Daily Mashriq


خیبر روڈ کی بی آر ٹی منصوبے میں شمولیت

خیبر روڈ کی بی آر ٹی منصوبے میں شمولیت

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی خصوصی مساعی سے خیبر روڈ کو امن چوک تک ریپڈ بس منصوبے کا حصہ بنانے پر متعلقہ حکام کی رضامندی اور این او سی کا متوقع اجراء اہالیان شہر کیلئے خوشخبری سے کم نہیں گوکہ اس سے اس سڑک پر پبلک ٹرانسپورٹ کی عصب شدہ سہولت بحال ہوگی لیکن بحالی کا یہ عمل مایوسی کے بعد ہی ممکن ہونے سے خوشی فطری امر ہوگا۔ خیبر روڈ کی بندش سے شہر کے دو سروں کے درمیان فاصلہ بڑھ گیا تھا اور شہریوں کو اس پر سخت مشکلات درپیش ہیں بہرحال اس مرکزی سڑک کے بی آر ٹی منصوبے میں آنے سے ریپڈ بس سروس کے سواریوں کو ایک تیز رفتار اور براہ راست سروس میسرآئے گی اور سواریوں کو ایک طویل چکر کاٹ کر جانے سے نجات ملے گی، علاوہ ازیں اس سے روٹ کے دیگر حصوں میں سواریوں کے رش میں کمی آئے گی اس روٹ سے ورسک روڈ سمیت ایک بڑے علاقے کے سواریوں کو سہولت بھی میسر آئے گی۔ خیبر روڈ کو سیکورٹی کی بناء پر پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے بند کرنے کے باعث عوام جس ادارے سے ناخوش تھے اس کا بھی ازالہ ہو جائے گا۔ توقع کی جانی چاہئے کہ یہ خوشخبری محض خوشخبری کی حد تک نہ رہے گی بلکہ این او سی کا جلد اجراء ہوگا تاکہ بی آر ٹی منصوبے میں شامل کر کے کام شروع کیا جا سکے، تاہم فی الوقت اس پر کام شروع کرنا اسلئے فائدہ مند نہ ہوگا کہ اس سڑک پر بھی رکاوٹوں کے باعث رش میں مزید اضافہ ہوگا۔ اس سڑک پر بی آر ٹی منصوبہ شروع کرنے سے قبل وہ غلطیاں نہ دہرائی جائیں جو بی آر ٹی منصوبہ میں سامنے آئی ہیں۔ توقع ہے کہ متعلقہ ادارے اور صوبائی حکومت ایسی منصوبہ بندی کریں گے کہ عوام اور حکام دونوں کو زیادہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور سہل طریقے سے کام مکمل کیا جا سکے۔

حلال فوڈ اتھارٹی سے وابستہ توقعات

خیبر پختونخوا میں فوڈ اتھارٹی کے قیام سے صوبے میں خوراک کے معیار اور صفائی سے متعلق ہی مسائل پر قابو پانے میں مدد نہ ملے گی بلکہ ان اہم خدمات کی انجام دہی بھی ان کے دائرہ کار میں شامل ہے۔ ہوٹلز میں کام کرنیوالے ویٹرز اور خانسامہ کے میڈیکل ٹیسٹس ہونگے فوڈ سیفٹی ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کا قیام بھی عمل میں لایا جائیگا۔ ٹریننگ سکول میں فوڈ بزنس سے متعلقہ افراد کو تربیت دی جائیگی عوام میں معیاری خوراک سے متعلق شعور اُجاگر کیا جائے گا، خوراک سے متعلق عوامی شکایات سننے کیلئے طریقہ کار وضع کیا جائیگا۔ ادارے کے کمپنیز کو فروغ دینے کیلئے والنٹئیرز کی خدمات لی جا رہی ہیں۔ محولہ اقدامات کی ضرورت بڑی شدت کیساتھ محسوس کی جا رہی تھی۔ ان ضروری اقدامات سے بہتری نہ آنے کی کوئی وجہ نہیں لیکن دوسری جانب اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ہمارے ہاں محکموں کے قیام کے وقت ان سے جو توقعات وابستہ کی جاتی ہیں اور ان کا جو دائرہ اختیار طے کیا جاتا ہے اس پر عملدرآمد میں بے انتہا کوتاہی اور غفلت سے کام لیا جاتا ہے جس کے باعث وہ ادارے سرکاری خزانے پر بوجھ بن کر رہ جاتے ہیں۔ عوام کو صحت مند خوراک اور صحت مند لوگوں کے ہاتھوں صحت مند فضا میں اس کی تیاری اور شکایت کیلئے فورم دستیاب ہونا یقیناً کسی نعمت سے کم نہ ہوگی بشرطیکہ خیبر پختونخوا سیفٹی اینڈ حلال فوڈز اتھارٹی روایتی سرکاری ادارہ بننے کی بجائے عوام کا غمخوار ثابت ہو اور ادارہ اپنے قیام کا جواز درست ثابت کرے۔ ادارے کے قیام کے بعد اس کے اولین سربراہ مقرر ہونے کا اعزازحاصل کرنے کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ادارے کی بنیاد اتنی مستحکم کرے کہ ایک مثال بن جائے، اس کی کارکردگی ایسی ہونی چاہئے کہ کسی بھی جگہ اس کے قوانین کی خلاف ورزی کی گنجائش نہ رہے اور ہر کسی کو اس بات کا احساس رہے کہ کوتاہی وغفلت پر سزا اور جرمانے سے بچنا ممکن نہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں