Daily Mashriq

بھارت امریکہ اتحادکا نشانہ

بھارت امریکہ اتحادکا نشانہ

امریکہ اور ہندوستان کے درمیان تجارتی وعسکری تعاون برسوں پرانا ہے۔ واشنگٹن اور دہلی کی حالیہ قربت کا آغاز اوبامہ دور میں ہوا جب سابق امریکی صدر نے ہندوستان کو مرکزی دفاعی شراکت داری کا درجہ دیا۔ اس اعلان کے بعد واشنگٹن نے نئی دہلی کیساتھ سول نیوکلیائی معاہدہ کیا۔ اس بندوبست کے تحت ہندوستان اور امریکہ مل کر جوہری ایندھن کیلئے نئی منڈیاں تلاش کررہے ہیں۔ بھارت امریکہ تعلقات کی بنیادی وجہ بحرالکاہل میں چین کا بڑھتا ہوا عسکری اثر ورسوخ ہے، جس سے امریکہ اور اس کے ایشیائی اتحادیوں کیساتھ ہندوستان بھی خوفزدہ ہے۔ دوسری طرف ایک ارب سے زیادہ صارفین پر مشتمل منڈی پر دنیا بھر کے زرداروں کی رال ٹپک رہی ہے۔ کرپشن وبدعنوانی، مذہبی کشیدگی، مختلف علاقوں میں علیحدگی کی تحریکوں اور بدامنی کے باوجود سیاسی استحکام اور تعلیم یافتہ افرادی قوت کی بنا پر ہندوستان سرمایہ کاروں کیلئے ایک پرکشش ملک ہے۔امریکی صدر ٹرمپ خود کو مودی کا نظریاتی حلیف سمجھتے ہیں اور ان کے حکومت میں آنے کے بعد سے دونوں ممالک کا باہمی تعاون نئی بلندیوں پر نظر آرہا ہے۔ اگست2017ء میں صدر ٹرمپ نے افغانستان میں اپنی حکمت عملی کو جنوبی ایشیا پالیسی کا حصہ قرار دیا، جس کے تحت بھارت کو افغانستان میں امریکہ کے سیاسی وعسکری اتحادی کا مقام حاصل ہوگیا ہے۔ گزشتہ سال سیاسی، اقتصادی اور عسکری تعلقات کو مربوط بنانے کیلئے Dialogue22 کے عنوان سے دونوں ملکوں کی وزارتِ خارجہ اور وزارتِ دفاع کی مشترکہ بین الوزارتی کمیٹی بنائی گئی، جس کا ہر تین ماہ بعد اجلاس ہوتا ہے۔ ان اجلاسوں میں دوسرے معاملات کیساتھ دہشتگردی کے حوالے سے ہندوستان کو لاحق خطرات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ان مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت ہر تین ماہ بعد پاکستان کیخلاف الزامات کی نئی فہرست امریکہ کے حوالے کر دیتا ہے۔ بحرالکاہل وبحرہند کی چار ہم خیال جمہوریتوں کو بھی امریکہ نے ہندوستان کی پشت پر لاکھڑا کیا ہے جن میں جاپان اورآسٹریلیا بھی شامل ہیں۔ تجارتی واقتصادی حجم کی بنا پر ہندوستان امریکہ کو مطلوبہ مدد فراہم کرنے کی نہ صرف صلاحیت رکھتا ہے بلکہ چین اور پاکستان سے مقابلے کیلئے وہ امریکہ سے اتحاد کیلئے پرجوش بھی ہے، یعنی 'اس طرف ہے گرم خوں اور ان کو عاشق کی تلاش' والا معاملہ ہے۔ اس سے پہلے ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کو امریکی بائیکاٹ سے استثنیٰ دیکر واشنگٹن ہندوستان پر اپنی خصوصی عنایات کا اظہار کر چکا ہے۔ یہ بندرگاہ ہندوستانی مصنوعات افغانستان اور وہاں سے وسط ایشیا پہنچانے کیلئے استعمال ہورہی ہے۔ مسلم دشمن بیانئے کے نظریاتی سیمنٹ نے دہلی واشنگٹن اقتصادی وعسکری اتحاد کو مزید پختہ کردیا ہے۔

