Daily Mashriq

کیا الیکشن سے تبدیلی کی امید ہے ؟

کیا الیکشن سے تبدیلی کی امید ہے ؟

وطن عزیز میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اب تک 10 عام انتخابات ہوئے ہیں۔جس میں 1962 ، 1970، 1977، 1985، 1990، 1993، 1997 ، 2002،2008اور 2013 کے عام انتخابات شامل ہیں۔ اور وطن عزیز کے 11 ویں انتخابات 2018میں ہونگے۔ رپو رٹ کے مطابق پاکستان انسانی وسائل کی فہرست میں 124 ممالک کی فہرست میں 113 ویںنمبر پر ہے۔ جبکہ اسکے بر عکس جنوبی ایشیاء میں پاکستان اس فہرست میں سب سے نیچے ہے ۔ اسی فہرست کے مطابق جنوبی ایشیا میں سری لنکا 60 ویں نمبرپر،بھوٹان 87 ویں نمبرپر ، بنگلہ دیش 99ویں نمبرپر ، انڈیا 100 ویں نمبرپراورنیپال 106 ویں نمبرپر اور پاکستان ان تمام غریب ممالک میں سب سے نیچے یعنی 113 ویں نمبر پرہے۔ ہم دنیا کی ترقی یافتہ اقوام یورپ ، کینیڈا اور فرانس کی بات نہیں کرتے، پاکستان، جنوبی ایشیا کے 7غریب ممالک کی فہرست میں سماجی، اقتصادی اور تعلیمی لحا ظ سے سب سے نیچے ہے۔ کسی ملک کی تعمیر نو اور اسکو ترقی اور پروان چڑھانے میںوہاں کے سیاسی لیڈرشپ ان اور حکمرانوں کاانتہائی اہم اور کلیدی کردارہوتا ہے ۔ قوم اور ملک کی ترقی کے لئے لیڈرز اور قائدین ایسی سماجی ، تعلیمی اور اقتصادی راہوں کا تعین اور ایسی پالیسیاں اور قانون سازی کرتے ہیں جس سے ریاست کو پروان چڑھنے میں مدد ملتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان بننے کے 70 سال بعد بھی مملکت خداداد پاکستان کو کوئی ایسا مخلص لیڈر ، قیادت اور حکمران نہیں ملا جو پاکستان کو معاشی دلدل اور مسائل سے نکال سکے ۔ بلکہ اسکے بر عکس اپنے دور کے ہر لیڈر اور حکمران ملک اور 21 کروڑ پاکستانیوں کو پستی میںدھکیلتا جا رہا ہے ۔ بعض دانشور اورسیاست دان کہتے ہیں کہ کسی ملک میںطاقت سے نہیں بلکہ ووٹ اور بیلٹ سے تبدیلی آتی ہے مگر میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ پاکستان میں انتخابی نظام سے نہیں ،بلکہ وسائل اور دولت سے تبدیلی آتی ہے۔ وطن عزیز کا انتخابی نظام اتنامشکل اور مہنگاہے کہ انتہائی لائق اور تجربہ کار شخص دولت اور سرمائے کے بغیر الیکشن لڑ نہیںسکتا ۔ اگر بالفرض محال کوئی پارلیمنٹ کا ممبر بن بھی جاتا ہے مگر ملک کے روایتی سیاست دان اس کو قدم جمانے نہیں دیتے۔ جس کے پاس زیادہ سر مایہ اور وسائل ہے وہ پاکستان میںانجینئر اورڈاکٹر بھی بن سکتا ہے اور ملک کا بڑا لیڈر اور پارلیمنٹ کا ممبر بھی بن سکتا ہے۔ ملک کی مشہور سیاسی پا رٹیاں اُن اُمیدواروںکو انتخابی ٹکٹ دیتی ہیں جس کے پاس زیادہ مالی وسائل ہوں ۔کوئی بھی سیاسی پا رٹی جس وقت کسی اُمیدوار کو انتخابی ٹکٹ دیتی ہے تو قابلیت کے بجائے اس کی مالی حیثیت کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔ جو ماضی میں نہیں ہوا کرتا تھا۔