Daily Mashriq

تحریک تحفظ پاکستان کی اشد ضرورت

تحریک تحفظ پاکستان کی اشد ضرورت

ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل آصف غفور کی چار جون کی پریس کانفرنس میں پاکستان سے متعلق دو ٹوک اور ایمان و ایقان اور مبنی بر حکمت باتوں سے نہ صرف پریس کانفرنس میں موجود صحافی برادری کو بعض پیچیدہ باتوں کا تسلی بخش جواب ملا بلکہ پاکستان سے محبت کرنے والوں کو بھی ایک گونہ اطمینان ہوا کہ الحمد للہ ! پاک افواج کی صورت میں وطن عزیز میں ایک ادارہ ایسا ضرور موجود ہے جس کا اوڑھنا بچھونا پاکستان ہے ۔ پاکستان میں اگرچہ ایک زمانے سے یہ بحث چلی آرہی ہے کہ وطن عزیز میں فوجی حکومتیں نہ آتیں تو جمہوریت مضبوط ہوتی اور پاکستان مضبوط و مستحکم ہوتا ۔ تاریخ پاکستان میں بعض مواقع پر سیاستدانوں کے درمیان مخالفتیں اور دشمنیاں اور ایک دوسرے کو ہر حال میں نیچا دکھانے کے معاملات سامنے رکھ کر وطن عزیز سے محبت رکھنے والے لوگ تو چاہتے ہیں کہ ان سیاستدانوں میں وہ صلاحیت ، دانش اور ویژن ہے ہی نہیں جو ملکوں اور حکومتوں کو کامیابی کے ساتھ چلانے کے لئے درکار ہوتا ہے ۔ 1971ء میں خدا خدا کر کے فوجی حکومت نے شفاف وغیر جانبدارانہ انتخابات کرائے ، لیکن مغربی و مشرقی پاکستان کے دوبڑے سیاستدانوں نے ایسے حالات پیدا کئے کہ بیرونی طاقتوںکو پاکستان کو دولخت کرنے کے مواقع میسر آگئے ۔ اس میں شک نہیں کہ ہمارے سیاستدانوں میں بعض بہت دانشور اور ملک وقوم کے لئے سوچنے اور کام کرنے والے بھی موجود ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایسوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔ بد قسمتی سے زیادہ تر سیاستدان وہ ہیں جن کو پاکستان سے اُس وقت بامر مجبوری بتقفا ضائے عہد ہ منصب محبت ہوتی ہے لیکن اگر وہ اقتدار میں نہ ہوں تو اُن کو ملک و عوام کے مفادات کے مقابلے میں اپنے مفادات زیادہ عزیز ہوتے ہیں ۔ جہاں تک ان سیاستدانوں کے آپس کے تعلقات کی بات ہے تو اقتدار و مفادات کے لئے تو ایک سو اسی درجے کی مخالفتوں کے باوجود سب کچھ پس پشت ڈال کر اکٹھے ہو سکتے ہیں لیکن جہاں ملکی مفادات کا تقا ضا ہو یا ملک کے لئے ایک کو دوسرے سے ذرا زیادہ قربانی کی ضرورت پیش آئے تو وہاں یہ اعلان کر بیٹھتے ہیں کہ ان کے ساتھ اکٹھے جنت جانا بھی گوارا نہیں ۔ انا پرست ایسے کہ اپنی جھوٹی انا کے مرغ کی بازی جیتنے کے لئے اونٹ کی قربانی دے سکتے ہیں ۔ مطالعے سے خداواسطے کا ایسا بیر کہ پاکستان اور تاریخ پاکستان کے بارے میں بنیادی اور ضروری سوالات و معلومات پر مشتمل پرچے میں بری طرح فیل ہو جائیں لہٰذا افواج پاکستان کو بعض مخصوص حالات و معاملات کے حوالے سے کردار ادا کرنا مجبوری بن جاتی ہے۔ اس میں بھی شک نہیں کہ جمہوری حکومتوں کے ادوار میں سپر طاقتیں اور دشمنان پاکستان تین سو کے قریب ارکان پر مشتمل پارلیمنٹ کو اپنی راہ پر لگا نے میں دشواری محسوس کرتے ہیں اور آمریت کی صورت میں مشرف جیسے جرنیل کو آدھی رات کو اُٹھا کر اُن سے اپنے مطالبات کی طویل فہرست منوانا آسان ہوتا ہے ۔ جنر ل ایوب ’’آقا نہیں ، دوست ‘‘ کتاب وقت گزرنے کے بعد ہی لکھواتا ہے ۔۔۔لیکن یہ بھی ایک مرئی حقیقت ہے کہ پاک فوج ہی وہ ادارہ ہے جس کے ڈی جی آئی ایس پی آر نے دوٹوک الفاظ میں بتادیا کہ ہم اپنی ذات پر تنقید برداشت کر سکتے ہیں ، لیکن پاکستان پر نہیں ۔ کسی کا قد پاک افواج کو برا بھلا کہنے سے اونچا ہوتا ہے تو کرے لیکن کوئی اپنے قد کو پاکستان کو برا بھلا کہنے سے اونچا کرنا چاہتا ہے تو ایسا نہیں ہونے دینگے ، یہی وہ کردار ہے جو پاک افواج کے سوا کوئی دوسرا ادارہ کرنے کو تیار نہیں ۔ سیاستدانوں میں تو بعض ایسے بھی ہیں جو پاک افواج کے خلاف دشمنان پاکستان کی ٹویٹس شیئر کرنے پر خوشی کااظہار کرتے ہیں جو یقینا قابل افسوس اور انتہائی قابل مذمت بات ہے ۔ اس وقت وطن عزیز کے خلاف افغانستان کی سرزمین پر سازشوں کی بہت بڑی کھچڑی کی بہت بڑی دیگ پکانے کے لئے چڑھائی گئی ہے ۔ داعش کو پاکستان کی مغربی سرحدات کے کمزور پوائنٹس پر جمع کرا کر مضبوط کیا جارہا ہے ۔ مشرقی سرحد پر 2017-18کے دوران ہزاروں مرتبہ سیز فائر معاہدوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے ۔ سب سے بڑھ کر بھارت کی طرف سے واٹر بم کا خطرہ سروں پر منڈلا رہا ہے ۔ پاکستان ہمارے عاقبت نااندیش سیاستدانوں اور اُن کے درمیان عدم تعاون اور ایک دوسرے کو خراب کرتے رہنے کے سبب عالمی یہودی ساہو کاروں کے قرضوں میں دھنسا ہوا ہے ۔ گریٹر اسرائیل کے لئے یہودی دانشور اور تھنک ٹینک خراسان سے کالی پگڑیوں والے لشکر کی حدیث کا مطالعہ کرتے ہوئے اُن سے نمٹنے کی منصوبہ بندی میں مشغول ہیں ۔ ایسے میں پاکستان کے سیاستدانوں پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آپس میں سیاسی و نظریاتی اختلاف کے باوجود وطن عزیز کی حفاظت و ترقی کے لئے ایک ہو ں ۔صاف وشفاف انتخابات کے ذریعے عوام جس کو اقتدار دے دیں وہ خلوص نیت کے ساتھ ملک کو پیش آمدہ مسائل سے نجات دلانے کے لئے اپوزیشن اور پاک افواج کے اعتماد و تعاون کے ساتھ ایک مثالی حکومت بنا کر چلائیں تاکہ دشمنان پاکستان کی ساری تدبریں خاک میں ملیں اور وطن عزیز کے عوام سکھ کا سانس لیں اور پاکستان اپنے قیام کے مقاصد سے ہم کنار ہو ۔

اداریہ