کامریڈ جام ساقی کا نوحہ

کامریڈ جام ساقی کا نوحہ

دانشور، پُرعزم سیاسی رہنماء متعدد کتابوں کے مصنف، سندھ دھرتی کے فرزند کا مریڈ جام ساقی (1944- 2018) رخصت ہوئے، سندھی اجرک اور سرخ پرچم کفن پر اوڑھے سندھ کا بیٹا دھرتی ماں کی گود میں سوگیا۔ سوموار کی صبح گھر سے دفتر کے راستے میں تھا جب کامریڈ جام ساقی کے سانحہ ارتحال کی خبر ملی۔ مجھے بے اختیار عربی کے بے مثل شاعر عمرو بن کلثوم کی موت پر لکھا گیا مرثیہ یاد آگیا ’’ہر وہ قبیلہ اُسے روئے جن کے دریا میں قحط سالی کا دور دورہ ہو۔ جب وہ صف اعدا کے مقابل آتا تھا تو۔۔ اس کا دبدبہ اور خوف۔۔ اُن کے جھتے کو روک دیتا تھا۔۔ اور وہ منتشر ہو جاتے تھے۔۔ مجھے اپنی زندگی کی قسم۔۔ تیرے جانے سے۔۔ بہت سارے کام بگڑ گئے۔۔ اور جن وادیوں کا تو دفاع کیا کرتا تھا۔۔ وہ پامال ہوگئیں‘‘۔ سچ یہی ہے کہ زمین زادوں کا مرد میدان مٹی کی چادر اوڑھ کے سوگیا۔ ایسا کہا ں سے لائیں گے جو چاراور کے لوگوں کے دُکھ بلا امتیاز بانٹے۔ ہائے ہم اپنے عہد کا نوحہ کیسے لکھیں۔ آدمیوں کے جنگل میں زندہ پورا انسان رخصت ہوا۔ کامریڈ جام ساقی، حریت فکر کا چندے آفتاب۔ کس بانجھ عہد میں زندگی جینے کی سزا کاٹ رہے ہیں ہم۔ دن بھر پاکستانی ذرائع ابلاغ کے چینل بدل بدل کر فقط یہ دیکھتا رہا کہ کوئی چینل 20ویں صدی کے اس عہد ساز انسان کا اپنے ناظرین سے تعارف کروائے گا اور بتائے گا۔ 31اکتوبر1944ء کو چھاچھرو ضلع تھر پارکر سندھ کی ایک دو افتادہ گوٹھ (بستی) جنجھی سیف اللہ میں جنم لینے والے کامریڈ جام ساقی کا سفرحیات تمام ہوا لیکن ان کی فکر، جدوجہد، قربانیاں اور فرزانگی اس دھرتی کے سچے اور اُجلے زمین زادوں کا لہو گرماتی رہے گی۔ افسوس کہ ہمارے ذرائع ابلاغ کے پاس نفسیاتی مریضوں اور ان کے کتوں کا ذکرکرنے کو بہت وقت ہے، نہیں ہے تو ان اُجلے زمین زادوں کیلئے جنہوں نے اپنا کل ہمارے آج پر اس شان سے وارا کہ اس کی دوسری مثال نہیں ملتی۔شاہ لطیف ؒ بجا کہتے تھے ’’زمانے کے ڈھنگ اور ہیں اور اس کیساتھ غلاموں کی طرح بھاگتے ہوؤں کے اس سے بھی بُرے‘‘۔ جام ساقی اپنی مثال آپ تھے اور رہیں گے۔ زندگی استقامت اور شان سے جئے۔ اپنی صلیب کاندھوں پر اُٹھائے وہ سات دہائیوں تک پُرعزم انداز میں ایک ایسے سماج اور نظام کی تشکیل کیلئے جدوجہد کرتے رہے جو مساوات، انصاف، مکالمہ، علم اور اخوت میں بے مثال ہو۔ این ایس ایف۔ ڈی ایس ایف۔ ایس این ایف۔ کمیونسٹ پارٹی آ ف پاکستان۔ ہاری تحریک۔ پیپلز پارٹی (پیپلز پارٹی میں وہ 1990ء کی دہائی میں شامل ہوئے تھے) سات دہائیوں کی پُرعزم جدوجہد کی داستان لکھنے کیلئے کالم کے دامن میں گنجائش نہیں ہے۔ مجھ سے طالب علم کو ان سے چند ملاقاتوں کا شرف بھی ملا وہ ایسے نفیس اور نظریاتی انسان تھے جو ان سے ملتا ان کا ہو کر رہ جاتا۔ فقیر راحموں اور میں پچھلے کئی گھنٹوں سے کامریڈ جام ساقی کی باتیں کر رہے ہیں۔ چند ساعتیں قبل فقیر راحموں نے کہا۔ شاہ جی ہمارا کامریڈ جام ساقی دیوتاسمان تھا۔ عہد نفساں میں پلی بڑھی مخلوق کو کیا معلوم کہ کتنا بڑا انسان ان کے درمیان سے اُٹھ گیا۔ کامریڈ جام ساقی کی وفات پر چند تعزیتی سطور سوشل میڈیا پر لکھیں، ایک نوجوان نے سوال کیا انکل یہ کون تھے؟ میں نے کبھی ان کا نام نہیں سنا؟۔ آنکھیں نم ہوگئیں۔ کیا عہد ہے جو اپنے بے مثال فرزندوں کے ذکر سے خالی ہے۔دوبار بغاوت کے مقدمات کا سامنا کیا، پہلی بار یحییٰ کے مارشل لاء میں ان کیخلاف بغاوت کا مقدمہ چلا وہ گرفتار نہ ہو پائے یہ مقدمہ ان کی غیر حاضری میں چلا تھا۔دوسری بار تیسرے مارشل لاء (ضیاء الحق کے دور) میں بغاوت کا مقدمہ چلا، خصوصی عدالت کو انہوں نے گواہان صفائی کی جو فہرست دی اس میں خان عبدالولی خان، فتح یاب علی خان اور محترمہ بینظیر بھٹو بھی شامل تھیں۔ قیدی بینظیر بھٹو کو ملزم کامریڈ جام ساقی کے مقدمہ میں صفائی کابیان دینے کیلئے خصوصی فوجی عدالت لیجایا گیا۔ عدالت کے سربراہ نے بینظیر بھٹو کو بیان دینے کیلئے کہا، کامریڈ جام ساقی نے مداخلت کی۔ کمرہ عدالت میں سکوت چھا گیا۔ فوجی عدالت کے سربراہ کو مخاطب کرتے ہوئے جام ساقی نے کہا۔ یہ سندھ کی دھرتی ہے اور ہم سندھیوں کی روایت ہے بیٹیوں کو کھڑا نہیں رکھتے۔ کرسی منگوائیں سندھ کی بیٹی بیٹھے گی، پھر عدالتی کارروائی شروع ہو سکے گی۔ کرنل نے حیرانی سے چند لمحوں تک ہتھکڑی پہنے ملزم کو دیکھا پھر اردلی کو اشارہ کیا، دو کرسیاں عدالت میں رکھی گئیں ایک پر بینظیر بھٹو بیٹھیں پھر بیان شروع ہوا۔ بینظیر سمیت صفائی کے سارے گواہوں نے بغاوت کے مقدمے کو ریاستی جبر قرار دیتے ہوئے جام ساقی کو ایک سچا اور بہادر اور انسان دوست محب وطن قرار دیا۔ ایک ملاقات ان سے سال 1995ء میں ہوئی وہ لاہور تشریف لائے تھے، ان دنوں ’’مشرق‘‘ میں چھپنے والے ممتاز علی خان بھٹو کے ایک انٹرویو پر سندھ کے سیاسی حلقوں میں بھونچال آیا ہوا تھا۔ کامریڈ جام ساقی کی نظر جونہی مجھ پر پڑی تو لپک کر سینے سے لگاتے ہوئے بولے۔ شاہ کمال کر دیا تو نے ممتاز بھٹو والے انٹر ویو میں نقاب کھینچ لیا اس بہروپئے کے چہرے سے۔ کافی دیر تک وہ پرانی یادیں تازہ کرتے رہے۔74برسوں کی زندگی جی کر وہ رخصت ہوگئے۔ پچھلے کئی گھنٹوں سے سوچ رہا ہوں ترقی پسند جدوجہد کی تاریخ دھرتی ماں کی گود میں اُتر گئی۔ جمہور کی حکمرانی کا سورج کب طلوع ہوگا۔ کامریڈ جام ساقی رخصت ہوئے اندھیرا اور بڑھ گیا ہے اور حبس بھی۔

اداریہ