Daily Mashriq


بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟

بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟

سینیٹ کے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کی بازگشت ہی نہیں بلکہ اس کا سیاسی جماعتوں کی طرف سے کھلے عام اعتراف بھی کیا جا رہا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ کسی بھی معاملے پر اتفاق نہ رکھنے والی سیاسی جماعت مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف دونوں اس امر پر متفق ہیں کہ سینیٹ کے انتخابات میں بدترین ہارس ٹریڈنگ ہوئی ہے جس کی تحقیقات پر بھی ان کو اتفاق ہے۔ مسلم لیگ (ن)کے تاحیات قائد نواز شریف کا کہنا ہے کہ بعض سیاسی پارٹیوں نے صوبائی اسمبلیوں میں محدود نمائندگی ہونے کے باوجود زیادہ نشستیں حاصل کیں جو ہارس ٹریڈنگ کی جانب واضح اشارہ ہے اسلئے تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں کہ وفاداری میں تبدیلی کی اصل وجوہات کا کھوج لگایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹوں کی خریداری کا عمل اب قصہِ پارینہ ہونا چاہئے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) اور عدالتیں سینیٹ انتخابات میں وفاداری کی تبدیلی کے اسباب کا تعین کریں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی طرح ان کے سیاسی حریف عمران خان کی جانب سے بھی سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کیخلاف تحقیقات کا مطالبہ سامنے آیا۔ عمران خان نے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق سینیٹ انتخابات میں ووٹر کی قیمت4 کروڑ تک لگی اور ساتھ ہی انہوں نے اقرار کیا کہ ہمارے اپنے لوگ بھی بکے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی ای سی پی سے کہتی رہی ہے کہ سینیٹ انتخابات میں کرپشن کی روک تھام کیلئے خفیہ رائے سازی کی جگہ اوپن ووٹنگ کا نظام رائج کیا جائے لیکن ای سی پی نے مطالبہ تسلیم نہیں کیا تھا اسلئے اراکین اسمبلی نے فائدہ اُٹھا کر خود ہی ووٹوں کی تجارت شروع کر دی۔ انہوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان، قومی احتساب بیورو، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے سوال کیا کہ ہارس ٹریڈنگ کو روکنے کیلئے انہوں نے کیا اقدامات کئے؟ پی ٹی آئی کے چیئرمین نے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار سے مطالبہ کیا کہ وہ ہارس ٹریڈنگ کے معاملے کا نوٹس لیں۔ دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کو سینیٹ انتخابات میں غیر معمولی دھچکا لگنے کے بعد اعلان کیا گیا کہ وہ ای سی پی اور عدالتوں میں سینیٹ انتخابات کو چیلنج کریں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ کے تاحیات قائد اور تحریک انصاف کے چیئرمین میں لاکھ اختلافات سہی لیکن سینیٹ کے انتخابات میں نوٹوں کی بوریوں کے منہ کھلنے پر ان کی جانب سے تحقیقات کا مطالبہ احسن اقدام ہے، ان کو اپنی نیک نیتی اور مطالبے کو سنجیدہ ثابت کرنے کیلئے متعلقہ عدالتی فورم سے مشترکہ طور پر رجوع کر کے ثابت کرنا چاہئے کہ وہ کسی مصلحت کا شکار ہوئے بغیر سینیٹ انتخابات میں ضمیر فروشوں کو بے نقاب کرنے کے خواہاں ہیں۔ مطالبے کی حد تک تو یہ امر دل خوش کن ضرور ہے لیکن ایسا کرنا عملی طور پر سیاسی وقانونی دونوں صورتوں میں تقریباً ناممکن ہے، یہ کیسے ثابت کیا جائے کہ کس پینل سے کون بکا لیکن اس معاملے پر خاموشی بھی کھلے عام ضمیر فروشی کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ یہاں خریدار تو معلوم ہیں مگر بکا ہوا ووٹر نامعلوم۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جو لوگ بکے ہیں ان کا تو تذکرہ ہو رہا ہے ان کیخلاف جماعتی تحقیقات اور کارروائی کا بھی عندیہ ملتا ہے اس کا امکان بھی ہے مگر اس کے بعد نہ ہی قانون اور نہ معاشرہ ان پر کوئی قدغن لگا سکتا ہے۔ کم ازکم ان کی کھل کر مذمت بھی شاید ہی ہو، بعید نہیں کہ ایک جماعت ان افراد کو سزا کے طور پر پارٹی سے نکال دے تو دوسری جماعتیں ان کو اپنی جماعتوں میں شمولیت کی دعوت دینے میں ذرا بھی ہچکچائیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں ناراض ارکان اسمبلی کا معاملہ اسلئے مختلف ہے کہ ان کا دوسری سیاسی جماعتوں کو ووٹ دینا یقینی تھا انہوں نے ساتھی ارکان اسمبلی کو بھی ورغلانے میں کردار ادا کیا ہوگا مگر اس کے باوجود ان کو پیٹھ میں خنجر گھونپنے کا الزام نہیں دیا جاسکتا بلکہ افسوس اور دکھ کی بات تو یہ ہے کہ جن ارکان نے جماعتی وفاداری کا لبادہ اوڑھ کر پارٹی قیادت کا سر جھکایا ان کا یہ فعل قابل معافی نہیں، بہرحال ہارس ٹریڈنگ صرف خیبر پختونخوا اسمبلی میں ہی نہیں ہوئی پنجاب اسمبلی میں بھی ایسا ہوا ہے۔ جیتنے والوں میں مشکوک صرف پیپلز پارٹی کے سینیٹر ہی نہیں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کا دامن بھی صاف نہیں اسلئے حق تو یہی بنتا ہے کہ نوازشریف اور عمران خان اپنے اپنے کم عدد رکھنے کے باوجود جیتنے والے سینیٹرز سے سب سے پہلے اس جادو کی چھڑی کا سوال کریں جسے استعمال کر کے انہوں نے منفی کو مثبت میں بدلا۔ ہمارے تئیں ہر دو رہنماؤں سے اس کردار کے مظاہرے کی توقع نہیں اگر وہ ابتداء گھر سے نہیں کرتے تو چور مچائے شور ہی کے مصداق بیانات دینے سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ سوال یہ بھی ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے۔ عدالت عظمیٰ، نیب یا کوئی اور فورم۔ ماضی میں کم ازکم اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی اب بھی کسی نظیر کا قائم ہونا خواب ہی دکھائی دیتا ہے۔ ہمارے تئیں تقریباً سبھی سیاسی جماعتوں کی قیادت نے قبل از انتخابی عمل ہی ازخود ہارس ٹریڈنگ کی بنیاد رکھ دی تھی۔ یہ کوئی مشکل سوال نہیں کہ تقریباً ہر سیاسی جماعت نے ارب پتی افراد کو ٹکٹ جاری کیوں کئے۔ سینیٹ کے انتخابات کو شفاف بنانے کی جہاں بہت ساری تجاویز دی جارہی ہیں، ان کا تعلق الیکشن کمیشن سے ہے مگر اس کیلئے قانون سازی انہی عناصر نے کرنی ہے، انہی سیاسی جماعتوں کو براہ راست انتخاب اور خفیہ کی بجائے اعلانیہ رائے شمار کا طریقہ کار طے کرنا ہے۔ سیاسی جماعتیں اگر صرف اس امر سے بھی اتفاق کرلیں کہ کوئی بھی جماعت روساء کو سینیٹ کا ٹکٹ جاری نہیں کرے گا اور اگر ایسا کرنا ناگزیر ہو تو یقینی اکثریتی گروپ کو ان کے ووٹر پینل میں ڈالا جائے گا جس جماعت کے جس اسمبلی میں جتنے اراکین بنتے ہوں اس کے تناسب ہی کے مطابق سینیٹ کا ٹکٹ دینا بھی ایک آسان حل ہوگا۔ سینیٹ کے انتخابات میں منڈی لگنے کی روک تھام مشکل نہیں مگر شور مچانے والے ہی ایسا نہیں چاہتے۔

متعلقہ خبریں