اچھا کردار اور قابلیت تو معیار نہیں رہا۔ اگر کسی نے صوبائی اسمبلی کے سیٹ کے لئے الیکشن لڑنا ہے تو اسکے لئے اُس کے پاس کم ازکم 5کروڑ اور قومی اسمبلی کے لئے 10 سے 15 کڑورہونے چاہئیں۔ اگرمد مقابل اُمید وار طاقت ور ہو تو پھر اُسکے لئے ہر صورت اربوں روپے درکار ہوں گے۔ کیونکہ وہ تو بڑے ہاتھیوں کی لڑائی ہے ۔ اور بڑے ہاتھیوں کی لڑائی چھوٹے اور کم سرمائے سے نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ سرمائے سے لڑی جاتی ہے۔ جہا ں تک پاکستان میں تبدیلی کی با ت ہے تو وہ کبھی ووٹ کے ذریعے نہیں آسکتی کیونکہ پاکستان کے 80 فیصدووٹرز، وڈیروں ، چو دھریوں ،سرداروں اور نوابوں کے چنگل میں ہیں۔اور یہی نواب، چودھری، سردار، خوانین اور وڈیرے گائوں اور دیہاتوں کے غریبوں کے کچہری، پولیس ، پٹواری، شنا ختی کا رڈ کے مسائل حل کرتے ہیں اوراسی طرح غریب انکے دست نگررہتے ہیں ۔علاقے کے یہی خان ، نواب ، چو دھری ، سرمایہ دار، جاگیر دار اور وڈیرے وطن عزیز کی ٹاپ سیاسی پا رٹیوں سے تعلق رکھتے ہیں اورکسی بھی بڑی سیاسی پارٹی کی اعلیٰ قیادت انکی وابستگیوں کو خریدتے ہیںاور انتخابات میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اگر ہم تجزیہ کریں تو صرف کے پی کے میں انتخابی نظام کے ذریعے تبدیلی آتی ہے کیونکہ کے پی کے غریب، کسی سرمایہ دار، جاگیر دار اوروڈیرے کے زیرا ثرنہیںہوتے ۔ پختون فطری طو رپر کسی بر تری اور دبائومیں نہیں آتا۔پیار سے اُس سے کام تولیا جا سکتا ہے مگر دبائو اور دھونس سے کبھی بھی اُس سے کام نہیں لیا جاسکتا۔ خیبر پختون خوا میں بڑے سے بڑا خان اور نواب، اگر کسی غریب کی عزت کر ے گا تو غریب بھی اسکی عزت کرے گا۔ جبکہ پنجاب، بلو چستان اور سندھ میںمعاملہ اس کے بر عکس ہے۔ پنجاب میں غریب وڈیروں ، کا رخانہ داروں ، نوابوں ، چودھریوںاور راجوںکے زیر اثر ہوتا ہے، بلو چستان میں غریب سرداروں اور سندھ میں سائیوں کے زیر اثر ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ کے پی کے میں الیکشن کے نتیجے میں تبدیلی آتی ہے اور اسکے بر عکس دوسرے صوبوں میں نہیں آتی۔ اور ان تین صوبوں میں وہی سیاسی پا رٹیاں بر سر اقتدار ہوتی ہیں جن سے یہ وڈیرے جڑے ہوتے ہیں۔اگر حالات اور واقعات کا تجزیہ کیاجائے تو گزشتہ 30 سال میں کے پی کے تقریباً 6 پا رٹیوں کی حکومتیں تبدیل ہوئی ہیں جبکہ اسکے بر عکس پنجاب میں گزشتہ 30 سال سے نواز شریف کی ، سندھ میں 30 سال سے پی پی پی اور ایم کیو ایم اور بلوچستان میںوہی روایتی نوابوں اورسرداروں کی حکومت ہے ، جسکے نتیجے میں پاکستانی غریب انہی سٹیٹسکو سیاست دانوں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔

اداریہ