حیات آباد کی کایا کلپ

حیات آباد کی کایا کلپ

صوبائی حکومت نے حیات آباد کو جدید سمارٹ سٹی بنانے کی تجویز کو عملی جامہ پہنا نے کیلئے پی ڈی اے کو چینی کمپنی کے ساتھ مل کر منصوبے پر کام کرنے کی ہدایت کی ہے ، منصوبے کے تحت حیات آباد کو ایک جدید اور خوبصورت شہر میں تبدیل کیا جائے گا ، جبکہ جنرل بس سٹینڈ چمکنی کیلئے80کنال اراضی حکومت نے خرید لی ہے ، موجودہ جنرل بس سٹینڈ کی جگہ سی پیک ٹاور اور شاپنگ پلازہ بنایا جائے گا ۔ ان خیالات کا اظہار سینئر صوبائی وزیر بلد یات و دیہی ترقی عنایت اللہ خان نے یونیگ کی قیادت میں آنے والے چین کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا ، امر واقعہ یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی قیادت میں چین کے دورے میں متعدد ایم او یوز پر دستخط ہونے اور چینی سرمایہ کاروں کو صوبے میں مختلف پراجیکٹس میں سرمایہ کاری پر آمادہ کرنے کے بعد صوبے میں ترقیاتی کاموں میں تیزی لائی جارہی ہے ان منصوبوں پر عمل در آمد سے صوبے میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور بے روز گاری میں کمی ہونے سے عوام کی حالت میں بہتری کے امکانات روشن ہیں۔ چین کے اشتراک سے صوبے میں چھوٹی بڑی صنعتیں لگائی جائیں گی ، سینئر صوبائی وزیر کے مطابق لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے چینی حکومت سے معاہدہ کیا گیا ہے ، اور اس کے مطابق ہم پشاور کے پرانے جنرل بس سٹینڈ کی جگہ سی پیک ٹاور اور شاپنگ پلازہ بنارہے ہیں ، جبکہ جنرل بس سٹینڈ کو چمکنی تک پہنچا یا جائے گا ۔جہاں تک حیات آباد کی کایا کلپ کا تعلق ہے اگرچہ اس جدید بستی کی تعمیرات میں جدت کو پہلے ہی پیش نظر رکھا گیا ہے ، خوبصورت اور بڑی شاہراہوں کی وجہ سے اس میں وہ تمام تر سہولتیں پہلے ہی سے موجود ہیں جن کے بارے میں عوام توقعات رکھتے ہیں ، تاہم اس کو جدید اور سمارٹ سٹی کے طور پر کن تبدیلیوں کا مرقع بنایا جائے گا اگر صوبائی حکومت اس حوالے سے منصوبے کی تفصیلات بھی میڈیا کے ذریعے عام کر دے تو عوام کو ان سے آگہی ہو سکے گی ۔ اسی طرح بس سٹینڈ کو چمکنی تک لے جانے سے اگرچہ موجودہ بس سٹینڈ کو تو سی پیک ٹاور میں تبدیل کر دیا جائے گا تاہم بس سٹینڈ کو چمکنی تک پہنچا نے سے عام غریب لوگوں پر اخراجات مزید بڑھ جائیں گے اور انہیں بس سٹینڈ تک آنے جانے کیلئے اضافی کرایہ ادا کرنا پڑے گا ۔ اس لئے پھر بہتر یہ بھی ہوگا کہ سرکاری سطح پر شہر کے اندر سے لوکل بس سروس چلائی جائے تاکہ عوام کو وہاں تک پہنچنے میں مشکلات نہ ہوں ۔

اداریہ