تاریک راہوں کے مسافر

تاریک راہوں کے مسافر

جب روشنی پر ڈاکے پڑنے لگیں تو ہر طرف تاریکیوں کا راج ہوتا ہے۔ جب معاشرے میں نفرتوں کا دور دورہ ہو جب انصاف کا کال پڑ جائے ہر طرف مادہ پرستی کا عفریت سر چڑھ کر بولنے لگے سب کو اپنے اپنے مفادات عزیز ہوں خود غرضی اور بے حسی چلتے پھرتے ہنستے کھیلتے انسانوں کا وتیرہ ہوجائے تو پھر تاریکیاں جنم لیتی ہیں۔چاروں اور اندھیرے چھا جاتے ہیںتاریکی روح کی ہو احسا س کی یا سوچ کی! یہ وہ نحوست ہے جس میں کچھ نظر نہیں آتا احساس مر جاتا ہے۔ جھوٹ کابول بالا ہوتا ہے اور سچ کا قحط پڑ جاتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب جھوٹ سچ کی پہچان مٹ جاتی ہے۔ انسان کو اپنی ذات کے سوا کچھ نظر نہیں آتا وہ اپنے مفادات کا اسیر ہوجاتا ہے آج ہمارے چاروں طرف یہی کچھ ہو رہا ہے۔ ایک ہڑ بونگ مچی ہوئی ہے سب سر پٹ بھاگ رہے ہیں۔ ان بھاگتے ہوئے ہوش و حواس سے بیگانے لوگوں کی منزل کیا ہے ؟ اقتدار اور اثاثے! جی ہاں ساری کہانی اقتدار اور اثاثوں کے گر د گھوم رہی ہے۔ سٹیج پر پتلی تماشا دھوم دھڑکے کے ساتھ جاری ہے عوام الناس کو ڈگڈگی بجا کر اپنے پیچھے لگایاجارہا ہے ہر طرف سے اپنی پاکیزگی ، شرافت اور مخالفین کی کردار کشی پر نت نئے بیانئے جاری کیے جارہے ہیں کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم سب تاریک راہوں کے وہ مسافر ہیںجنہیں اپنی ذات کے سوا کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا۔ ہمیں اپنے بچے عزیز ہیں اپنے خاندان کی ترقی سے پیار ہے اقتدار کے دیوانے ہیںخود غرضی کے اس حصار سے آگے ہم سب اندھے ہیں۔ کچھ بھی تو نظر نہیں آتا !تاریک راہوں میں تاریک گڑھے کی طرف تیزی کے ساتھ بھاگے چلے جا رہے ہیں اس میں چھوٹے بڑے کی کوئی قید نہیں ہے ستربرس کا بوڑھا بھی ایسے بیانات نشر کر رہا ہے جیسے اس نے کبھی مرنا نہیں ہے۔ اس دو چار روزہ حیات فانی کو ہی سب کچھ سمجھ لیا گیا ہے۔ مرنے کے بعد جی اٹھنے اور اپنے خالق کے سامنے جوابدہی کا خیال کہیں دور دھندلکوں میں کھو چکا ہے !یہ وہ وقت ہوتا ہے جب قوموں کو دعا کے ساتھ ساتھ ایک ایسے رہنما ایک ایسے مسیحا کی ضرورت ہوتی ہے مگر یہ ذہن میں رہے کہ اخلاقی طور پر بانجھ معاشروں میں رہنما نہیں بلکہ بھیڑ کی پوشاک میں بھیڑیے ہوتے ہیں۔ آج ہم اسی قسم کی صورتحال سے دو چار ہیںارباب اقتدار ہوں یا ارباب اختیار یہ سب ہمارے اخلاق و کردار کے عکاس ہیں جیسی روح ویسے فرشتے جیسا منہ ویسا تھپڑ! بس اپنے اپنے اختیار کی بات ہے۔ ہم جہاں بھی ہیں جس شعبے میں بھی ہیں اپنی حیثیت کے مطابق بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں سب کچھ دیکھ رہے ہیں اگر نہیں دیکھتے تو اپنے آپ کو نہیں دیکھتے سب کی خرابیوں پر نظر ہے۔ اگر کچھ نظر نہیں آتا تو وہ اپنا آپ ہے اپنا کردار ہے۔ اپنی بددیانتی ہے اپنی کام چوری ہے دوسروں کو پتھر مارنا دنیا کا سب سے آسان کام ہے کبھی کبھی اپنے گریبان میں بھی جھانک لینا چاہیے! عوام الناس کی سوچ کا عکاس ہربجھن سنگھ ساگر کا افسانہ آپ پر ساری کہانی کھول دے گا:''جانے وہ کس زمانے کی بڑھیا تھی شاید وہ پہلی بار شہر آئی تھی شہر آتے وقت وہ اپنے ساتھ عام ضرورت کی چیزوں کے علاوہ کچھ چھوٹی موٹی چیزیں لے آئی اپنے بڑھاپے کا سہارا ایک چھڑی، دھوپ ، بارش سے بچنے کے لیے ایک چھتری، پھٹے پرانے کپڑے سینے کے لیے سوئی دھاگا اور اندھیروں میں روشنی پھیلانے کے لیے مٹی کا ایک دیا اور لالٹین۔ چھڑی ،چھتری یا سوئی دھاگے کی ضرورت تو سمجھ میں آتی ہے لیکن شہروں میںبھلا مٹی کے دیے یا لالٹین کی کیا ضرورت؟(اس وقت لوڈ شیڈنگ کی پیدائش نہیں ہوئی تھی)ہر رات چاروں طرف بجلی کی روشنی کا سیلاب سا پھیلا ہوتا ہے ۔ بیچاری بڑھیا شہر میں بجلی سے آنکھیں چندھیادینے والی روشنی دیکھ کر مٹی کے دیے اور لالٹین کے بارے میں سوچنا ہی بھول گئی اور یہ بے کار کی چیزیں کمرے کے ایک کونے میں پڑی پڑی بھولی بسری یادیں بن گئیں ۔لالٹین تو مکڑی کے جالے کے اندر ہی گم ہوگئی لیکن ایک دن اچانک سارے شہر کی بجلی گل ہوگئی یوں محسوس ہونے لگا گویا سارا شہر کسی اندھے کنویں میں گر پڑا ہو لیکن بڑھیا نہ گھبرائی وہ اندھیروں سے بخوبی واقف تھی۔ اس کی زندگی تو اندھیرے دیکھتے ہی بسر ہوئی تھی اندھیرا ہوگیا تو کیا ہوا ،روشنی کا نسخہ بھی تو اس کے پاس موجود ہے وہ جھٹ سے اٹھی اور مٹی کا دیا جلا کر اس نے کمرے میں روشنی کرلی دیے کی روشنی مکڑی کے جالے پر پڑی ، جالے کے اندر لالٹین کا شیشہ ایسے مسکرایا گویا چھت پر لٹکے ہوئے بجلی کے بلب پر ہنس رہا ہو پھر عادت کے مطابق بڑھیا نے لالٹین کا شیشہ صاف کیا اور اسے جلا کر باہر گلی میں رکھ دیا تاکہ آتے جاتے لوگوں کو چلنے میں پریشانی نہ ہو اور وہ اندھیری گلی میں اندھوں کی طرح راستہ ٹٹولتے نہ پھریں۔گلی میں لالٹین رکھ کر بڑھیا گویا کسی بہت بڑی ذمہ داری سے سبک دوش ہوگئی اور بے فکر ہوکر کمرے میں چلی گئی ، گلی سے تاریکی کا خوف جاتارہا کچھ دیر بعد ایک راہگیر گلی سے گزرا راستے میں جلتی ہوئی لالٹین دیکھ کر وہ حیران ہوا '' ہو نہہ ۔ ۔ لا لٹین ! شاید کوئی بھول گیا ہے ۔ لیکن ۔۔۔لیکن تاریکی میں روشنی کیسے بھولی جاسکتی ہے روشنی تو سب کی ضرورت ہے چلو کچھ بھی ہو، اب یہ لالٹین میرے راستے میں اجالا کرے گی'' راہگیر نے جھپٹ کر لالٹین اٹھالی۔ لالٹین کی روشنی میں وہ ایک بھیانک کالی پرچھائیں میں ڈھل گیا، ایک دیو قامت کالی پرچھائیں اور کالی پرچھائیں کے سائے میں راستہ پھر تاریکی میں ڈھل گیا ۔ اور گلی ؟ گلی پھر کالی کلوٹی رات میں گم ہوگئی ۔

اداریہ