Daily Mashriq

حکومتی عدم دلچسپی کے باعث پنجاب میں شترمرغ فارمنگ شدید متاثر

حکومتی عدم دلچسپی کے باعث پنجاب میں شترمرغ فارمنگ شدید متاثر

لاہور: حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ سے پنجاب میں شترمرغ فارمنگ کا شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے، 35 فیصدسے زیادہ شترمرغ فارم بند ہوچکے ہیں جبکہ حکومت ابھی تک شترمرغ کی فارمنگ کے حوالے سے کوئی پالیسی بھی نہیں دے سکی ہے۔ 

گذشتہ حکومت نے شتر مرغ کی فارمنگ بڑھانے کے لیے ساڑھے چودہ ملین کی سبسڈی جاری کی تھی ، ایک شترمرغ پر10 ہزار روپے سبسڈی دی جارہی تھی اوریہ سبسڈی تین اقساط میں دی جاتی تھی ۔تاہم موجودہ حکومت نے شترمرغ فارمرزکودی جانیوالی سبسڈی بندکردی ہے۔240 فارمرزکوسابق حکومت کے دورمیں سبسڈی کے واجبات موجودہ حکومت نے ایک سال بعد ادا کئے ہیں جس کی وجہ سے شترمرغ فارمرز نے مایوس ہو کر یہ کام چھوڑ دیا ہے۔

شتر مرغ فارمنگ کے کاروبار سے وابستہ راجہ طاہر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں شتر مرغ فارمنگ کے حوالے سے اصل مسئلہ شتر مرغ کے گوشت کی مارکیٹنگ اور واضح سرکاری پالیسی نہ ہونا ہے۔ پنجاب میں 500 کے قریب شتر مرغ فارم تھے جن میں سے کافی فارم ہاؤس بند ہوچکے ہیں۔اس کاروبارسے جڑے لوگوں کو بہترمستقبل نظرنہیں آرہا ہے۔

حکومت ابھی تک کوئی شترمرغ کی ایکسپورٹ اور امپورٹ پالیسی نہیں دے سکی ہے۔ اس وقت ازبکستان سمیت مختلف ممالک سے تاجر شترمرغ لینے کے لئے تیارہیں لیکن ہماری کوئی ایکسپورٹ کوالٹی ہی واضح نہیں ہے۔ لاہور سمیت پنجاب میں شترمرغ کا گوشت جو 1500 روپے سے 1800 روپے تک میں فروخت ہوتارہا ہے اب ایک ہزار روپے میں بھی کوئی لینے کو تیارنہیں ہیں۔

شترمرغ فارمنگ سے جڑے ایک اورفارمررانامحمدمبشرنے بتایا کہ محکمہ لائیواسٹاک نے ان سے بالکل نظریں پھیرلی ہیں، ایک سال سے لائیواسٹاک کے کسی ایک ڈاکٹر نے کسی ایک فارم کا بھی وزٹ نہیں کیا حالانکہ شترمرغ بھی گائے ،بھینس اوربھیڑبکریوں کی طرح لائیوسٹاک میں شامل ہے۔

پاکستان کے مختلف علاقوں میں جو فارمرز یہ کاروبار کر رہے ہیں وہ جنوبی افریقا، بیلجیم اور آسڑیلیا سے پرندے منگواتے ہیں ایک ماہ کا پرندہ 15 ہزار سے 17 ہزار روپے میں فارم تک پہنچتا ہے بعض صورتوں میں اس سے کم قیمت پر بھی پرندہ دستیاب ہوجاتا ہے، جب ایک پرندہ تیار ہو جاتا ہے تو اس پر خوراک، ادویہ اور دیگر اخراجات ملا کر قریبا ً50 ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں۔

متعلقہ خبریں