''ٔ تحائف'' کا عالمی موسم

تبادلہ''ٔ تحائف'' کا عالمی موسم

عالمی سیاست کی بساط پر محض چالیں چلی جا رہی ہیں یا واقعی خوش خبریوں کا موسم آکر ٹھہرنے کو ہے کچھ نہ کچھ نیا اور مختلف بہرطور ہورہا ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں خوشگوار ہوائیں چلنے کے آثار ہویدا ہیں۔ رواں ماہ عمران خان ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر امریکہ جارہے ہیں اور یہ کم وبیش چار دن پر محیط دورہ ہوگا جس میں امریکی عمران خان کو اور عمران خان امریکیوں کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ اس دورے سے پہلے امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے بلوچستان میں سرگرم عمل علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرگنائزیشن کو دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ بی ایل اے کے نام سے قائم یہ تنظیم دوعشروں سے ریاست کیخلاف منظم مسلح کارروائیوں میں مصروف تھی اور تنظیم کی قیادت بالاچ مری کی ہلاکت کے بعد حیربیار مری اور براہمداغ بگٹی جیسے مشہور بلوچ افراد کے ہاتھوں میں تھی۔ یہی تنظیم نواب اکبر بگٹی کو بھی اپنے ڈیرے سے کوہلو کی غاروں تک کھینچ لے گئی اور وہیں ایک خونیں تصادم میں ان کی موت واقع ہوگئی جس کے بعد تنظیم کو اپنی کارروائیوں کو بڑھانے اور بلوچ عوام میں سرایت کرنے کا ایک موقع ہاتھ آگیا۔ امریکہ اور نیٹو کے زیراثر افغانستان کو یہ تنظیم اپنے بیس کیمپ کے طور پر استعمال کرتی رہی اور کابل کے صدارتی محل کے قریب ہی براہمداغ بگٹی اور حیربیار مری کی رہائش گاہوں کا ہونا پس پردہ کھیل کا پتا دیتا تھا۔ پاکستان نے افغان حکومت اور امریکہ پر دباؤ بڑھایا تو دونوں شدت پسند لیڈر یورپ سدھار گئے اور براہمداغ بگٹی اور حیربیار مری یورپ میں بیٹھ کر پاکستان توڑنے کے اعلانات کرتے رہے۔ اس سے ان کے بااثر اور بارسوخ ہونے کا پختہ یقین ہوگیا۔ یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ بلوچ علیحدگی پسندوں کو چین اور پاکستان کی مخالفت میں امریکہ، بھارت اور افغان حکومت بلکہ کئی خلیجی اور یورپی ملکوں کی حمایت حاصل ہے۔ افغانستان سے یورپ تک اُڑانیں بھرنا، جنیوا اور نیویارک کے عالمی ایوانوں میں چہل قدمی کرنا اس بات کا ایک اور ثبوت تھا۔ امریکہ بلوچستان میں گوادر کی بندرگاہ اور وہاں چین کے عمل دخل سے قطعی ناخوش تھا اور اس نے اپنی ناپسندیدگی کو کبھی چھپانے کی کوشش نہیں کی۔ بھارت کا دکھ بھی اس کرب میں شامل ہوگیا اور علاقے کے کچھ دوسرے ممالک کے غموں نے نشے کو دوآتشہ کر دیا تھا۔ بلوچستان کے مسلح علیحدگی پسند پاکستان پر اچھے اور برے طالبان کی تفریق روا رکھنے کا الزام لگانے والوں کے اچھے ''طالبان '' تھے جو بندوق افغان طالبان یا کشمیری حریت پسندوں کے پاس شدت پسندی اور دہشتگردی کی علامت تھی وہی بندوق بلوچ علیحدگی پسندوں کے ہاتھ میں قبول اور گوار تھی اور یہ امریکہ اور مغرب کا گہرا تضاد تھا۔ پاکستان پر ہمسایہ ملکوں میں سٹریٹجک ڈیپتھ تلاش کرنے کا الزام لگانے والے خود پاکستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کی حمایت کرکے سٹریٹجک ڈیپتھ تلاش کررہے تھے۔ پاکستان نے دنیا بھر میں بلوچستان میں سی آئی اے، را اور این ڈی ایس سمیت کئی خفیہ اداروں کی مداخلت کے ثبوت ڈوزئیر کی صورت تقسیم کئے اور کلبھوشن یادیو کی صورت میں زندہ ثبوت پکڑ کر دنیا کے سامنے پیش کیا مگر کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہوا۔ اب امریکہ کو افغانستان میں پاکستان کی ضرورت درپیش ہے۔ امریکہ اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ افغانستان سے اس کا دامن پاکستان کی مدد اور تعاون کے بغیر چھڑایا جانا ممکن نہیں۔ پاکستان نے ''یہ آرزو تھی تجھے گل کے رُوبرو کرتے'' کے انداز میں امریکہ کی مشکل کو آسان بنانے کیلئے طالبان کو امریکیوں کے سامنے لابٹھایا ہے۔ عین اس دوران عمران خان کا دورہ امریکہ بھی آن پڑا ہے تو امریکہ نے بلوچستان میں علیحدگی پسندی کی سب سے بڑی علامت بی ایل اے کو وقت اور حالات کے دھارے کے رحم وکرم پر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس سے پہلے چین مسعوداظہر کے معاملے پر سلامتی کونسل میں اپنا ویٹو ختم کر چکا تھا۔ یہ امریکہ اور بھارت کیلئے ایک خوشخبری اور تحفے سے کم نہیں تھا کہ عالمی ڈپلومیسی کے درخت سے اُلجھی ہوئی پتنگ آخرکار سلجھ کر نکل ہی آئی۔ اب بی ایل اے کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کیساتھ ہی پاکستان نے حافظ محمد سعید پر کئی نئے مقدمات قائم کرنا شروع کئے ان پر خیرات کے پیسوں کو مسلح سرگرمیوں کیلئے استعمال کرنے کا مقدمہ قائم کیا جا رہا ہے۔ حافظ سعید اور ان کے ساتھی نظر بند کر دئیے گئے ہیں۔ بی ایل اے کو دہشتگرد تنظیم قرار دینا اگر عمران خان کے دورہ امریکہ سے پہلے پیش کیا جانے والا تحفہ ہے تو حافظ سعید پر قید وبند اور مقدمات کا نیا سلسلہ جوابی تحفے سے کم نہیں۔ عین ممکن ہے عالمی عدالت انصاف کلبھوشن یادیو کے مقدمے میں فیصلہ اس کے حق میں سنا دے تو یہ بھارت کیلئے ایک خوشخبری اور تحفہ ہوگا۔ ریاستوں کی ضرورتیں وقت اور حالات کیساتھ بدلتی رہتی ہیں مگر بی ایل اے کو دہشتگرد قرار دینے کا مطلب ہرگز نہیں کہ امریکہ پاکستان اور اس خطے میں اپنے حصے کی سٹریٹجک ڈیپتھ تلاش کرنے سے باز آگیا ہے اور وہ افغانستان میں سٹریٹجک ڈیپتھ تلاش کرنے سے بھارت کو روکنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ بی ایل اے پر پابندی کا مطلب یہ ہونا چاہئے کہ امریکہ نے سی پیک کو تسلیم کر لیا ہے۔ پاکستان اور چین کے تعلقات کی نوعیت کو قبول کرلیا ہے۔ بھارت کی طرف سے پاکستان کے گھیراؤ کی سوچ اور حکمت عملی سے اعلان برات کیا ہے۔ سردست ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا اس لئے پاکستان کو امریکہ کے وقتی فیصلے پر خوش ہونے کی بجائے آنے والے دنوں اور حالات پر نظر رکھنی چاہئے۔ (باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں