نوٹ کو عزت دو

نوٹ کو عزت دو

کے ذریعے خرید وفروخت کی عالمی ایجنسی OLX کا پاکستان میں دلچسپ ماٹو کچھ یوں ہے ’’یہاں سب بکتا ہے‘‘۔ سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں جو کہانیاں سننے کو مل رہی ہیں وہ اس ماٹو کی معمولی لفظی ترمیم کے بعد حالات پر صادق آتا ہے۔ یہ ترمیم یوں بھی ہو سکتی ہے کہ ’’سینیٹ،جہاں سب بکتے ہیں‘‘۔ اس الیکشن میں سامنے آنیوالی کہانیوں کو سنا جائے تو سب نہیں تو ارکان پارلیمنٹ کی اچھی خاصی تعداد اپنا ضمیر فروخت کر چکی ہے۔ یہ ہے وہ آئیڈیل ’’برطانوی‘‘ جمہوریت جو آج سڑکوں پر اپنے لئے مطلق اختیار طلب کرتی ہوئی ماری ماری پھرتی ہے۔ حال اس جمہوریت کا یہ ہے کہ پوری کی پوری جماعت کاغذ کے ٹکڑوں پر منقولہ وغیر منقولہ جائیداد کی طرح اگلی نسلوں کو منتقل ہوتی ہے اور چاہتے ہم یہ ہیں کہ برطانوی وزیراعظم ٹریسامے جیسی طاقت اور اختیار حاصل ہو۔ ٹریسامے کے لباس اور بظاہر دکھائی دینے والے اختیار کے پیچھے چیک اینڈ بیلنسز اور مجبوریوں کی کتنی دردناک کہانی ہے اس پر ہم نے کبھی غور نہیں کیا، اسلئے ہماری نظر ظاہری چکا چوند پر ہے اور اگر ہم ٹریسامے کے پیروں میں پڑی ہوئی غیر محسوس اور نادیدہ بیڑیاں دیکھیں گے تو پھر ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا بھی احساس کرنا ہوگا، اسلئے ہم زمانے سے بس یہ مطالبہ دہرائے چلے جا رہے ہیں کہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘۔ بھلا کبھی ووٹر کو عزت دینے کا خیال بھی ہماری سیاسی اشرافیہ کے ذہنوں میں آتا ہے۔ ووٹر کا کام ہماری لغت میں صرف اتنا ہے کہ علاقے، برادری، روپے پیسے یا کسی بھی بنیاد پر ووٹ دے کر پولنگ بوتھ سے نکلنے والے آدمی کا کام پانچ سال یا اگلے انتخاب تک ختم ہوگیا۔ اس کی صحت، تعلیم اور روزگار سمیت اب سب کام آنیوالے وقت کے حوالے۔ ووٹ ایک بے جان پرچی ہے جو عزت اور بے عزتی کے تکلفات سے بے نیاز ہے۔ اصل احترام اور تقدس کے مستحق وہ ہاتھ ہیں جو اس کا استعمال کرتے ہیں، جنہیں حکمران اشرافیہ عملی طور ذلت کی پستیوں میں دھکیلتی چلی جاتی ہے۔ غیر ملکی قرضوں سے لیکر بجٹ اور منی بجٹ کے نام، رزق اور روزگار کے ذرائع محدود کرکے ان پر ذلت کا ہر تازیانہ برسایا جاتا ہے مگر جب طاقت نمائی کا مرحلہ آئے تو انہیں ہجوم کی شکل میں جمع کرکے متعلقہ قوتوں پر دھاک بٹھا دی جاتی ہے۔

سینیٹ پارلیمانی جمہوریت کا ایوان بالا اور اہم ستون ہے۔ یہ تصور برطانوی دارالامرا سے لیا گیا ہے۔ جس میں تجربہ کار، فہمیدہ، زمانہ شناس ماہرین، ٹیکنوکریٹس، اہل علم منتخب کئے جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو یا تو انتخابات لڑنے کی سکت نہیں رکھتے یا پھر اس جھنجٹ میں پڑنے سے گریزاں رہتے ہیں مگر ریاست اور جمہوری نظام کو ان کی فہم رسا، دانش اور تجربے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایوان زیریں اگر گرم برقی تار ہوتا ہے تو ایوان بالا ایک ٹھنڈی تار جو اس گرمی اور تندی کو کنٹرول کر تی ہے۔ اب صرف یہ راستہ باقی رہ گیا ہے کہ سینیٹ کو صرف دولت مندوں کیلئے وقف کیا جائے۔ پارلیمنٹ کا فروخت ہونیوالا ہر ممبر ووٹ کو عزت دینے کے اس عمل میں کروڑ پتی بن بیٹھا۔ خیبر سے کراچی تک فروخت ہونیوالوں کا ریٹ کروڑوں میں رہا گویا کہ کھیل اب لاکھوں میں بھی نہیں رہا۔ سب سے حیران کر دینے والی خبر فاٹا سے آئی ہے جہاں ووٹ کو یوں عزت ملی کہ اسے انتہائی مہنگے داموں فروخت کیا گیا اور یہ قیمت فی ووٹ چار کروڑ رہی۔ ہر گزرتے دن کیساتھ بولی بڑھتی چلی گئی یہاں تک کہ بات چار کروڑ تک جا پہنچی۔ حد تو یہ کہ جن ارکان نے اپنی پارٹی کے اُمیدواروں کو ووٹ دئیے حکمران جماعت نے انہیں وفاداری نبھانے کے انعام کے طور پر تین تین کروڑ روپے دئیے۔ ارکان سینیٹ کے انتخاب کا یہ معرکہ نوٹوں کی جھنکار میں اختتام پزیر ہوا اور اب چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کا بازار سج گیا ہے۔ کسی بھی جماعت کو چیئرمین منتخب کرانے کیلئے 53 ووٹ درکار ہیں۔ مسلم لیگ ن کے پاس اڑتالیس ووٹ ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری یہ کہہ کر ابا حضور کے ہاتھ کا کمال دکھانے کا اشارہ دے چکے ہیں کہ پیپلز پارٹی سب سے بڑی پارٹی ہے اور ہم اپنا چیئرمین لائیں گے۔ یہ مسلم لیگ ن کے رنگ میں بھنگ ڈالنے والی بات ہے اور اس ایک جملے کے بعد ووٹ کو اس قدر عزت ملنے کا امکان موجود ہے کہ سینیٹ انتخاب میں فاٹا کے ارکان کی طرف سے ووٹ کو عزت دینے کا ریکارڈ بھی ٹوٹ جائے گا۔ ووٹ کو عزت دینے کا مطلب شاید اب یہی باقی رہ گیا ہے کہ اس کی قیمت زیادہ سے زیادہ ہو۔ معزز عوامی نمائندوں اور جمہوری ایوانوں کو تاریخ کے کسی بھی دور میں کوئی قاضی حسین احمد گندگی کا ڈھیر قرار دے یا کوئی عمران خان گند قرار دے اس پر تیوری چڑھانا بنتا نہیں۔

اداریہ