افغان فورسز کی جارحیت

افغان فورسز کی جارحیت


ابھی چند روز پہلے ہی پاکستان کے پارلیمانی وفد کے دورہ کابل اور سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی سربراہی میں وہاں صدر اشرف غنی' عبداللہ عبداللہ اور دیگر اہم رہنمائوں سے ملاقاتوں میں دونوں ملکوں کے مابین کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے پر اتفاق رائے اور صدر اشرف غنی کے دورہ پاکستان پر آمادگی کے صرف دو دن بعد ہی افغان صدر اشرف غنی کے یوٹرن لیتے ہوئے دورہ پاکستان کو یکسر مسترد کرنا جہاں دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کی بحالی پر سوالیہ نشان بن گیا تھا اس کے بعد گزشتہ روز چمن میں پاک افغان مشترکہ بارڈر پر مردم شماری کے عملے پر بلا وجہ گولہ باری اور فائرنگ نے کئی سوال اٹھا دئیے ہیں۔ اس اچانک حملے کے نتیجے میں گیا رہ پاکستانی شہید اور 50 کے قریب زخمی ہو چکے ہیں۔ اگرچہ مردم شماری کے حوالے سے افغان انتظامیہ کو بروقت اطلاع کردی گئی تھی مگر اس کے باوجود جبکہ پاکستانی افواج کی نگرانی میں سول عملہ مردم شماری میں مصروف تھا اس پر حملے کو بجا طور پر بزدلانہ کارروائی قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس واقعے کے بعد پاکستانی افواج نے جوابی کارروائی کی اور دونوں طرف سے شام تک گولہ باری اور فائرنگ جاری رہی جبکہ اس واقعے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی فضائیہ کو بھی الرٹ کردیاگیا تھا تاہم بعد میں دونوں ملکوں کے ذمہ دار افراد کے مابین ہاٹ لائن رابطے کے بعد فائرنگ روک دی گئی تھی جبکہ طورخم میں بھی سرحد پار سے فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ادھر افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے انہیں احتجاجی مراسلہ بھی حوالے کردیاگیا اور نہ صرف چمن بارڈر بلکہ طورخم سرحد کو بھی غیر معینہ مدت تک کے لئے بند کرکے پیدل سرحد پار کرنے والوں پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے امن کوششوں کے منافی قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ بھارت اپنے نفرت آمیز منصوبوں کے لئے پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کو استعمال کر رہا ہے۔ افغان حکام کو چمن بارڈر کے علاقوں میں ہونے والی مردم شماری سے پہلے ہی آگاہ کردیا گیا تھالیکن اس کے باوجود افغان فورسز کی جانب سے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیاگیا جو ناقابل برداشت ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ افغانستان کے اندرونی حالات تحریک طالبان افغانستان کے جنگجوئوں کی سرگرمیوں میں بتدریج اضافے کی وجہ سے دگر گوں ہوتے جا رہے ہیں اور آئے روز کے طالبان حملوں نے افغانستان میں امن و امان کی صورتحال کو خطرات سے دو چار کر رکھا ہے۔ د وسری جانب چونکہ بھارت افغانستان میں کثیر سرمایہ کاری کر رہاہے اس لئے افغان حکمرانوں کو بھارت کی خواہشات کے آگے گھٹنے ٹیکنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ بھارت اپنے اندرونی حالات خصوصاً مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک میں شدت آنے سے سخت پریشان ہے اور خود بھارت کے سیاسی رہنما بھارتی حکومت کو متنبہ کر رہے ہیں کہ وہ آزادی کشمیر کو فوجی نکتہ نظر سے نہیں بلکہ بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرے کیونکہ کشمیر کا مسئلہ فلیش پوائنٹ پر پہنچ چکا ہے۔ اسی حوالے سے پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے گزشتہ روز کہا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج نے اپریل کے مہینے میں 25کشمیریوں کو شہید کیا ' 646 کشمیری زخمی ہوئے۔ 447 کشمیری حریت رہنمائوں اور طالب علموں کو گرفتار کر لیا گیا۔ میڈیا بلیک آئوٹ کے باعث اطلاعات دینا تک نہیں پہنچ پا رہیں جبکہ بھارتی بربریت کی ویڈیوز اب منظر عام پر آرہی ہیں۔ یہی وہ حالات ہیں کہ نہ صرف افغانستان کے حکمران خود اپنے اندرونی حالات سے توجہ ہٹانے کے لئے پاکستان کے خلاف جارحیت کرکے اور پاکستان پر الزامات لگا کر اپنی جارحیت کو جائز قرار دینے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں جبکہ بھارت سے ڈکٹیشن لے کر پاکستان کے خلاف اقدامات کے ذریعے بھارت کو یہ مواقع بہم پہنچا رہے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ہارتی ہوئی جنگ سے دنیا کی توجہ ہٹانے میں کامیاب ہو جائے۔ تاہم افغان حکمرانوں کو یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ اس کا امن پاکستان کی ضمانت کے بغیر ممکن نہیں اور پاکستان بھی یہ بات بخوبی سمجھتا ہے کہ افغانستان میں صورتحال معمول پر آنے اور وہاں امن کے قیام سے ہی پاکستان میں بھی صورتحال معمول پر آسکتی ہے۔ اس لئے پاکستان کی ہمیشہ سے یہی کوشش رہی ہے کہ افغانستان کے ساتھ ہمارے تعلقات خوشگوار' دوستانہ اور اچھی ہمسائیگی والے ہوں کیونکہ افغانستان ایک لینڈ لاک ملک ہونے کے ناتے اپنی تجارتی سرگرمیوں کے لئے پاکستان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے کیونکہ دوسرے راستوں سے اس کی تجارتی سرگرمیاں اسے مہنگی پڑتی ہیں جبکہ پاکستان بھی وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارتی روابط اور خصوصاً تاپی منصوبے کے لئے افغانستان کے تعاون کا طلب گار ہے۔ اس لئے دونوں کے مابین برادرانہ تعلقات ہی دونوں کے مفادات کے مطابق ہوسکتے ہیں نہ کہ محاذ آرائی سے بلا وجہ کشیدگی پیدا کی جائے۔

اداریہ