Daily Mashriq


لوڈشیڈنگ کا مستقل حل تلاش کرنے کی ضرورت

لوڈشیڈنگ کا مستقل حل تلاش کرنے کی ضرورت

وزیر اعظم جسٹس (ر)نا صر الملک نے ملک میں جاری بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ کا نوٹس لے لیا ہے اور وزارت پانی و بجلی کو ہدایت کی ہے کہ صارفین کو بجلی کی فراہمی یقینی بنا نے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیںپاور سیکٹر کے نقصانات کو کم کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ مجموعی طور پر سسٹم کی کار کردگی بہتر بنا ئی جا ئے اور پاور سیکٹر کو قابل عمل و پائیدار بنا یا جا ئے۔بدترین لوڈشیڈنگ روکی جائے ۔دریں اثناء پاکستان مسلم لیگ(ن)کے قائد سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ ہمارے جانے تک کوئی لوڈ شیڈنگ نہیں تھی، ہم سسٹم میں 10 ہزار میگا واٹ کا اضافہ کر کے آئے ،اب نگران حکومت لوڈ شیڈنگ کی ذمہ دارہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیم بہت ضروری ہیں، بھاشا ڈیم کی زمین خریداری کے لیے سو ارب روپے جاری کیے، ہم نے دیامر بھاشا ڈیم پرکام شروع کرایا۔خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ کے ستائے لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر مظاہرے کرنا شروع کردیا ہے۔ بعض علاقوں میں بجلی کی نسبتاً طویل لوڈشیڈنگ‘ ٹرپنگ کی شکایات ہیں جبکہ بعض علاقوں میں اب تک لوڈشیڈنگ تو نہیں تھی مگر اب وہاں بھی بجلی نے آنکھ مچولی شروع کردی ہے البتہ ایسے علاقے بھی ہیں جہاں لوڈشیڈنگ کا تصور بھی نہیں۔ رخصت شدہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا دعویٰ تھا کہ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کردیاگیا ہے۔ تاہم مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے از راہ تفنن کہا تھا کہ ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہونے والی متوقع لوڈشیڈتنگ کی ذمہ داری ان کی حکومت پر نہ ڈالی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ رخصت شدہ حکومت کے دور میں لوڈشیڈنگ کے مکمل خاتمے کا دعویٰ درست نہیں تھا البتہ بجلی کی صورتحال بہتر ضرور تھی بجلی کی لوڈشیڈنگ کی صورتحال کا اگر سابق پی پی پی دور اور مسلم لیگ(ن) کے دور کا موازنہ کیا جائے تو پی پی پی کے دور میں ملک کو بدترین لوڈشیڈنگ کا سامنا تھا جسے مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے آتے ہی آئی پی پیز کے گردشی قرضوں کی ادائیگی کرکے بہتر کیا اور بتدریج بہتری آتی گئی۔ اپنے دور حکومت میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت دس ہزار میگا واٹ کی پیداوار کا جو دعویٰ کر رہی ہے اس سے قطع نظر معروضی صورتحال سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں بجلی کی مصنوعی منصوبہ بندی کے تحت لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا گیا تھا جس کی حکومت کے ہٹتے یہ حقیقت کھل گئی اور اب چند ہی دنوں کے اندر بڑھتی لوڈشیڈنگ کے باعث عوام سڑکوں پر آنے پر مجبور دکھائی دے رہے ہیں۔ جاری صورتحال کا جائزہ لینے سے یہ بات بہر حال سامنے آتی ہے کہ رخصت شدہ حکومت نے بجلی کی پیداوار میں اضافے اور لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لئے بہتیرے اقدامات کئے پنجاب کی صوبائی حکومت نے بجلی کی پیداوار میں بھرپور حصہ ڈالا مگر ان پانچ سالوں میں ایسے ٹھوس اقدامات نہ کئے جاسکے جس کے نتیجے میں قوم کو لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے نجات مل جاتی۔ پانچ سال حکومت کرنے کے بعد اب مژدہ دیا جا رہا ہے کہ بھاشا ڈیم کے لئے زمین خرید لی گئی ہے ۔ یقینا سو ارب روپے کی لاگت سے یہ کام اپنی جگہ پیشرفت ضرور ہے لیکن ٹھوس پیشرفت اس وقت ہی کہا جاسکتا تھا جب بھاشا ڈیم پر کام کا آغاز کردیا جاتا۔ اس صورتحال میں عدالت عظمیٰ کا کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق اقدامات کا عندیہ اور بجلی کی صورتحال کا نوٹس لینے کا اقدام امید کی کرن ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بلا شبہ کالا باغ ڈیم پر تحفظات اور اعتراضات تو بہت ہیں لیکن تحفظات کے مقابلے میں اس ڈیم کی افادیت اور ملکی ضرورت کے پورا کرنے کے لئے اس کے ناگزیر ہونے میں اب شک باقی نہیں رہا۔ اس پر ہونے والے اعتراضات کو اگر سو فیصد دور کرنے کی سعی کی جاتی ہے تو سیاسی مفادات کے مارے عناصر کا کبھی بھی اس پر متفق ہونے کا امکان دکھائی نہیں دیتا۔ اس لئے اب عدالت ہی سے اس کی تعمیر بارے رہنمائی کا واحد راستہ رہ گیا ہے۔ ہمارے تئیں اس کی تعمیر اس لئے بھی ضروری ہے کہ اب پاکستان کے پاس مزید کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔ بھارت کی جانب سے پاکستان کے حصے کے دریائوں پر تنازعات بڑھ رہے ہیں اور پاکستان کے پاس کا لا باغ ڈیم اور بھاشا ڈیم کی تعمیر سمیت چھوٹے بڑے ڈیم کی تعمیر کے علاوہ کوئی چارہ کار باقی دکھائی نہیں دے رہا۔ اس کی ضرورت اس لئے بھی ہے کہ پانی کے ذخائر میں مسلسل کمی اور زیر زمین پانی کی سطح مسلسل نیچے جا رہی ہے۔ پشاور میں زیر زمین پانی کی سطح سالانہ دو سے تین فٹ نیچے جا رہی ہے ۔ کنویں اور ٹیوب ویل خشک ہونے لگے ہیں ایسے میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ بجلی کی پیداوار کے مقابلے میں بجلی کی طلب میں جس تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اس کا حل سوائے اسی رفتار کے ساتھ ڈیم تعمیر کرنے کے اور کچھ نہیں۔ وطن عزیز میں چھوٹے چھوٹے اور قلیل المدتی منصوبوں کے بے شمار مواقع موجود ہیں جن سے صرف فائدہ اٹھانے کی دیر ہے خاص طور پر خیبر پختونخوا میں پانی سے بجلی پیدا کرنے کے لا تعداد منصوبے ہیں تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے تین سو پچاس مقامات پراس قسم کے مواقع کی نشاندہی کی تھی اور ان منصوبوں پر کام شروع کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔ بعض منصوبے گزشتہ ادوار حکومت میں شروع کئے گئے مگر حیرت انگیز طور پر ان کی دوسرے دور حکومت میں بھی عدم تکمیل تشویش کاباعث امر ہے۔ وطن عزیز میں آبی بجلی کی پیداوار سستی ہونے کے باعث اس پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے تاکہ لوڈشیڈنگ اور بجلی کی بڑھتی طلب کا مقابلہ کیا جاسکے۔ جہاں تک لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہروں کا تعلق ہے ان کو تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق ہی گردانا جائے گا۔ یقینا یہ نگران حکومت کے لئے باعث مشکل اور امن و امان کی صورتحال میں خرابی پیدا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں لہٰذا ان کا نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔ جن علاقوں میں صارفین بل ادا کرنے سے کتراتے ہیں ان علاقوں میں لوڈشیڈنگ تو پالیسی ہوگی مگر جن علاقوں میں بلوں کی وصولی کی شرح تسلی بخش ہے ان علاقوں میں بجلی کی فراہمی متعلقہ پاور کمپنیز اور حکومت کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ خبریں