پانامہ کے ہنگام اورلیگی وزیرکا استعفیٰ

پانامہ کے ہنگام اورلیگی وزیرکا استعفیٰ

پانامہ کے ہنگام میں گزشتہ دنوں ایک اور واقعہ بھی پیش آیا لیکن اس اہم واقعہ کو میڈیا نے اہمیت دی اور نہ ہی دیگر سیاسی جماعتوں نے۔ پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ڈی جی کو عہدے سے ہٹائے جانے کے معاملے پر وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ میاں ریاض حسین پیرزادہ نے استعفیٰ دے دیا اور انکشاف کیا کہ وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری اختیارات کا بے جا استعمال کر رہے ہیں اور وزیر اعظم کی ناک کے عین نیچے اعلیٰ افسران کرپشن میں ملوث ہیں۔ وفاقی وزیر میاں ریاض حسین پیرزادہ نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری کے ہاتھوں اپنی بے عزتی کروا چکا ہوں اب واپسی کا سوال ہی پید انہیں ہوتا۔ باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وفاقی وزیر کو راضی کرنے کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق ' خواجہ سعد رفیق اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے استعفیٰ واپس لینے کی درخواست کی ہے لیکن انہوں نے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک وہ وزیر اعظم نواز شریف سے براہ ِ راست ملاقات نہیں کر لیتے تب تک استعفیٰ واپس نہیں لیں گے۔ پانامہ کے فیصلے کے بعد مسلم لیگ (ن )مختلف بحرانوں میں گھری نظر آتی ہے' ان ایام میں مسلم لیگ (ن) کے سنیئر وفاقی وزیر کی طرف سے استعفیٰ سامنے آ جانے کا مطلب یہ ہوا کہ بحران کا ایک دروازہ اور کھل گیا ہے،پانامہ کا ایشو تو عمران خان نے اٹھا رکھا ہے جس کا مسلم لیگ (ن) مقابلہ بھی کر رہی ہے لیکن جب گھر کا بھیدی لنکا ڈھا دے تو اس کا مقابلہ بہت مشکل ہو جاتا ہے۔وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کرپشن کا پردہ چاک کرنے والے جنوبی پنجاب کی قدآور شخصیت ہیں۔ جن کے بارے گزشتہ دنوں میڈیا میں خبریں گردش کرتی رہیں کہ وزیر اعظم کو استعفیٰ دے کر جنوبی پنجاب سے وزیر اعظم لے آنا چاہئے جس میں سر فہرست میاں ریاض حسین پیرزادہ کا نام پیش کیا گیا۔کیوںکہ میاں ریاض حسین پیرزادہ معدود ے ان چند سیاستدانوں میں سے ایک ہیں جن کے دامن پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں ہے، وہ سیاست کی باریکیاں اور پارلیمانی امور کی نزاکتوں کو سمجھتے ہیں، وہ ماضی کی تلخیوں کو بھلانے میں بھی ثانی نہیں رکھتے ' اظہارِ خیال ' ابلاغ پر غیر معمولی قدرت کے ساتھ ساتھ لچک ' دانائی اور سلیقہ مندی جیسے اوصاف سے بھی مزین ہیں۔ میاں ریاض حسین پیرزادہ نے نواب زادہ نصر اللہ خان اور ذوالفقار علی بھٹو جیسے سیاسی قائدین سے سیاسی تربیت حاصل کی ہے۔ چالیس سالہ منفرد سیاسی تجربہ اور بیک وقت کئی میدانوں کے شہسوار ہونے کی وجہ سے ان کا شمار کامیاب سیاستدانوں میں کیا جا سکتا ہے۔ علاقائی اور عالمی سیاسی پیچیدگیوں کو اس وقت ان سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے ' چونکہ وہ سالہا سال سے مختلف اداروں کے سربراہ رہے ہیں اس لیے قومی اداروں میں بھی ان کی اچھی شہرت ہے۔ تعلیم' صحت اورسپورٹس کے علا وہ لاء اینڈ جسٹس کمیشن میں بھی کلیدی عہدوں پر فائز ہونے کی بنا پر قومی معاملات کی نزاکتوں کو سمجھتے ہیں۔ وہ عدم تشدد کے علمبردار اور کسی سے دشمنی اور انتقام پر یقین نہیںرکھتے۔ اپنی بات کو ڈنکے کی چوٹ پر کہنے کا فن رکھتے ہیں اور جس رائے کو درست تصور کرتے ہیں اسے بجا طور پر کہہ دیتے ہیں۔ ان کی کرپشن سے پاک زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں اب بھی صاحب کردار لوگ موجود ہیں جن کے ہاں سب کچھ پیسہ یاد ولت نہیں بلکہ کردار اور اخلاق کی دولت ہی ان کا سرمایہ افتخارہے۔ قحط الرجالی کے اس دور میں جہاں نفسانفسی کا عالم ہے اور قیادت ناپید ہو چکی ہے ' وہاں پرمیاں ریاض حسین پیرزادہ جیسے تہذیبی اور ثقافتی پسِ منظر کے حامل سیاستدانوں کا وجودکسی غنیمت سے کم نہیں ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ قابل' باصلاحیت اور ایماندار افراد جن جن اداروں میں موجود ہیں انہیں کام کرنے نہیں دیا جاتا۔ ان کے کام میں بار بار مداخلت کی جاتی ہے اور ایسے لوگوں کی قدر نہیں کی جاتی ۔ ہمارے سماج میں ایسے سسٹم کو رواج دیا گیا ہے کہ جہاں چور' چور کو تو سپورٹ کرتا ہے لیکن قابل' باصلاحیت اور ایماندار کو کوئی سپورٹ نہیں کرتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وفاقی وزیرمیاں ریاض حسین پیرزادہ نے وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری کی جن امور میں ملوث ہونے کی نشاندہی کی ہے ' اس کی مکمل تحقیقات کی جائیں کیونکہ وزیر اعظم کا حکومتی معاملات میں انحصار اپنے پرسنل سیکرٹری پر ہوتا ہے ۔ اگر تحقیقات میں موصوف پرلگائے گئے الزام میں صداقت سامنے آتی ہے تو یہ وزیر اعظم کے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے کیونکہ انہوںنے ایک ایسے شخص کو سیاہ و سفید کا مالک بنائے رکھا جس کا دامن صاف نہیں تھا' اور جس وزیر نے جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس خرابی کی نشاندہی کی ہے اسے وہ مقام دیا جائے جس کا وہ حقدار ہے، اس لئے امید کی جا سکتی ہے کہ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف خود اس ایشو کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

اداریہ