Daily Mashriq

کیا اسلام آباد مغربی کیمپ کا حصہ بننے جارہا ہے؟

کیا اسلام آباد مغربی کیمپ کا حصہ بننے جارہا ہے؟

امریکا کی طرف سے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔ کئی مبصرین کے خیال میں اس فیصلے کے ذریعے واشنگٹن ایک بار پھر اسلام آباد کو مغربی کیمپ کی طرف لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکا کے زیراثر عالمی مالیاتی اداروں نے پاکستان پر نوازشات کی بارش کر دی ہے۔ آئی ایم ایف چھ بلین ڈالرز دینے کی تیاری کر رہا ہے جبکہ ورلڈ بینک اور ایشین ڈیویلپمنٹ بینک پاکستان کو قرضے دینے جارہے ہیں۔ برطانیہ سمیت کئی مغربی ممالک کی ترقیاتی ایجنسیاں بھی پاکستان کو کئی منصوبوں کیلئے امداد دینے کا عندیہ دے چکی ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق ایک برطانوی شہزادے اور شہزادی کی پاکستان میں جلد آمد متوقع ہے۔ اس کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کو دورے کی دعوت دی ہے اور اس دورے سے پہلے بی ایل اے کو کالعدم قرار دیکر پاکستان کی مضبوط اسٹیبلشمنٹ کو خوش بھی کر دیا ہے۔ ایسی دعوت کسی بھی سربراہ حکومت کو کافی عرصے بعد دی گئی ہے۔ ان تمام اقدامات سے پاکستان کے کئی حلقوں میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کہیں پاکستان ایک بار پھر مغربی کیمپ کا حصہ تو نہیں بن رہا ہے۔ پاکستان کے کئی حلقوں کا تو یہ دعویٰ ہے کہ پاکستان اس کیمپ کا حصہ بننے نہیں جا رہا بلکہ حصہ بن چکا ہے۔ معروف سیاستدان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر تاج حیدر نے اسے بڑی حماقت قرار دیا ہے، ''ہم اس کیمپ میں پہلے ہی داخل ہو چکے ہیں۔ یمن میں ہمارے سپہ سالار اڑتیس ممالک کی فوجوں کی سربراہی کر رہے ہیں جبکہ ہم نے یہ تجویز دی تھی کہ وہاں جنگ بندی کی جائے اور مسئلہ کا حل بات چیت کے ذریعے نکالا جائے۔ اس جنگ میں ایک طرف امریکا، سعودی عرب اور ان کے اتحادی اور دوسری طرف یمنی لوگ۔ تو یہ واضح ہے کہ ہم اس کیمپ کا حصہ بن چکے ہیں۔'' ان کا کہنا تھا کہ امریکی امداد اور نوازشات بغیر مفادات کے نہیں ہیں، ''ہم سے کہا جائیگا کہ ہم چین سے دور ہو جائیں اور خطے میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے اسٹریٹجک مفادات کے بھی ساتھ رہیں۔ ہم نے ان کے کہنے پر ایران پاکستان پائپ لائن کا پروجیکٹ ترک کیا اور اب یمن میں بھی ان کیساتھ ہیں لیکن مغرب کیساتھ جانا دانشمندی نہیں ہے کیونکہ امریکہ ومغرب ایک ڈوبتہ ہوا جہاز ہے جبکہ چین اُبھرتی ہوئی طاقت ہے، جس کا اب فوجی بجٹ بھی دو سو بلین ڈالرز سے زیادہ ہے'' کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ہم جو امریکی کیمپ کی طرف جارہے ہیں، اس کی معاشی اور سیاسی دونوں طرح کی قیمتیں ادا کرنی پڑیں گی۔ معروف معیشت دان ڈاکٹر عذرا طلعت سعید کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان چین سے دور ہوتا جا رہا ہے، ''میں ابھی سکھر سے گزر رہی ہوں اور مجھے یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی ہے کہ جس رفتار سے سی پیک پروجیکٹس پر گزشتہ برسوں کام ہورہا تھا، اس کے مقابلے میں اب یہ حیرت انگیز طور پر سست ہے۔ اس کا سیدھا مطلب ہے کہ ہم چینی کیمپ سے نکل کر ایک بار پھر مغربی کیمپ میں جارہے ہیں۔ جی ایم او فصلوں کو اُگانے کا فیصلہ اس کیمپ میں جانے کی کئی نشانیوں میں سے ایک ہے۔''ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ پاکستان کو اسٹریٹجک معاملات میں بھی مغرب وامریکا کا ساتھ دینا پڑے گا، ''چین اور ایران کے تعلقات بہت خوشگوار ہیں۔ امریکا نے بھارت کو دھمکی دی ہے کہ وہ تہران کیساتھ تجارت نہ کرے۔ پاکستان کو بھی امداد دینے کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایران کیخلاف کوئی کارروائی ہوتی ہے تو ہم سے کہا جائے گا کہ ہم امریکا اور اس کے اتحادیوں کیساتھ کھڑے ہوں۔''ان کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ چین تیس بلین ڈالرز سے زیادہ پہلے ہی لگا چکا ہے۔ ایسی صورت میں وہ ہمارے ساتھ نرم رویہ تو نہیں رکھے گا اور اپنا قرضہ واپس لینے کیلئے کچھ بھی کرے گا جیسا کہ اس نے سری لنکا میں کیا۔پاکستان اور امریکا سرد جنگ کے دوران قریبی اتحادی رہے ہیں۔ اسلام آباد نے امریکا دوستی میں بہت بڑے رسک بھی لئے۔ یوٹو کے طیارے کا کیس اس رسک کی ایک مثال ہے۔ لیکن پاکستان میں کئی تجزیہ نگار یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ واشنگٹن قابلِ بھروسہ نہیں ہے۔ معروف دفاعی تجزیہ نگار میجر جنرل ریٹائرڈ اعجاز اعوان کے خیال میں امریکا اور پاکستان کے تعلقات میں شک اور بداعتمادی غالب رہی اور امریکا نے ہمیں دوستی کا صلا نہیں دیا۔ ''یوٹو کی وجہ سے ہم مشکل میں آئے۔ ''

ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں پاکستان چین کو چھوڑنے نہیں جارہا، ''لیکن اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو بہت بڑی غلطی ہوگی کیونکہ چین ریل اور روڈ کے ذریعے ہمیں وسطی ایشیا اور روس سے ملا رہا ہے۔ جس سے خطے میں پاکستان کی اہمیت اور بڑھ جائے گی۔ ہم جس طرح چین پر بھروسہ کرتے ہیں ویسا بھروسہ امریکا پر نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ہم چین کو چھوڑتے ہیں تو امریکا کچھ عرصے تک ہمیں ساتھ رکھے گا بعد میں ہم اس سے بھیک مانگ رہے ہوں گے۔''

متعلقہ خبریں