Daily Mashriq


پختونوں کی آواز سُنیں

پختونوں کی آواز سُنیں

اس وقت پاکستان کے تمام پختون اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کر رہے ہیں اور پاکستان کو اس آواز کو غور سے سننا چاہئے۔ پختون ایک پُرامن احتجاج کی صورت میں اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھ رہے ہیں اور ان مطالبات کو سمجھنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ ہم ان مظاہرین کے مؤقف کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ پاکستان کو خونریزی کے ایک طویل دور کے بعد امن نصیب ہو رہا ہے اور شاید ہی کوئی پاکستانی ایسا ہو جس پر اس خونریزی نے اپنا اثر نہ چھوڑا ہو۔ اس حوالے سے فاٹا سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے کیونکہ فاٹا دہشتگردوں کی آماجگاہ بنا رہا ہے جہاں سے وہ پورے ملک میں اپنی گھناؤنی سرگرمیاں کرتے تھے۔ دہشتگردوں کیخلاف کامیاب ملٹری آپریشن کے بعد پورے پاکستان نے سکھ کا سانس لیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایک طویل عرصے کے بعد پاکستانی تفریحی مقامات، فیسٹیولز، میوزیکل پروگرامز اور کھیل کے میدانوںکا رخ کر رہے ہیں۔ احتجاج کرنے اور اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرنے کا بھی یہ سب سے مناسب وقت ہے۔ بہت سے ماہرینِ سماجیات کی رائے میں احتجاج کرنے کا وقت وہ نہیں ہوتا جب حالات خراب ہوں بلکہ جب حالات ٹھیک ہو جائیں تو احتجاج کرنا مناسب ہوتا ہے۔ دہشتگردی کے خاتمے کے بعد فاٹا کے لوگ اپنے گھروں کو واپس لوٹ رہے ہیں اور یہی وہ وقت ہے جب وہ اپنے نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ان کے گھر، دکانیں اور مارکیٹیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں۔ ان کے کھیت اُجڑ چکے ہیں اور تمام مویشی مرگئے ہیں۔ سب سے بڑھ کر فاٹا کو واپس آنیوالے خاندان خود کو رُسوا محسوس کر رہے ہیں کیونکہ دہشتگردوں کی حمایت سمیت بہت سے الزامات ہیں جو ان تمام سالوں میں ان پر لگائے جاتے رہے ہیں اور آج بھی لگائے جا رہے ہیں۔ آج فاٹا کے لوگ اپنے اوپر لگائی جانیوالی پابندیوں کیخلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں کیونکہ وہ بھی ایک عام پاکستانی کی طرح زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور مرکزی دھارے میں اپنی شمولیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ نقیب اللہ محسود فاٹا کی عوام کی ان خواہشات کی انسانی شکل تھا اور اس نوجوان کے پولیس آفیسر راؤ انوار کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل نے محسود قبیلے کیساتھ ساتھ دیگر پختونوں کو بھی اپنے غم وغصے کو ایک منظم تحریک میں تبدیل کرنے کا موقع فراہم کر دیا۔ اس واقعے نے نہ صرف پختونوں کو متحد کر دیا بلکہ پورے ملک کی عوام کی توجہ بھی فاٹا کے احساسِ محرومی کی جانب موڑ دی ہے۔ پشتون لانگ مارچ کے ذریعے فاٹا کی عوام کے مطالبات کو قومی بیانئے میں شامل کر دیا گیا ہے جس سے فاٹا کے لوگوں کے مسائل کے حل کی ایک اُمید پیدا ہو چلی ہے۔ قبائلی نظام کو دہشتگردی کی جڑ سمجھا جاتا رہا ہے اور آج بھی صورتحال کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔ ایک پختون انتھرو پالوجسٹ اور سابق سول سرونٹ، اکبر ایس احمد، کے مطابق پوری مسلم دنیا میں دہشتگردی کا منبع قبائلی علاقے اور ان علاقوں کی ثقافت ہے۔ کئی سال پہلے کئے گئے اپنے ایک انٹرویو میں وہ کہتے ہیں ’’القاعدہ کی قیادت کا تعلق قبائلی معاشروں سے ہے اور القاعدہ میں شامل افراد میں سے95فیصد قبائلی ہیں اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ کرنیوالے 19میں سے 18ہائی جیکرز یمنی قبائلی تھے جن میں سے 12سعودیہ کے اسیر صوبے کے یمنی قبائل سے تعلق رکھتے تھے‘‘۔ اپنے تجزئیے میں وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اصل مسئلہ قبائلی ثقافت یا کلچر نہیں بلکہ وہ طریقہ ِکار ہے جس کے تحت پوری مسلم دنیا میں قبائلیوں سے سلوک کیا جاتا ہے اور انہیں مرکزی دھارے میں لانے سے گریز کیا جاتا ہے۔ وفاق یا مرکزی اتھارٹی کی جانب سے قبائلی کلچر کو جائز مقام فراہم نہ کرنے اور قبائلی روایات کو عزت کی نگاہ سے نہ دیکھنے کی وجہ ہی مسئلے کی اصل جڑ ہے۔ اگر فاٹا کی بات کی جائے تو قبائلی نظام کے حوالے سے فاٹا ملک کا واحد علاقہ نہیں جہاں پر رسوم ورواج قائم ہیں۔ تمام بنی نوعِ انسان اسی قبائلی نظام سے نکل کر آج یہاں تک پہنچے ہیں اور ہمارے ملک کے تمام علاقوں میں بھی ایک وقت میں یہی قبائلی نظام رائج تھا۔ فاٹا ایک طویل عرصہ پہلے ہی ملک کے دیگر پشتون علاقوں کیساتھ انضمام کیلئے تیار تھا لیکن ہماری حکومتیں فاٹا میں اصلاحات کے ایجنڈے کو ہمیشہ سے نظر انداز کرتی چلی آرہی ہیں۔ اس وجہ سے فاٹا میں ایک خلاء پیدا ہوا جس سے طالبان اور دیگر دہشتگرد گروہوں کو اس علاقے میں اپنے قدم جمانے کا موقع مل گیا۔ غربت کی شرح کے حوالے سے دیکھا جائے تو فاٹا اس وقت پاکستان کا غریب ترین علاقہ ہے جس میں انتہائی غریب آبادی کی اقلیت ایک غریب اکثریت کیساتھ رہتی ہے۔ ہر بحران کا ایک دن خاتمہ ہونا ہوتا ہے لیکن فاٹا کے بحران کے بارے میں یہ کہنا غلط ہوگا کیونکہ امن قائم ہونے کے باوجود بھی حکومت آج تک اصلاحات لانے اور ان پر عمل درآمد کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ اگرچہ فاٹا سے دہشتگردوں کا خاتمہ کر دیا گیا ہے لیکن امن کو لاحق خطرات مکمل طور پر ختم نہیںہوئے کیونکہ دہشتگردوں نے ڈیورنڈ لائن کی دوسری جانب اپنی پناہ گاہیں قائم کر لی ہیں۔ فاٹا کا پرانا قبائلی نظام اور جرگہ سسٹم مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے لیکن ابھی تک کوئی نیا نظام رائج نہیں کیا جا سکا جس کی وجہ سے مزید مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ ان حالات میں عسکری کی بجائے سویلین اداروں کو آگے آکر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا کیونکہ عسکری اداروں کی ذمہ داری علاقے میں امن قائم کرنے کے بعد ختم ہو جاتی ہے۔ دنیا کے ہر جمہوریت پسند معاشرے میں لوگ پُرامن احتجاج کے ذریعے ریاست کے سامنے اپنے مطالبات پیش کرتے ہیں اور فاٹا کے مکین بھی آج یہی کر رہے ہیں۔ آج جب دہشتگردی کا خطرہ ٹل چکا ہے تو فاٹا کے باشندے بھی ایک آئینِ پاکستان کے تحت اپنے حقوق چاہتے ہیں اور فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام چاہتے ہیں۔

(بشکریہ: دی نیوز، ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں