فریاد کریں تو کس سے؟

فریاد کریں تو کس سے؟

قارئین کرام سلام مسنون: بہت ساروں کے برقی سلام کے جواب میں وعلیکم السلام، گوکہ یکساں سلوک کے اصول کے تحت کالز کا جواب نہیں دیتی لیکن بعض اوقات کسی کی کال سننا پڑتی ہے۔ بعض ایسے امور پر بھی اصرار کرتے ہیں جن کو اصولی طور پر کالم میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ حیات آباد فیز6 سے ایک قاری نے کال کر کے پی ڈی اے میں ہونیوالے معاملات کی جو تفصیلات دی ہیں میں خواہش کے باوجود وہ مکمل تفصیل شامل نہیں کر سکتی، ایک آب رواں کی طرح کے لہجے میں انہوں نے بہت سے رازوں سے پردہ اُٹھایا، بہت سے مسائل و معاملات گوش گزار کئے۔ ان کو حیرت تھی کہ ایک نیب زدہ ڈپٹی ڈائریکٹر بی سی اے پی ڈی اے کا سوات تبادلے کی فائل چیف سیکرٹری کے دفتر میں کافی عرصے سے روک کیوں دی گئی ہے ۔ نیب کی تحقیقات میں ٹھہراؤ کیوں آگیا ہے۔ جن تین ڈائریکٹر جنرلز پی ڈی اے کیخلاف نیب نے تحقیقات کا عندیہ دیا ہے موصوف منتظر ہیں کہ کب اس بارے ٹھوس پیشرفت ہوگی اور ملی بھگت بے نقاب ہوگا ۔ ان کویہ بھی شکایت ہے کہ پی ڈی اے کا متعلقہ عملہ افسر کمرشل فلیٹس میں قانون کے مطابق کاروبار کرنے والوں کو تو ہر اساں کرتاہے مگران کو نواب مارکیٹ کے سامنے سڑک کنارے فٹ پاتھ پر دکانیں سجانے اور آلودہ پانی سے پودوں کے سوکھ جانے، آگ کی تپش اور چیزیں ادھر ادھر پھینکنے سے پودوں کے تنوں پر پڑنے والے زخم کے نشان نظر نہیں آتے۔ وہ جنہوں نے پوری مارکیٹ کے سامنے سڑک کی منڈھیر کے بھاری پتھر لاکر ڈال رکھے ہیں۔ نواب مارکیٹ کے سامنے کو نے والے پلاٹ کو کوڑا دان بنا رکھا ہے، ان کو ہٹانے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی جاتی مگر مسجد کی پشت پر واقع خالی پلاٹ میں سبزی و میوہ جات کے ٹھیلے لگانے والوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں، بقول ان کے جہاں کارروائی ہوتی ہے اور جہاں نہیں ہوتی دونوں کا مقصد بھتہ وصولی ہے۔ پی ڈی اے نے ایف 9 کی آدھی گلیاں پختہ کردیں، ایک ایسی گلی جہاں پی ڈی اے کا کوئی اہلکار رہتا ہے ان کے گھر کے سامنے تک کا راستہ پختہ کر کے باقی ادھور ا چھوڑ دیا ہے، غرض کئی قسم کی شکایات اس شہری کوتھیں۔ کیا وزیراعلیٰ پرویز خٹک اور سینئر وزیر بلدیات عنایت اللہ ان شکایات کا نوٹس لیں گے؟محکمہ تعلیم کے ذیشان ہدایت کا برقی پیغام ہے کہ اس بار اساتذہ کی آسامیوں کیلئے ہونے والے ٹیسٹ کے پیپرز پہلے سے ہی آئوٹ ہو چکے تھے، کئی اضلاع میں اُمیدواروں نے 98نمبرز بھی لئے۔ سیکریٹری ایجوکیشن نے نوٹس تو لیا مگر صرف ایک کیڈر کا ٹیسٹ منسوخ کر دیا، چاہئے یہ تھا کہ سارے ٹیسٹ منسوخ کر دیئے جاتے اور ٹیسٹ دوبارہ لیا جاتا۔بونیر سے تعلق رکھنے والے اسلامیہ کالج کے طالب علم محبوب علی کو ریپڈ بس منصوبے کے ٹریک کی تیاری منصوبہ بندی کے بغیر کرنے اور ٹریفک کے درہم برہم ہونے پر سخت ملال ہے ان کا ڈرائیور وں کے نام پیغام ہے کہ کم ازکم وہ صبر سے کام لیں اور باری کا انتظار کر کے ٹریفک کی روانی کو متاثر نہ ہونے دیں اور حادثات کی نوبت بھی نہ آنے دیں۔ بلاشبہ ان کے خیالات زریں سہی مگر صبر بھلا کس میں ہے سب سے بڑا مسئلہ ہی صبر وبرداشت کی کمی کا ہے۔عابد علی نے بھی این ٹی ایس ٹیسٹ کا طریقہ کار اور اس کی منسوخی کے مسئلے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے نوجوان نسل کو نااُمید ہونے سے بچانے کیلئے میرٹ اور شفافیت یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔ این ٹی ایس کے بارے میں دیگر کئی طالب علموں اور نوجوانوں کے بھی انہی خیالات پر مبنی ڈھیروں پیغامات ملتے رہتے ہیں، سنگین سے سنگین تر ہوتا یہ مسئلہ اب ہر سطح پر نوٹس کا حامل بن گیا ہے، انصاف کی دہائی دی جا رہی ہے مگر کوئی سنتا ہی نہیں۔ ایف آر بنوں سے شاکر وزیر کو شکایت ہے کہ خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کی جانب سے لیکچررز کی آسامیوں کیلئے ٹیسٹ لیا گیا تھا، نتائج آچکے تھے اور انٹرویو لیا جانا تھا کہ اچانک ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے تمام آسامیوں پر بھرتی ایٹا کے ذریعے کرانے کا اعلان کیا۔ ایٹا اور این ٹی ایس کا معیار وکردار کسی سے پوشیدہ نہیں ایسے میں ایسا کیوں کیا گیا سمجھ سے بالاتر ہے، اس سے تو اور بھی معاملہ مشکوک ہو گیا مگر پوچھتا کون ہے؟ اور پوچھنے والا کون۔میرے ایک قبائلی بھائی نے ایف سی آر پر کالم لکھنے کا حکم دیا ہے۔ ایف سی آر کے بارے میں اس سے زیادہ کیا لکھا جائے کہ اس فرنگی قانون کو جلد سے جلد ختم کر کے قبائلی علاقہ جات میں اصلاحات کا عملی نفاذ کیا جائے۔ صرف یہی نہیں قبائلی بھائیوں کے مسائل حل کرنے پر خاص توجہ دی جائے اور ان کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے مگر بکنے والے ممبران اور خریدی گئی سینیٹ کی سیٹ رکھنے والوں کی موجودگی میں ایسا جلد ہوتا نظر نہیں آتا۔ قبائلی عوام کو خود ہی جدوجہد کرنا ہوگی، اپنے ممبران کا گھیراؤ کرنا ہوگا۔میوڑہ داؤدزئی سے شکیل عابد یوتھ کونسلرز کو فنڈز کی عدم اُجرات پر سخت نالاں ہیں۔ جمہوری حکومتوں میں بلدیاتی نظام بس نام کا نظام ہے ان کو بجٹ اور فنڈز نہیں ملتے، اس کیلئے بھی ان کو جدوجہد کرنا پڑتا ہے، ایسے میں وہ عوامی مسائل حل کیا کریں گے۔ایک معذور بھائی رازی خان خیبر پختونخوا حکومت سے اپنے علاج معالجے کیلئے باربار رابطوں کے باوجود مایوس ہو کر پنجاب حکومت سے اپیل پر مجبور ہوئے ہیں۔ خصوصی گزارش ہے کہ ازراہ کرم ان سے0334-9129011 پر رابطہ کر کے ان کی اشک شوئی کی جائے اور ان کا صوبے ہی میں علاج کیا جائے، بصورت دیگر میں بھی ان کی طرح پنجاب حکومت سے ہی اپیل پر مجبور ہو جاؤں گی۔مسائل کی بھرمار اور توقعات بے شمار ہیں۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ لوگ چیختے اور فریاد کرتے رہ جاتے ہیں ان کو سننے والا کوئی نہیں، نہ سرکاری افسران، نہ سرکاری عملہ اور نہ ہی حکمران۔ فریاد کریں تو کس سے کریں۔
قارئین 03379750639
پر میسج اور واٹس ایپ کر سکتے ہیں۔

اداریہ