چین امریکہ تجارتی جنگ میں شدت آنے کے بعد سے دہلی اور واشنگٹن کے تعلقات میں مزید گرم جوشی نظر آرہی ہے۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ امریکہ بھارت کو اس کی مخصوص سیاست اور اس کے منفرد اسٹریٹجک چیلنجز کیساتھ ایک خودمختار اور اہم ملک کے طور پر عزت دیتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ بھارت کیلئے پاکستان اور چین کیساتھ ڈیل کرنا ایک انتہائی مشکل کام ہے۔ انہوں نے زور دیکر کہا کہ دہلی اور واشنگٹن کو اس تناظر میں بہت سوچ سمجھ کر تشکیل دیئے جانے والے اسٹریٹجک فریم ورک کے مطابق کام کرنا ہوگا۔ اپنی تقریر میں امریکی وزیرخارجہ نے ''اسٹریٹجک فریم ورک'' کی تفصیل نہیں بتائی۔ مائیک پومپیو کی اس یقین دہانی پر ہال تالیوں سے گونج اُٹھا کہ امریکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل نشست کے حوالے سے بھارتی کوشش کی حمایت جاری رکھے گا۔ تجارت اور ٹیکنالوجی کی بات کرتے ہوئے مائیک پومپیو پاکستان پر تبرہ پڑھنے سے باز نہ رہ سکے اور کہا کہ خطے میں دہشتگردی کیلئے پاکستان کی حمایت ناقابلِ قبول ہے جس کیخلاف ٹرمپ انتظامیہ نے سخت اور دوٹوک مؤقف اپنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ انتخابات میں نریندر مودی کی زبردست کامیابی سے باہمی تعاون کے مزید بڑھنے کی قوی امید ہے، جس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے امریکی لہجے میں ہندی الفاظ دہرائے کہ ''مودی ہے تو ممکن ہے''۔جس وقت مائیک پومپیو امریکی وہندوستانی تاجروں کے اجلاس میں بھارت سے قریبی تعلقات کی نوید سنا رہے تھے، تقریباً عین اسی وقت امریکہ کی نائب وزیرخارجہ ایلس ویلز ایشیا پیسفک اور جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق کانگریس کی ذیلی کمیٹی کے روبرو امریکی حکومت کا سرکاری مؤقف پیش کررہی تھیں۔کمیٹی کے سامنے اپنے تحریری بیان میں ایلس ویلز نے یقین دلایا کہ آئی ایم ایف بنیادی تبدیلیاں کرائے بغیر پاکستان کو قرضہ نہیں دے گا۔ ان کے بیان میں یہ وضاحت موجود نہیں تھی کہ بنیادی تبدیلی سے ان کی کیا مراد ہے، تاہم تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ زرمبادلہ پر پابندیوں کا خاتمہ،FATFکی سفارشات پر ان کی روح کیساتھ مکمل وغیرمشروط عمل درآمد، انتہا پسندی کا خاتمہ اور کالعدم تنطیموں کیخلاف کارروائی شامل ہے۔

واشنگٹن میں امریکہ بھارت بزنس کونسل کے اجلاس اور اس کے بعد دہلی میں قریبی تجارتی وعسکری تعاون پر بات چیت کا سلسلہ جاپان میں ہونیوالےG20 سربراہی اجلاس کے دوران بھی جاری رہا، جہاں صدر ٹرمپ، وزیراعظم مودی اور ان کے جاپانی ہم منصب شنزو ایبے نے کانفرنس سے پہلے تفصیلی مذاکرات میں بحرہند، خلیج بنگال اور بحرالکاہل کی نگہبانی کیلئے مؤثر نظام کی تشکیل پر غور کیا۔ (باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں