Daily Mashriq

یو نین کونسل فقیر کلے پجگی کے مکین بنیادی سہولتوں کوترس گئے

یو نین کونسل فقیر کلے پجگی کے مکین بنیادی سہولتوں کوترس گئے

پشاور(کاشف الدین سید)پشاور کا یونین کونسل فقیر کلے پجگی شہر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے لیکن یہاں صفائی کا مناسب انتظام ہے نہ نکاسی کا بلکہ مقامی باشندوں کو پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں علاقہ کے رہائشی بجلی گیس کی لوڈشیڈنگ اور صحت وتعلیم کے مسائل سے دوچار ہیں ڈبلیو ایس ایس پی نے صفائی اور گندگی اٹھانے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیا ہے جبکہ بلدیاتی ادارے بھی ناکام نظر آرہے ہیں ان خیالات کااظہار یونین کونسل فقیر کلے پجگی کے مکینوں نے مشرق ٹی وی کے پروگرام ''مشرق فورم'' میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر علاقہ کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے سابق کونسلر ظاہر گل نے کہا کہ علاقہ صوبائی دارالحکومت سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے لیکن یہاں شہر کے مقابلے سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں علاقے میں بجلی اور سوئی گیس کی لوڈ شیڈنگ کے علاوہ کم وولٹیج کا مسئلہ بھی درپیش ہے اس سلسلے میں کئی بار احتجاج ہوچکا ہے بلکہ کئی افراد کو جیل کی ہوا بھی کھانی پڑی چیف ایگزیکٹوپیسکو نے وعدے کئے جو پورے نہیں کئے گئے انہوں نے کہاکہ گیس کے میٹر لگے ہیں اور صارفین بل بھی ادا کر رہے ہیں لیکن گیس نہیں ہے چوبیس گھنٹوں میں محض چند لمحوں کے لئے گیس بحال ہوجاتی ہے مقامی ویلج کونسل کے ناظم میاں اکمل نے کہا کہ فقیر کلے چوک ایک اہم کاروباری مرکزہے جس پر اردگرد کے وسیع علاقے کا دارومدار ہے لیکن مین بازار میں صفائی کا کوئی انتظام نہیں استعمال شدہ پانی چوک میں کھڑا رہتا ہے انہوں نے کہاکہ مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت صفائی کا انتظام کیا ہے جبکہ گندگی منتقل کرنے کیلئے گاڑیاں بھی کرائے پر حاصل کی ہیں اس حوالے سے حکومت نے کوئی تعاون نہیں کیا، ویلج کونسل نمبر دو کے ناظم ملک نعیم نے کہا کہ بجلی کے مسئلے پرماضی میں یہاں پر تشدد احتجا ج ہواہے اب بھی اگر لوگوں کے مسائل حل نہ ہوئے تو ایک بار پھر واپڈا ہائوس کا گھیرائو کیا جائیگا، ویلج کونسل مندرہ خیل کے ناظم مختیار خان نے کہا کہ ان کے علاقے میں ایک پرائمری سکول کی عمارت مکمل ہے لیکن محض افتتاح اور تختی لگانے کی خاطر اسے نہیں کھولا جارہا ہے اور بچے اس عمارت میں تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں مقامی تاجرتنظیم کے صدر صاحب روز نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دکانداروں پر ٹریڈ ٹیکس عائد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس کی تاجروں نے مزاحمت کی ہے کیونکہ یہاں دکانداروں کو کوئی سہولت نہیں دی گئی یہاں تک کہ انہیں سیکورٹی کا انتظام بھی خود کرنا پڑتا ہے بازار کی صفائی اور گندگی ٹھکانے لگانے کا انتظام مقامی تاجروں نے اپنی مدد آپ کے تحت کیا ہے اس حوالے سے ٹائون ناظم نے گاڑٰیاں دینے وعدہ کیا تھا لیکن یہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا انہوں نے کہا کہ دکاندار ٹیکس دینے کے لئے تیار ہیں لیکن اگر حکومت ٹیکس کے بدلے انہیں سروسز اور سہولیات فراہم کرے مقامی لوگوں نے بتایا کہ علاقے میں کوئی گرلز سکول نہیں جس کی وجہ طالبات گڑھی فاضل جانے پر مجبور ہیں انہیں آمد ورفت میں کافی مشکلات درپیش ہیں انہوں نے کہا کہ گڑھی فاضل سکول کے لئے پچھلے سال حکومت نے 20عدد پنکھے فراہم کئے تھے جو غائب ہیں مکینوں کا کہنا تھا کہ علاقے میں دو بیسک ہیلتھ یونٹ موجود ہیں لیکن لوگ اس سے استفادہ نہیں کر سکتے کیونکہ یہاں دوائی ہے نہ لیبارٹری اور ایکسرے مشین۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ لوگوں ان کے دہلیز پر علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کی دعویدار حکومت مقامی طبی مراکز کی حالت بہتر بنائے اور بی ایچ یو کو رورل ہیلتھ سنٹر کا درجہ دیا جائے۔ مکینوں کا کہناتھا کہ بینظیر ویمن یونیورسٹی بھی اسی علاقے میں قائم ہے جس کے لئے فقیر کلے کی سڑک استعمال ہورہا ہے یونیورسٹی کی بڑی گاڑیوں کی آمد ورفت کی وجہ صبح اور چھٹی کے وقت ٹریفک جام ہوجاتی ہے جسے بحال کرنے کے لئے تاجروں نے مقامی نوجوانوں کی ڈیوٹی لگائی ہے ٹریفک پولیس کو اس حوالے سے کئی بار متوجہ کیا گیا لیکن وہ اس مسئلے سے چشم پوشی کر رہے ہیں انہوں مطالبہ کیا کہ ٹریفک روان دواں رکھنے کے لئے دو اہلکار متعین کئے جائیں ۔

متعلقہ خبریں