Daily Mashriq

سیاسی کونجیں اُڑان بھرنے کو ہیں

سیاسی کونجیں اُڑان بھرنے کو ہیں

اُس شاخ پہ جا بیٹھے گا اِس شاخ سے اُڑ کر

چالاک پرندہ ابھی پر تول رہا ہے

ہمدم دیرینہ عزیز اعجاز نے تو یہ شعر نہ جانے کس موڈ میں کہا تھا کہ وہ تو موسموں کی باتیں بھی کرتے کرتے انسانوں کے اندر کے موسم کی نشاندہی بھی کرچکا ہے۔ وہی جو انگریزی کے ایک نابغہ شاعر کو لرج نے جس کی نشاندہی کرتے ہوئے ایک اور بہت بڑے شاعر ورڈز ورتھ کے نظرئیے کے علی الرغم خیالات کو ایک نئے فلسفے کی شکل دیدی تھی یعنی یہی کہ انسان موسم کا تابع نہیں ہے بلکہ موسم تو انسان کے اندر بستے ہیں' بس وقت وقت کی بات ہے کہ وہ ان سے کس طرح متاثر ہوتا ہے۔ خیر جانے دیں یہ ایک اور ادبی بحث ہے جو آئندہ کسی وقت پر اٹھا رکھتے ہیں، البتہ موسموں اور پرندوں کا جو تعلق ہے آج اسی حوالے سے بات کرتے ہیں اور جس طرح پرندے موسموں سے متاثر ہو کر کوچ پر مجبور ہوتے ہیں ان کی اس ادائے دلبرانہ (یامجبوری) سے ہمارے سیاسی موسموں کی نشاندہی بھی ہوتی ہے۔ اگرچہ پرندے تو سائبیریا کے میدانوں سے طویل فاصلے یعنی ہزارہا میل کی مسافت اسلئے طے کرتے ہیں کہ موسمی شدائد سے انہیں جان کے لالے پڑ جاتے ہیں اور وہ اپنی بقاء کیلئے برفیلی ہوائوں اور فضائوں سے کوچ کرکے ہماری سر زمین کے نسبتاً کم مشکلات والے علاقوں میں پناہ ڈھونڈنے آجاتے ہیں جہاں انہیں دانا دنکا اور پانی وافر مقدار میں دستیاب ہوتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان پرندوں کو زندگی کی ضمانت کم کم ہی یہاں بھی ملتی ہے کہ شکاری ان کی تاک میں رہتے ہیں۔ نہ صرف مقامی بلکہ صحرا نشین شہزادوں کی کھیپ کی کھیپ جنگل میں منگل منانے اپنے لگژری خیموں کیساتھ ساتھ جدید ہتھیاروں سے لیس ان پرندوں پر حملہ آور ہو جاتی ہے پھر اس جنگل کے منگل میں چیخیں ابھرتی ہیں' خیموں کے اندر سے انسانی اور فضا میں اُڑ کر گرتے ہوئے پرندوں کی چیخیں اور جب سیزن کا اختتام ہوتا ہے تو مسافر کوچ کرتے ہوئے یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ جب وہ سائبیریا کے برفانی میدانوں سے چلے تھے تو تب کتنی تعداد میں تھے اور جب ان کی واپسی ہو رہی ہے تب ان کی تعداد کتنی رہ گئی ہے اور جو ان سے بچھڑ گئے ہیں وہ پرندے کہاں گئے؟ وہ تو انسانی شکم سیری کی بھینٹ چڑھ چکے مگر جانے والے پرندوں کو تو اپنی واپسی کی فکر ہوتی ہے' کون ساتھ ہے ' کون بچھڑ گیا اس کا حساب لگانے کی فرصت کسے ہوتی ہے۔ واپس کوچ کرنے والے پرندوں کو تو اس شجر سے بھی کچھ لینا دینا نہیں ہوتا جس پر وہ اب تک بسرام کئے ہوئے تھے اور ان کے جانے کے بعد درخت سونا سونا سا رہ جاتا ہے

جب پرندے نہ لوٹ کر آئیں

کیسے کاٹے گا شب شجر تنہا

بات طویل ہوگئی حالانکہ صرف اور صرف سیاسی پرندوں کے کوچ کی جانب توجہ دلانی تھی اور اس صورتحال کا سائبیریا کے پرندوں کے کوچ کے حوالے سے جائزہ لینا تھا یعنی یہ جو ہمارے ہاں ہر دو چار پانچ سال کے بعد سیاسی پرندوں کا سفر شروع ہوجاتا ہے تو دراصل ان سیاسی پرندوں نے کوچ کا یہ انداز انہی پرندوں سے سیکھا ہے جو موسموں کی شدائد یعنی انگریزی کے لفظ (Inclement weather) نا مہربان موسم کے ہاتھوں مجبور ہو کر کوچ پر مجبور ہوتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ سیاسی پرندوں کیلئے حالات کے جبر نے ایک بار پھر موسم کو نامہربان بنا دیا ہے اسلئے اب کئی ایک سیاسی کونجیں ایک شاخ سے دوسری شاخ پر منڈلانے کو بے تاب ہو رہی ہیں یا پھر انہیں مرغابیوں کے شکار کیلئے جس طرح دام بچھائے جاتے ہیں اور مصنوعی مرغابیاں جھیل میں ڈال کر شکاری ایک خاص سیٹی سے مرغابیوں کی آوازیں نکال کر ان کے دام میں پھنس جانے والی مرغابیوں کا شکار کرلیتے ہیں۔ صورتحال کچھ اسی نوع کی نظر آرہی ہے' دم بہ دم ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے' فارورڈ بلاکس بننے یا بنانے کی ترغیبات دی جا رہی ہیں۔ مقابل بھی کم چالاک نہیں جوابی وار کیلئے سینیٹ کے میدان کو چن لیاگیا ہے مگر بعض اہم ''کونجوں'' کو جس طرح پنجروں میں بند کرنے کیلئے الزامات کی بھرمار ہے اور تڑیوں کا جواب بڑھکوں سے دیا جا رہا ہے اس نے صورتحال کو خاصا پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ادھر سوشل میڈیا کا میدان ایک بار پھر تپ گیا ہے یا تپا دیاگیا ہے کہ مغلظات کیساتھ ساتھ دل کے پھپھولے بھی پھوڑے جا رہے ہیں۔ حیرت ہوتی ہے کہ جھوٹ اور الزامات کے اس طوفان سے اٹھنے والے بگولوں کے اندر سے حقائق کس طرح چھان لئے جائیں۔ ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ گوئبلز کی روح سرشار بھی ہو رہی ہوگی اور حد درجہ شرمندہ بھی۔ اس کی سرشاری کا کارن تو وہ حالات ہیں جو اس کے اصولی فلسفے پر چلنے والوں کی اب فوج ظفر موج نے اس کی ذمہ داری اپنے کاندھوں پر اٹھالی ہے اور ایسے ایسے جھوٹ' الزام' بہتان تراشے جا رہے ہیں کہ گوئبلز قبر کے اندر اپنے شیطانی رقص میں والہانہ پن پیدا کرچکا ہوگا اور شرمندہ اسلئے کہ بے چارہ سوچ رہا ہوگا کہ اس نے تو صرف جھوٹ کے راستے پر چلنے کی تلقین کی تھی جبکہ آج اس کے پیروکاروں نے جھوٹ کے معیار قائم کرنے میں جو سنگ میل طے کرلئے ہیں بلکہ یہ سفر ابھی جاری ہے۔ وہ سوچ رہا ہوگا کہ اسکے ذہن میں ان معیارات کے حوالے سے کوئی سوچ تک کیوں نہ ابھر سکی؟

عجیب رسم ہے چارہ گروں کی محفل میں

لگا کے زخم نمک سے مساج کرتے ہیں

سو دیکھتے ہیں کہانی کدھر کو جاتی ہے' یہ نیا سفر سیاسی کونجوں کو بالاآخر کس شاخ پر رین بسیرا کرنے پر مجبور کرتا ہے اور اس صورتحال کے پیچھے کیا عوامل پوشیدہ ہیں؟

کیا حسن اتفاق ہے تیری گلی میں ہم

اک کام سے گئے تھے کہ ہر کام سے گئے

متعلقہ خبریں