چمن کے سرحدی علاقے پر افغان فورسزکا حملہ

چمن کے سرحدی علاقے پر افغان فورسزکا حملہ

افغانستان ایک عرصہ سے جنگ زدہ ملک ہے۔ آج بھی وہاں جنگ جاری ہے۔ یہ بات عام معلومات میں ہے کہ افغان طالبان ملک کے چالیس فیصد حصہ پر قابض ہیں۔ یعنی ملک کے چالیس فیصد حصے پر افغانستان کی کابل حکومت کی رٹ نہیں ہے۔ اب یہ بھی کہا جارہا ہے کہ داعش نے بھی ملک کے دس فیصد حصے پر اپنا تسلط قائم کر لیا ہے۔ افغان طالبان کی تحریک کا مقصد افغانستان کو غیر ملکی افواج سے پاک کرنا ہے۔ لیکن داعش کا ایجنڈا کیا ہے یہ کسی پر واضح نہیں ہے۔ ان کا تعارف سفاکیت اور بہیمیت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ساری دنیا میں اپنی طرز کا نظام خلافت رائج کرنا چاہتے ہیں۔ یعنی افغان طالبان کا ایجنڈا ملک گیر اور داعش کا ایجنڈا عالم گیر ہے۔ ان کے علاوہ افغانستان کے ایک علاقے میں تحریک طالبان پاکستان ، جماعت الاحرار اور دیگر ایسی تنظیموں کے عناصر مقیم ہیں جو پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضرب عضب سے بچ کر فرار ہوئے اور افغانستان میں انہوں نے اپنے اڈے اور تربیت گاہیں بنا لیں۔ کابل حکومت کا موقف ہے کہ اس علاقے پر بھی اس کی رٹ نہیں ہے اور وہ ان عناصر کے سامنے بے بس ہے۔ ان کے علاوہ بھی افغانستان میں جنگجو تنظیمیں ہیں جن میں سے ایک گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی نے جنگجوئی ترک کرکے پرامن سیاست کا راستہ اپنانے کا اعلان کیا ہے۔ افغانستان میں دس ہزار امریکی اور یورپی فوجی بھی کابل حکومت کی حفاظت کے لیے موجود ہیں۔ یہ حقائق سب کو معلوم ہیں لیکن مختلف جنگجو تنظیموں کی آماجگاہ اس ملک کے حکمران جب یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے ملک میں حملہ کرنے والے پاکستان سے جا کر کارروائی کرتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے۔ پچھلے دنوں پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کی نئی لہر کا سراغ جب افغانستان تک گیا تو پاکستان نے افغانستان کے ساتھ سرحد بند کر دی جہاں سے روزانہ ہزاروں افراد کسی سفری دستاویز کے بغیر آتے جاتے رہتے تھے۔ یہ پابندی عائد کر دی گئی کہ بغیر سفری دستاویزات کے کوئی شخص سرحد پار نہیں کرے گا ۔ اس پر افغانستان کی طرف سے شدید احتجاج ہوا۔ اگر افغانستان ایک آزاد ملک ہے تو اس کی کوئی سرحد بھی ہے۔ اور اس کے باشندوں کو ہمسایہ ملک میں بغیر اجازت داخل ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ لندن میں برطانیہ کے قومی سلامتی کے مشیر نے افغانستان اور پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیروں سے گفتگو کی اور چند یقین دہانیوں کے بعد سرحد کھول دی گئی۔ تاہم پاکستان نے سرحد پر باڑھ لگانے کا کام جاری رکھا۔ کشیدگی کو دور کرنے کے لیے پاکستان کے دو اعلیٰ فوجی افسروں نے کابل میں حکام سے ملاقاتیں کیں۔ پاکستان نے سپیکر قومی اسمبلی کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح کا پارلیمانی وفد کابل بھیجا۔ تاکہ اعتماد کی فضا قائم ہو اور سرحدی انتظام کا کوئی قابلِ عمل فارمولا طے ہو سکے۔ افغان صدر اشرف غنی کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی گئی جسے انہوں نے رد کر دیا اور کہا کہ پہلے پاکستان مزار شریف اور کابل میں حملہ آور ہونے والوں کو افغانستان کے حوالے کرے۔ جس ملک کا چالیس فیصد حصہ مخالف گوریلا جنگجو افغان طالبان اور دس فیصد حصہ داعش کے زیر تسلط ہو اور اس کایہ اعتراف بھی ہو کہ وہ جنگ جو تنظیموں کے زیر تسلط علاقے کو خالی نہیں کروا سکتا اس ملک کے حکمران کیسے یہ کہہ سکتے ہیں کہ مزار شریف اور کابل پر حملہ کرنے والے پاکستان سے جا کر حملہ حملہ آور ہوئے تھے؟ پاکستان نے دہشت گردی کے حوالے سے مطلوب افراد کی فہرست افغانستان کو دے رکھی ہے لیکن کابل حکومت ان عناصر کو پاکستان کے حوالے کرنے یا ان کی سرکوبی میں بے بسی کا اظہار کرچکی ہے۔ اس کے جواب میں افغانستان نے بھی مطلوب افراد کی ایک فہرست پاکستان کو دی ہوئی ہے۔حل یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر باڑ ھ لگا دی جائے تاکہ سرحد پار کرنے والوں کی نگرانی کے لیے مشترکہ انتظام قائم کیا جا ئے لیکن افغان حکومت بھارت کی شہ پر کشیدگی برقرار رکھنے بلکہ اس میں اضافہ کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ تازہ ترین یہ ہے کہ افغان فورسز نے چمن کے علاقے میں خانہ ومردم شماری کے اہل کاروں پر گولہ باری کر دی حالانکہ مردم شماری کی کارروائی سے افغان حکام کو مطلع کیا جا چکا تھا۔ اس گولہ باری کے نتیجے میں ایک سرکاری اہل کار' بچوں اور خواتین سمیت دس پاکستانی شہید ہوئے ۔ دونوں ملکوں کے ملٹری آپریشنز کے ڈائریکٹروں کے درمیان ٹیلی فونی رابطہ ہوا ہے ۔ کہا جارہا ہے کہ فائر بندی پر اتفاق ہو گیا ہے لیکن افغان حکومت کے رویے کے پیشِ نظر کب تک یہ فائر بندی قائم رہ سکے گی؟ صورت حال کشیدہ ہے ' سویلین آبادی کو سرحد سے پیچھے ہٹایا جا چکا ہے۔ افغانستان کی طرف سے ایک فائر کسی بڑی کارروائی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ پاکستان کی فائر پاور دور رس ہے ۔ افغان فوج تو افغان طالبان اور داعش کے سامنے بے بس ثابت ہو چکی ہے ۔ پاک فوج شجاع 'سخت کوش اور تجربہ کار ہے۔ افغان حکمرانوں کو اس کا اندازہ ہے لیکن ان کی پالیسی شاید کشیدگی میں اضافہ اور مظلومیت کا لبادہ اوڑھنا ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہوناچاہیے کہ نہ صرف چمن کی سرحد بند رکھی جانی چاہیے بلکہ طورخم اور دیگر مقامات پر بھی سرحد مکمل بند کر دی جائے۔ اور سرحد پر باڑ لگانے کا کام تیز تر کیا جائے۔ افغانستان کے حکمرانوں کے وارلارڈز کا سمگلنگ کا کاروبار بند ہو گا۔ افغان عوام اپنی حکومت پر سرحد کھولنے کے لیے پاکستان سے مذاکرات پر دباؤ بڑھائیں گے۔ تو اگرچہ افغان حکمرانوں کو خشکی سے گھرے ہوئے ملک کے راہداری کے حقوق یاد آئیں گے تو اس کے ساتھ دہشت گردوں اور تخریب کاروں کی مہماں نوازی ' انہیں سرمایہ ' اسلحہ اور معاونت فراہم کرنے کی پالیسی جاری رکھنے کی پالیسی کی بجائے ہمسایہ ملک میں دہشت گردی اور تخریب کاری کی سرپرستی اور معاونت ترک کرنے کے فرائض بھی یاد آئیں گے۔

اداریہ