Daily Mashriq


لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے دعوے

لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے دعوے

وزیر اعظم میاں نواز شریف نے منگل کے روز احتساب عدالت کے باہر ایک بار پھر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کے بار بار بند ہونے کی ذمہ داری نگرانوں (نگران حکومتوں) کی ہے۔ دلیل اُنہوں نے یہ دی ہے کہ 31مئی تک ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ نہیں تھی۔ جونہی 31 مئی کو ان کی پارٹی کی حکومت کی مدت ختم ہوئی ، اگلے ہی روز سے بجلی کی لوڈشیڈنگ شروع ہو گئی ۔ سوال یہ ہے کہ 31مئی کی شام سے لے کر یکم جون کی صبح تک کون بجلی لے گیا کہ لوڈشیڈنگ شروع ہو گئی ۔ میاں صاحب نے کہا ہے کہ لوڈ شیڈنگ کی ذمہ داری (31مئی کے بعد) نگرانوں کی ہے ۔ لیکن وفاق میں نگران حکومت کی کابینہ نے حلف اسی روز اٹھایا جس روزمیاں صاحب نگرانوں پر بجلی کی لوڈشیڈنگ کی ذمہ داری عائد کر رہے تھے۔ خیبر پختونخوا کے نگران وزیر اعلیٰ کا تقرر بھی اسی روز ہوا ، بلوچستان میں نگران وزیر اعلیٰ کاانتخاب ابھی نہیںہو سکا ہے۔ 31مئی کے بعد مسلم لیگ ن کی حکومت ختم ہو گئی تو یکم جون کو وفاق میں نگران کابینہ نے حلف اٹھایا۔ اس دوران بجلی کون لے گیا؟ میاں صاحب نے اپنی پارٹی کی 31مئی تک کی حکومت کے دوران کہا کہ اس روز تک کوئی لوڈشیڈنگ نہیں تھی اور اس کے بعد یکایک بجلی کی لوڈشیڈنگ شروع ہو گئی۔ جس کے لیے مسلم لیگ ن ذمہ دار نہیں اور یہ ذمہ داری نگران حکومتوں کی ہے۔ کیا اس بات پریقین کر لیا جانا چاہیے کہ 31مئی تک ملک میں بجلی کی کوئی لوڈشیڈنگ نہیں تھی۔ میاں صاحب کا تجربہ ملک کے عوام کے گرمی کی برداشت کے تجربے سے مختلف ہو گا تبھی انہیں یہ یقین ہے کہ 31مئی تک لوڈشیڈنگ نہیں تھی۔ ورنہ عوام کو 31مئی سے پہلے بھی گھنٹوں بجلی کی بندش کا سامنا رہا ہے۔ بجلی کوئی ایسی چیزتو ہے نہیں جسے بریف کیس میں بند کر کے لے جایا جا سکتا ہو ورنہ ان کی باتیں سننے والے شاید یہ کہہ سکتے کہ ان کی پارٹی کی حکومت جاتے جاتے بجلی بھی لے گئی ۔ لیکن میاں صاحب نے موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا اور لوڈشیڈنگ کا الزام بھی نگران حکومتوں پر ڈال دیا اور اپنی پارٹی کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا تمغہ عطا کر دیا۔ میاں صاحب نے کہا کہ ان کی پارٹی کے دور میں دس ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں داخل کی گئی ۔ اگر یہ تسلیم کر لیا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا گرمی کے موسم میں بجلی کی طلب دس ہزار میگاواٹ ہوتی ہے جو 31مئی تک پوری ہو رہی تھی۔ حالانکہ بجلی سے متعلق شعبوں میں کام کرنے والے کہتے ہیں کہ اب بھی ملک میں بجلی کا شارٹ فال (یعنی کمی) پانچ ہزار میگاواٹ ہے۔ میاں صاحب اپنی پارٹی کی انتخابی مہم دو متوازی خطوط پر چلا رہے ہیں ۔ ایک طرف وہ کہہ رہے ہیں کہ ان کی حکومت میں ملک ترقی کر رہا تھا جسے روک دیا گیا اور دوسری طرف وہ کہتے ہیں کہ ان مقدمات کی سماعت کرنے والے جج بغض سے بھرے ہوئے ہیں۔ عوام کو کہتے ہیں کہ ان کے دور حکومت میں دس ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں ڈالی گئی لیکن یہ بجلی پانی اور سورج کی توانائی کے قدرتی عطیہ کی بجائے ایندھن استعمال کر کے تیار کی گئی جو بیرون ملک سے برآمد کرنا پڑتا ہے۔ یہ بجلی عوام کو مہنگے داموں ملی۔ اگر پن بجلی ‘ پون بجلی اور سورج کی توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی پر توجہ جاتی تو یہ کم خرچ اور وافر ہوتی۔ لیکن ایندھن کے استعمال سے پیدا ہونے والی بجلی پر توجہ مرکوز کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ حکومت کے ذمے گردشی قرضوں میں ایک بار پھر اضافہ ہو چکا ہے کہ ملک کی معیشت کی موجودہ صورت حال میں یہ قرضہ برداشت کیا جانا مشکل ہے۔ بڑے فخر سے ذکر کیا جاتا ہے کہ میاں صاحب کے دور حکمرانی میں سڑکیں بنائی گئی ہیں ‘ یہ سڑکیں تو تب ہی کارآمد ہوں گی جب ان پر زراعت اور صنعت کی پیداوار تجارتی سفر کرے گی۔ لیکن زراعت اور صنعت کی ترقی پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی ۔ معیشت کو قرضوں پر چلایا گیا ، ان قرضوں اور ادائیگیوں کے توازن کے بار ے میں میڈیا میں بہت کچھ شائع ہو چکا ہے۔ اس سوال پر کہ کالا باغ ڈیم کیوں نہیں بنایا جا سکا ۔ میاں صاحب نے کہا کہ ان کے دور میں بھاشا ڈیم کے لیے زمین حاصل کرنے کے لیے رقم مختص کی گئی اور بونجی ڈیم پر بھی کام شروع کیاگیا۔ لیکن میاں صاحب کے دورِ حکومت کے دوران بھارت نے پاکستان کے جو دریا خشک کر دیے وہ میاں صاحب کی پارٹی اور اس کے اتحادیوں کو نظر نہیں آئے۔ میاں صاحب کے دورِ حکومت میں بھارت نے کشن گنگا ڈیم منصوبہ مکمل کر کے پاکستان کا نیلم جہلم منصوبہ بے کار کر دیا ۔ میاں صاحب نے بھاشا ڈیم کے لیے تو رقم مختص کر دی لیکن نیلم جہلم منصوبے کی رفتار کو تیزنہ کر سکے جس کی بدولت بھارت سے کشن گنگا منصوبے کو عالمی سطح پر بہتر انداز میں چیلنج کیاجا سکتا تھا۔ نیلم جہلم منصوبہ تاخیر در تاخیر کا شکار کیوں ہوتا رہا؟ اور اس کی ذمہ داری کن فیصلہ سازوں پر عائد ہوتی ہے؟ اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ مسلم لیگ ن کے وعدوں کے برعکس ملک بھر میں طویل دورا نیہ کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ اس سال گرمی بھی گزشتہ برسوں کی نسبت زیادہ پڑ رہی ہے۔ اس گرمی کے باعث بالائی علاقوں میں گلیشئر پگھلنا شروع ہوگئے ہیں۔ اس بنا پر بتایاجاتا ہے کہ دریاؤں میں پانی کی مقدار میں چندد ن میں اضافہ ہونے کی توقع ہے ۔ اس طرح ممکن ہے کہ عام انتخابات کے انعقاد تک تربیلااور منگلاڈیم سے پیدا ہو نے والی بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو جائے اور ن لیگ والے ایک بار پھر دعویٰ کر سکیں کہ دیکھا انہوں نے ملک سے بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا وعدہ پورا کر دیا ، لیکن اس میں ایک خدشہ یہ بھی نظر انداز نہیں کیاجاسکتا کہ درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ سے گلیشئرزکا پانی سیلابوں کی صورت میں نازل ہو اور اس ممکنہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے کوئی منصوبہ بندی بھی نظر نہیں آرہی۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود اس کی کوئی پانی پالیسی نہیں۔ عام انتخابات ہونے والے ہیں ‘ اب تک کسی پارٹی کے منشور میں پانی کی متوقع کمی کے بارے میں آگہی کے آثار نظر نہیں آتے۔

متعلقہ خبریں