مشرہ ستا کار اوگد نہ شو؟

مشرہ ستا کار اوگد نہ شو؟

لگ پتہ جائے گا جب جیسے چیونٹی کی شامت آنے پر اس کے پر نکل آتے ہیں اور آپ کا کسی سرکاری ادارے سے کام پڑتا ہے۔ یہ سرکاری تو ہم غلطی سے لکھ گئے۔ اس حمام میں سرکاری' نیم سرکاری اور غیر سرکاری سب ادارے بے لباس ہیں۔ خدا نخواستہ آپ کے گھر میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگ جائے اور آپ فائر بریگیڈ والوں کو اطلاع دینے کے لئے فون کرنے لگیں۔ پہلے تو کوئی جواب نہیں آئے گا۔ بار بار فون کھڑکانے پر ایک خواب آلود آواز میں جواب ملے گا سہ وائے یار؟ مدعا بیان کرنے پر دوسری جانب سے ایک طویل خاموشی اور پھر '' خہ زہ گورو سہ چل کوئو'' اچھا چلئے دیکھتے ہیں کا جواب ملے گا۔ اب یہ چل کرنے کا عمل کتنی صدیوں پر محیط ہوگا یہ آپ کی اپنی قسمت پر منحصر ہے۔ ایک صاحب بتا رہے تھے کہ کوئی تین سال پہلے ہم نے اپنے گھر کا کمپلیشن سرٹیفیکیٹ لینے کے لئے ایم ڈی اے والوں کو درخواست دی۔ ہماری بار بار کی یاد دہانی پر ایک صاحب آئے' گھر کا جائزہ لیا۔ پھر لمبی تان کر سوگئے۔ آپ نے تو سنا ہوگا کہ سوتے کو جگانا آسان ہوتا ہے جس نے جھوٹ موٹ سونے کا بہانہ کرکے چادر ا وڑھ رکھی ہو آپ اس کے سرہانے بارات لے کر ہی کیوں نہ پہنچ جائیں وہ خدا کا بندہ آنکھیں بند کرکے پڑا رہے گا۔ جیسے اپنی تجہیز و تدفین کا منتظر ہو۔ جانے درخواست کس فائل میں محو خواب ہے اور متعلقہ کارندے اصحاب کہف بنے کس غار میں آنکھیں موندے پڑے ہیں اور کب اس غار سے برآمد ہوں گے۔ چلئے بتانے میں کیا حرج ہے یہ سائل ہم خود ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک فرد کے حصول کے لئے ہمیں جو ہفت خوان سر کرنے پڑے اس کے ذکر سے اب بھی منہ میں چھالے پڑ جاتے ہیں۔ اس معاملے میں اگر ہمارے ایک ہم نام دیرینہ شاگرد دست گیری نہ کرتے تو نہ جانے زندگی کی کس گلی میں فرد کی حسرت لئے شام ہو جاتی۔ خاک ہوجائیں ہمارے بدخواہ اور بھاڑ میں جائے گھرکا تکمیل سرٹیفیکیٹ' بتانا یہ مقصود تھا گزشتہ دنوں اچانک ہمزاد نے حج پر جانے کا ارادہ ظاہر کیا' ہم نے کہا بسم اللہ پاسپورٹ لے کر تجدید کے لئے گئے۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ شناختی کارڈ زائد المیعاد ہو چکا ہے۔ دوسرے روز نادرا کے دفتر میں حاضری لگائی۔ ہمزاد ایک لمبی قطار میں لگ کر کھڑا ہوگیا اور ہم نے چلچلاتی دھوپ میں ایک دیوار سے ٹیک لگا لی۔ کچھ دستاویزات کی فوٹو سٹیٹ نقول کی ضرورت پڑتی رہی۔ فوٹو سٹیٹ والے پل صراط کے دوسرے کنارے بیٹھے تھے۔ دفتر کے گیٹ پر کھڑے سیکورٹی گارڈ نے تیسری بار تلاشی لینے پر آخر پوچھ ہی لیا' مشرہ ستا کار جوڑ اوگد دے' بزرگو! لگتا ہے تمہارا کام کچھ لمبا ہی ہوگیا۔ زہر خندہی ان کی بات کا جواب تھا جو ہم نے ان کی خدمت میں پیش کردیا۔ ہمزاد نے بتایا کہ اس نے فوری (Urgent) کارڈ بنانے کے لئے سولہ سو روپے جمع کردئیے' کہتے ہیں پانچویں روز مل جائے گا۔ یہ بھی تاجرانہ ذہنیت کی ایک مثال ہے۔ جس طرح بنیاء اپنے گاہک کو اذیت دینے میں خوش ہوتا ہے اور اس کی ضرورت سے ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے اسی طرح مفاد عامہ کے اداروں میں بھی سائل کی مجبوریوں سے بھی اسی طرح فائدہ حاصل کیا جاتا ہے۔ اس بات کو جانے دیجئے جب علاج گاہوں میں عام وارڈ' عقوبت خانے اور پرائیویٹ کمرے میں تمام سہولتیں موجود ہوتی ہیں تو نادرا والوں کی اس تاجرانہ ذہنیت پر اعتراض بلا جواز ہے۔ ادنیٰ اور اعلیٰ سے امتیازی سلوک ہی تو طبقاتی معاشرے کا حسن ہے۔ اب آگے کی سنئے۔ ہم خوش تھے وہ جو ایک شاعر نے کہا ہے
عمر دراز مانگ کر لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
ہمزاد کے باب میں آرزو اور انتظار کو یکجا کرکے چار دن کوئی اتنا لمبا عرصہ نہ تھا۔ اس نے اپنی طرف سے نادرا و الوں کو دو دنوں کی مزید رعایت دی اور چھٹے روز کارڈ وصول کرنے گیا۔ ہم بھی ساتھ تھے۔ وہاں ایک کارندے نے ہم پر خصوصی توجہ دی' کرسی پر بٹھایا' چائے پانی کا پوچھا' مدعا بیان کیا پھر انہوں نے کمپیوٹر سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ نتیجہ یہ سامنے آیا کہ فارم تو اسی روز نادرا کے مرکزی دفتر کو روانہ کردیاگیا تھا۔ کارڈ مگر ابھی پرنٹ نہیں ہوا تو پھر کب ہوگا؟ اس کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی ۔ ہم نے زیادہ تلخی پیدا نہیں کی کہ ان کا سلوک ہم سے بہت اچھا تھا۔ دوسری بات یہ کہ کارڈ کی پرنٹنگ مقامی دفتر کی ذمہ داری بھی نہ تھی۔ اب ہماری ان سے سرکاری اور نیم سرکاری دفاتر میں کام کی تاخیر کے فلسفے پر گفتگو ہونے لگی۔ اتفاق اس بات پر ہوا کہ اس کی سب سے بڑی وجہ حکمرانوں کی نان ایشوز کے حل میں مصروفیت اور آبادی میں بے تحاشا اضافہ ہے۔ شروع شروع میں جب شناختی کارڈ کا سسٹم جاری ہوا اس وقت مردان شہر کی آبادی یہی دس لاکھ کے لگ بھگ تھی اور پاکستان کی آبادی کا اندازہ چودہ کروڑ لگایا جاسکتا ہے۔ اب مردان 24لاکھ کی حد پار کرچکا ہے اور وطن عزیز کی آبادی 25کروڑ ہے۔ اس زمانے میں شناختی کارڈ کے فارم ڈاکخانے میں جمع کئے جاتے تھے۔ ظاہر ہے اب نادرا اتنی عظیم الشان آبادی کو حسب خواہش سہولت فراہم نہیں کرسکتا۔ وہ کارڈ جو ہمزاد نے چھ روز میں وصولی کے لئے اس کے 16سو روپے کی رقم جمع کی تھی 16روز بعد وصول ہوا۔ جب ہم ہر دوسرے تیسرے روز نادرا کے دفتر میں حاضری لگانے لگے تو گیٹ پرکھڑے سیکورٹی گارڈ کے چہرے کی خشونت ہمارے لئے مسکراہٹ میں تبدیل ہوگئی اب وہ ہماری تلاشی لینے کی بجائے ہم سے بغلگیر ہونے لگے۔ ساتھ ہی یہ بھی ضرور پوچھتے کار جوڑ اوگد شو جیسے کسی جاں بلب مریض کے پسماندگان سے اس کی جانکنی کی اذیت پر پوچھا جاتا ہے۔ یہ اوگد کار اس روز پایہ تکمیل تک پہنچا جب حج کی قرعہ اندازی کا نتیجہ بتایا جا رہا تھا۔ اس میں قصور کس کا تھا' ہمزاد کی بد نصیبی آڑے آئی؟ مردان کی آبادی جو 24لاکھ بتائی جاتی ہے یا پھر سست رو از کار رفتہ دفتری نظام اس تاخیر کی وجہ بنا۔ فیصلہ آپ کا!

اداریہ