Daily Mashriq

اہل صحافت کو درپیش چیلنج اور فرض

اہل صحافت کو درپیش چیلنج اور فرض

سفر حیات کی چھٹی دہائی کے آخری برس میں سانس لیتے ہوئے بھی اس بات پر خوشی ہے کہ اُمید پرستی جمہوریت سے عشق اور زمین زادوں سے محبت روز اول کی طرح تازہ دم ہے ۔ ساڑھے چار دہائیوں سے کوچہ صحافت میں طالب علم کی حیثیت سے سمجھنے اور سیکھنے کی شعوری کوششوں ، زمانے کی اونچ نیچ ، کہہ مکرینوں ۔ جمہوریت اور زمین زادوں سے ہوئے کھلواڑ سمیت بہت کچھ دیکھ سہہ لیا ۔ اپنی بساط مطابق آزادی اظہار کے تحفظ کی جدوجہد میں حصہ ڈالا ۔ میری بیٹی فاطمہ ان دنوں میڈیا سٹڈی کی طالبہ ہے ۔ اپنے نصاب سے بندھے سوالات تو وہ روز کرتی ہے ۔ خوش اس بات پر ہوں کہ 45برس قبل شعوری طور پر صحافت میں آنے کا جو فیصلہ میں نے کیا تھا اُسی شعور سے فاطمہ نے راہ پائی ۔ پچھلی شب اس نے سوال کیا ۔ بابا! کیا صحافی کے لئے جیل جانا ، تشد برداشت کرنا ضروری ہے ؟ ۔ جواباً اسے بتایا کہ صحافی کا کام اپنے حصہ کاسچ وقت پر بولنا اور لوگوں کی درست سمت رہنمائی کرنا ہے ۔ سچ بولنے اور صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کے نتیجے میں گلے پڑنے والی مشکلات کا خندہ پیشانی کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہیے ۔ مجھے جب بھی وقت ملتا ہے اسے پاکستانی صحافت کے ماہ و سال ، پرعزم صحافیوں کی جدوجہد اور قربانیوںسے روشناس کرواتا رہتا ہوں ۔ ایسا اس لئے بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ مجھے آنے والے دن صحافت کے حوالے سے کڑے سے کڑے دکھائی دے رہے ہیں ۔ برداشت کا مادہ کسی طبقے میں رہا ہے نہ ادارے میں‘ سب اپنی اپنی لاٹھی سے پورے سماج کو ہانکنے کے تڑپ میں تڑ پ رہے ہیں ۔ تمہید طویل ہوئی اس کے لئے معذرت تمہیدی سطور خود ستائی کے لئے نہیں لیکن جو بیت گیا اس پر شکر ہے بھر بیت رہا ہے اس پر صبر ہے اور جو مسلط ہونے کو ہے اس کا مقابلہ کرنے کی سکت ابھی موجود ہے ۔ ایک عامل صحافی کے طور صحافت اور سماج میں 45سے 60برس جینے کے بعد کچھ کچھ تجزیہ کرنے کی اہلیت ملی اسی سبب لگتا ہے کہ آنے والے دن اور ماہ وسال پاکستانی صحافت کے لئے ماضی سے زیادہ سخت ہوں گے ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ستر برسوں میں ہم برداشت کو پروان چڑھا سکے نہ عوامی جمہوریت پر مبنی ایسا نظام تشکیل دے پائے جو انصاف مساوات اور عوام کے حق حکمرانی پر استوار ہو ۔ قصور اس میں کس کا ہے ؟ ۔ سادہ سا جواب یہ ہے کہ ناکامیوں کی اجتماعی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے لیکن تین طبقات زیادہ ذمہ دار ہیں ۔ اولاً سمجھوتہ باز سیاستدان ثانیاًریاستی ادارے اور ثالثاً صحافت کو میڈیا منیجری بنانے والے ۔ بد قسمتی یہ ہے کہ ان تینوں نے ایک ہی سر تال میں سب اچھا کا راگ الاپا اور درمیان میں کبھی کبھی حب الوطنی کی ٹھمری بھی گائی ۔ حالات آج بھی ویسے ہیں کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا ، نظریات کی جگہ انتہاپسندی اور اندھی تقلید نے لے لی ہے ۔ ناصح بنے پھرتے لوگ زندگی کی حقیقتوں اور عصر ومستقبل کی ضرورتوں کو سمجھنے کے لئے تیار نہیں ۔ صاف سامنے دیوار پہ لکھی تحریر پڑھنے کی بجائے پسندیدہ رائے الاپے جارہے ہیں ۔ حالت یہ ہوگئی ہے کہ ایک طالبہ کو چھریوں کے 27وار کر کے گھائل کرنے والے مجرم کو بری کرنے والا جج گورنر پنجاب کے ایما پر طالبہ کو اپنے چیمبر میں بلا کر صلح کے لئے مجبور کرتا ہے انکار پر و ہ عدالت میں بیٹھ کر سات سال سزا پانے والے مجرم کو بری کر دیتا ہے ۔ وہ تو شکر ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے انصاف کے اس قتل کا بروقت نوٹس لے لیا ورنہ گورنر اور منصف تو اپنا ہاتھ دکھا چکے تھے ۔ یہ ایک زندہ اور کڑوی مثال ہے اور زیادہ پرانی نہیں بلکہ 5جون 2018کی ہے ۔ مثال دینے کا مقصد حالات کو آپ کے سامنے رکھنا ہے ۔ یہ بنیادی طور پر بالادستوں اور اداروں کا سماج ہے عام آدمی کی اس میں کوئی حیثیت نہیں ۔ انصاف مہنگا ہو چکا ۔ انتخابی عمل اب کاروبار ہے ۔ آزادی صحافت بس دو اشتہاروں کی مار ہے ۔ یہ وہ حالات ہیں جن کی بدولت یہ عرض کرنے پر مجبور ہوں کہ لولے لنگڑے نظام میں سانس لیتے سماج کا بندگلی کی طرف ہانکا کیا جارہا ہے ۔ بد قسمتی یہ ہے کہ لیڈروں کی محبت میں گردن تک دھنسے سیاسی جماعتوں کے لوگ ( معذرت کہ کارکن اب رہے نہیں ) آواز بلند کرنے سے ڈرتے ہیں ۔ جو لوگ اپنے لیڈر کو ٹوکنے کی جرأت نہ رکھتے ہوں وہ جبرو استحصال کے خلاف کیا آواز بلند کریں گے ۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم ایک بار پھر 1960ء کی دہائی کی طرف تیزی سے واپس پلٹ رہے ہیں ۔ حقوق کی بات کرنے والوں پر ادارے تبرا شروع کردیں تو سمجھ لیجئے کہ مشکلات بڑھنے والی ہیں ۔ اپنے ہم عصر اور نوجوان صحافیوں سے یہی درخواست ہے کہ ان نازک لمحات میں چراغ سے چراغ جلاتے رہیں تاکہ اندھیرا مسلط کرنے اور منزل کھوٹی کرنے کی سازشیں پروان نہ چڑھنے پائیں۔ ان سطور میں ہمیشہ عرض کرتا ہوں کہ اس ملک کی جغرافیائی سلامتی اور سماجی وحدت کے برقرار رہنے کے لئے عادلانہ نظام او رمساوات بہت ضروری ہیں ۔ مکرر عرض کرتاہوں موجودہ آنے والے دنوں کے حالات میں اہل صحافت پر دوسروں کی نسبت زیادہ ذمہ داریاں آن پڑیں گی ۔ کیا ہم اہل صحافت اپنا فرض حوصلہ اور جرأت مندی سے ادا کرپائیں گے ۔ اس سوال پر غور کیجئے اور اعلائے کلمتہ الحق ادا کیجئے یہی ایک صحافی کا فرض ہے ۔

اداریہ