Daily Mashriq

پاکستان پہلے راؤنڈ سے باہر، کوچ نے نیٹ رن ریٹ کے قانون پر ملبہ گرا دیا

پاکستان پہلے راؤنڈ سے باہر، کوچ نے نیٹ رن ریٹ کے قانون پر ملبہ گرا دیا

لاہور: پاکستانی ٹیم کے ورلڈکپ میں پہلے راؤنڈ سے باہر ہونے کا ملبہ کوچ مکی آرتھر نے نیٹ رن ریٹ کے قانون پر گرا دیا ۔

پاکستانی ٹیم ورلڈکپ میں اپنے ابتدائی 5 میں سے صرف ایک میچ میں کامیابی حاصل کر سکی،سری لنکا سے مقابلہ بارش کی نذر ہوا، 3 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، اس کے بعد گرین شرٹس نے مسلسل 4 میچزجیت لیے،آخری لیگ میچ میں بنگلہ دیش کو94 رنز سے شکست دے کر نیوزی لینڈ کے برابر11 پوائنٹس تو کر لیے لیکن نیٹ رن ریٹ کا فرق بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے سیمی فائنل میں جگہ نہ ملی۔

قبل ازیں کپتان سرفراز احمد نے کہا تھا کہ 500رنز بناکر رن ریٹ بہتر بنانے کی کوشش کریں گے لیکن میچ کے دوران ’’مشن امپاسبل‘‘ مکمل کرنے کیلیے کوئی جوش و جذبہ ہی نظر نہ آیا، پاکستان نے کسی تردد میں پڑنے کے بجائے ’’سادہ اور آسان ‘‘ فتح کو ترجیح دی۔

اس حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے کہاکہ ہم بنگلہ دیش کیخلاف بڑے ٹوٹل کا عزم لے کر ہی میدان میں اترے تھے لیکن پچ سست ہونے کی وجہ سے ایسا کرنے میں ناکام رہے، میچ کے دوران ہی اوپنر فخر زمان نے اس کاانکشاف کردیا تھا کہ قومی ٹیم بڑا اسکور نہیں کرسکتی اور سیمی فائنل میں پہنچنا ناممکن ہے۔

مکی آرتھر نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ جھوٹ ہوگا اگر میں کہوں کہ اس معاملے میں بات نہیں ہوئی، ہم نے ٹاس جیتا جو ہمارے لیے اچھا آغاز تھا، 400 کا ہندسہ عبور کرنے کیلیے پلان تیار کر لیا تھا لیکن جب فخر زمان آؤٹ ہوکر پویلین لوٹے تو انھوں نے بتایا کہ وکٹ سست اور یہاں اسکور کرنا بہت مشکل ہورہا ہے، بنگلہ دیش کیخلاف فتح کے بعد بھی ڈریسنگ روم میں ہر کوئی مایوس تھا، کسی نے جشن نہیں منایا کیونکہ ٹیم سیمی فائنل سے باہر ہوگئی تھی۔

مکی آرتھر نے اعتراف کیا کہ ورلڈکپ کے پہلے ہی میچ میں ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں بڑے مارجن سے شکست نے ٹیم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا،اس روز ایسا محسوس ہوا کہ کھلاڑیوں کے اعصاب شل ہوگئے ہیں، اس طرح کی شکست کے بعد نیٹ رن ریٹ بہتر کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے، بہرحال میں چاہوں گا کہ آئی سی سی اس حوالے سے قانون پر نظر ثانی کرے۔

مکی آرتھر نے اعتراف کیاکہ اگر مگر کی صورتحال پیدا ہونے کے بعد میگا ایونٹ میں پاکستان ٹیم کا اختتام بہت مایوس کن رہا، البتہ یہ بات خوش آئند ہے کہ گرین شرٹس نے سیمی فائنل میں جگہ بنانے والی ایونٹ کی4 بہترین ٹیموں میں سے 2 کو شکست دی،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بطور ٹیم ہم اپنے عروج سے زیادہ دور نہیں ہیں، پہلے 5 اور آخری 4 میچز میں ٹیم کی الگ الگ پرفارمنس دکھائی دیتی ہے،انگلینڈ کو ہرا کرہم ردھم میں واپس آگئے تھے، پھر بارش کی وجہ سے سری لنکا کا میچ منسوخ اور 9 روز کا وقفہ آیا، ہم کینگروز کیخلاف بھی کامیابی حاصل کرسکتے تھے لیکن موقع ضائع ہوگیا، ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کیخلاف میچز ہمارے لیے ڈراؤنے خواب تھے۔

انھوں نے کہا کہ بھارت سے بڑی شکست کے بعد ٹیم کے اعتماد کی بحالی میں کپتان سرفراز احمد نے اہم کردار ادا کیا، بابر اعظم، امام الحق، حارث سہیل اور شاہین شاہ آفریدی سمیت کھلاڑیوں نے عمدہ کارکردگی دکھائی، نوجوان کھلاڑیوں کی پرفارمنس میں اتار چڑھاؤ آئے گا لیکن یہی پاکستان کرکٹ کا مستقبل ہیں، منفی تنقید کے بجائے ان کو سراہنا چاہیے۔

متعلقہ خبریں