Daily Mashriq


جے آئی ٹی کی تشکیل 

جے آئی ٹی کی تشکیل 

سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس کی تحقیقات کیلئے چھ رکنی تحقیقاتی ٹیم کا اعلان کر دیا ہے۔ ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل واجد ضیا ٹیم کے سربراہ ہوں گے۔ کمیٹی میں سٹیٹ بنک، سیکورٹی ایکسچنج کمیشن ، قومی احتساب بیورو ، جبکہ فوج کے ادارے آئی ایس آئی اور ایم آئی کے اعلیٰ افسران بطور ممبر شامل کئے گئے ہیں ۔ سپریم کورٹ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس تحقیقاتی ٹیم کا مرکزی دفتر فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں قائم کیا جائے گا ۔عدالت نے حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ اس تحقیقاتی ٹیم کیلئے ابتدائی طور پر دو کروڑ روپے کا بندوبست کرے تاکہ انہیں کوئی پریشانی نہ ہو جبکہ سیکر ٹری داخلہ کو تحقیقاتی ٹیم کی سیکورٹی کیلئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھانے کا حکم بھی دیا ہے ۔ یہ تحقیقاتی ٹیم دوماہ میں اپنی تفتیش مکمل کرنے کی پابند ہوگی ، جہاں تک تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کا تعلق ہے یہ سپریم کورٹ کے پانامہ لیکس معاملے پر دیئے جانے والے فیصلے کے عین مطابق ہے اور ٹیم کی تشکیل میں سپریم کورٹ نے حد درجہ احتیاط کا جو مظاہرہ کیا ہے اور متعلقہ اداروں کی جانب سے ابتدائی طور پر اپنے نمائندوں کے نام پیش کرنے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں رد کرنے اور خودا پنی مرضی کے افراد چننے میں جس عرق ریزی سے کام لیا وہ یقینا قابل ستائش ہے کیونکہ اب جو ٹیم فاضل عدالت نے فائنل کردی ہے اس کے ارکان پر کسی بھی جانب سے جانبداری کے الزامات لگنے کے امکانات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ امید کی جا سکتی ہے کہ ٹیم کے ارکان اپنی قومی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے اور ملک وقوم کے بہترین مفاد اور ملک سے کرپشن کو جڑوں سے اکھاڑنے کیلئے صاف شفاف تحقیقات کے ذریعے نہ صرف پانامہ کیس کے حوالے سے حقائق منظر عام پر لانے میں کامیاب ہو جائیں گے بلکہ ملک میں ایسی روایت کی ابتداء کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے کہ آئندہ کسی کوبھی نہ تو کرپشن کرنے کی ہمت ہو سکے نہ ہی کسی بے گناہ پر بے جا الزامات لگا کر اسے بلاوجہ بد نام کرنے کی روایت بھی جنم لے سکے ، کیونکہ اگر ایک جانب ابھی تک ایک فریق پر الزامات ثابت نہیں ہو سکے تو دوسرے فریق کا بلاوجہ واویلا بھی سیاسی فضا کو مکدرکر رہا ہے ، حکومت کا بھی فرض ہے کہ وہ فاضل عدالت کے احکامات کی پابندی کرتے ہوئے جے آئی ٹی ٹیم کو ضروری سہولیات فراہم کرنے میں مکمل تعاون کرے ، تاکہ دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی ہونے میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے ۔

متعلقہ خبریں