Daily Mashriq


چیف جسٹس کا سیاستدانوں کو صائب مشورہ

چیف جسٹس کا سیاستدانوں کو صائب مشورہ

کی اعلیٰ ترین عدالت نے سیاستدانوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے لیے سیکورٹی کا بندوبست خود کریں۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ اس بات کی قطعی اجازت نہیں دی جائے گی کہ سیاستدان اپنی انتخابی مہم ریاست کے اخراجات پر چلائیں۔اس موقع پر عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ حکومت نے گاڑیاں واپس لے لی ہیں۔تاہم عدالت نے وکیل کو بطور خاص ہدایت کی کہ جے یو آئی(ف)کے سربراہ کو اپنی حفاظت کا انتظام خود کرنا چاہیے، ساتھ ہی وکیل کو یہ بھی کہا کہ عدالت کو اس بات کی تفصیلات فراہم کی جانی چاہئیں کہ اب تک عوام کا کتنا پیسہ مولانا فضل الرحمن کی سیکورٹی پر خرچ کیا جاچکا ہے۔جے یو آئی (ف) کے سربراہ کی سیکورٹی پر خرچ ہونے والی رقم کی تفصیلات جاننا عدالت عظمیٰ کی اپنی صوابدید ہے لیکن اگر اسے وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو ٹیکس دہندگان کی بہت بھاری رقم سیاستدانوں اور اہم شخصیات کے تحفظ اور پروٹوکول پر خرچ ہوتی ہے۔ یہ عناصر پروٹوکول اور حفاظتی دستہ تو لینے کو اپنا استحقاق سمجھتے ہیں لیکن ٹیکس دینے میں چوں و چرا ان کا وتیرہ ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن سمیت نامی گرامی سیاستدان اور شخصیات اتنے وسائل رکھتے ہیں کہ وہ اپنے تحفظ کے لئے بلٹ پروف گاڑی اور حفاظتی دستہ رکھ سکیں مگر جب ان کو مفت میں یہ باآسانی میسر ہے اور شان و شوکت کا مظاہرہ سرکاری وسائل پر ممکن ہے تو پھر حجت کیوں کیا جائے۔ عدالت عظمیٰ کے سربراہ نے پشاور آمد پر تمام غیر ضروری سیکورٹی واپس لینے کی جو ہدایت کی تھی اس پر آئی جی خیبر پختونخوا نے ایک وائرلیس کال کے ذریعے عملدرآمد کراکے رپورٹ تو پیش کردی تھی مگر بعد ازاں رفتہ رفتہ صوبے کے وہ تین ہزار پولیس اہلکار ان عناصر ہی کی خدمت پر مامور کردئیے گئے جو پہلے تھے۔ اس تین ہزار نفری کی پولیس کو خدمات کے واپس حصول کے بعد شہر کی سیکورٹی میں جو بہتری آنی چاہئے تھی اس کا کہیں نظر نہ آنا از خود اس امر پر دال ہے کہ اس عملے کی خدمات سے شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری نہیں لی جا رہی ہے۔ اس کی اس لئے بھی ضرورت و اہمیت اب بڑھ گئی ہے کہ ایک جانب فوجی چیک پوسٹوں کا خاتمہ کردیاگیا ہے تو دوسری جانب سیاسی سرگرمیوں میں تیز ی آرہی ہے۔ لوڈشیڈنگ کے باعث امن و امان کا مسئلہ الگ سے سر اٹھا رہا ہے۔ ان حالات میں سیکورٹی کے موجودہ انتظامات پر از سر نو غور کرنے کی ضرورت ہے۔

مسافر گاڑیوں میں حفاظتی اقدامات کی کمی

پشاور سے ڈیرہ اسماعیل خان جانے والی مسافر وین کے حادثے میں مسافر وین میں آگ لگنا حادثے کی وجوہات میں شمار کیا جاسکتا ہے لیکن راولپنڈی سے شبقدر آنے والے ہائی ایس میں اچانک آگ لگنے کا واقعہ شدید گرمی کے ساتھ ساتھ عدم احتیاط کا بھی امکان ہے۔ بہرحال آتشزدگی کے دونوں ہی واقعات حادثات ہی ٹھہرتے ہیں لیکن ان حادثات کی روشنی میں اگر جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس قسم کے حادثات کی روک تھام اور آگ لگانے کی صورت میں فوری آگ بجھانے اور مسافروں کو گاڑی سے نکالنے کا نہ تو کوئی ہنگامی بندوبست ہوتا ہے اور نہ ہی اس پر توجہ دی جاتی ہے۔ ان مسافر گاڑیوں میں نشستیں اتنی تنگ لگائی گئی ہوتی ہیں کہ عام حالات میں گاڑی میں بیٹھنا اور اترنا دشوار ہوتا ہے کجا کہ ہنگامی حالات میں تیزی سے نیچے اترا جاسکے۔ علاوہ ازیں ہنگامی حالات میں گاڑی سے نکلنے کا کوئی دروازہ نہیں چونکہ ہائیڈرالک گیٹ ہنگامی حالات میں کنٹرول متاثر ہونے کے باعث کھل نہیں سکتے اس لئے مسافر اندر ہی اندر جھلس جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں بھی ماہرین جائزہ لیں تو کئی خامیاں ہوں گی جن کو دور کرکے مسافروں کی جان بچائی جاسکتی ہے۔ یہ فوری توجہ طلب مسئلہ ہے جس پر متعلقہ حکام کو غور کرنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں