سی پیک کے جیوپولیٹیکل مقاصد؟

سی پیک کے جیوپولیٹیکل مقاصد؟

گزشتہ ماہ چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے دوٹوک انداز میں کہا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کا مسئلہ کشمیر سے کوئی براہ راست تعلق نہیں۔یہ ایک اقتصادی سرگرمی ہے جس سے کشمیر کے حوالے سے چین کے موقف پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اس سرگرمی سے سرحدی تنازعات یا کشمیر جیسے مسائل پر چین کا موقف تبدیل نہیں ہوگا ۔چینی وزیر خارجہ نے کہا تھاکہ بھارت کو بھی ون بیلٹ ون روڈ منصوبے میں دوسرے ملکوں کی طرح شریک ہونا چاہئے ۔چینی وزیر خارجہ نے یہ بیان اس وقت دیا جب چین میں ''ون بیلٹ ون روڈ ''کے موضوع پر دوروزہ عالمی سیمینار کی تاریخ قریب آرہی تھی جس میں اٹھائیس صدراور وزرائے اعظم شریک ہوں گے ۔بھارت وہ واحد ملک ہوگا جس کا سربراہ اس سیمینا ر میں شریک نہیں ہوگا البتہ بھارت کا ایک نمائندہ سیمینار میں شریک ہونے جا رہا ہے۔یوں خطے کے دوسرے ممالک کو تنہائی کا شکار کرنے کا دعویدار بھارت خود تنہا ہوتا جا رہا ہے۔چینی وزیر خارجہ نے جو بات بھارتیوں کو سمجھانے کی کوشش کی ہے بھارت اسے سمجھنا ہی نہیں چاہتا ۔اس لئے بھارت کو امریکہ نے خطے میں اپنا پولیس مین مقرر کر رکھا ہے اور اس ''منصب '' کے تحت بھارت یہ سمجھتا ہے کہ خطے کا کوئی ملک اس کی مرضی ومنشا کے بغیر پر نہیں مار سکتا ۔ دھونس ،دھاندلی اور لٹھ برداری کایہ رویہ کسی گائوں میںتو چل سکتا ہے مگر ڈپلومیسی کے میدان میں یہ رویہ کارگر نہیں ہوتا ۔یہ حقیقت ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک تاریخی حقیقت اور سچائی ہے۔جس کے ساتھ ایک قوم کے غم اور خوشیاں ،جذبات واحساسات جڑے ہوئے ہیں۔یہ مسئلہ تین کھلی اور بے شمار درپردہ جنگوں کا باعث بنا ہے اور آج بھی اس مسئلے نے جنوبی ایشیا کو بارود کے ڈھیر پر لاکھڑا کیاہے ۔سی پیک ایک اقتصادی سرگرمی ہے ۔جس کے بنیادی فریق چین اور پاکستان ہیں۔سی پیک کی تعمیر سے مسئلہ کشمیر پر رتی برابر اثر پڑنے والا نہیں۔کشمیر ایک متنازعہ علاقہ اور حل طلب مسئلہ ہے جسے بہرحال حل ہونا ہی ہے ۔چین ،پاکستان اور خود بھارت بھی اپنے انداز سے کشمیر کو متنازعہ سمجھتے ہیں ۔وادی میں جاری تحریک بھی اس بات کو تقویت دے رہی ہے کہ کشمیر ایک حل طلب مسئلہ ہے ۔ کنٹرول لائن اور بین الاقوامی سرحد پر آئے روز ہونے والے تصادم ،اقوام متحدہ سے امریکہ تک جاری ہونے والے بیانات کشمیر کی متنازعہ حیثیت کا ثبوت ہیں۔اس کے باوجود بھارت سی پیک منصوبے کو اپنی اناکا معاملہ بنائے ہوئے ہے تو اس کی وجہ اندر کا خوف ہے ۔ایک عرصے تک یہ خوف بے نام اور بلاعنوان رہا مگر اب بھارت کی طرف سے اس خوف کا اظہا ر ہونے لگا ہے۔ان کے خیال میں سی پیک ایک بہانہ ہے حقیقت میں نشانہ تو کشمیر ہے ۔ چین کے معروف اخبار ''گلوبل ٹائمز '' کے ایک مضمون نے بھارت میں خوف کی ایک لہر اُٹھادی ہے ۔کئی بھارتی یہ کہہ رہے ہیں ہمیں اندازہ تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری تو محض ایک بہانہ ہے حقیقت میں کشمیر ہی چین کا نشانہ ہے۔چین سی پیک میں بھاری سرمایہ کاری کے نام پر اصل میں ایک بڑا ڈپلومیٹک دائو کھیلنے کے چکر میں ہے ۔بھارتیوں کا یہ خوف اس وقت کھل کر سامنے آیا جب گلوبل ٹائمز نے لکھا کہ علاقائی مسائل کا حل چین کے مفادمیں ہے۔چین نے سی پیک پر بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔اخبار نے لکھا ہے کہ چین نے روہنگیا مسلمانوں کے معاملے پر بنگلہ دیش اور میانمار کے درمیان ثالثی کرائی ہے۔ اس طرح چین نے اپنی سرحدوں سے باہر مسائل حل کرانے کی ابتدا کی ہے ۔ یہ کشمیر کے مسئلے پر سمجھوتے کے لئے ایک مثال بن سکتی ہے ۔گوکہ کشمیر میں ثالثی آسان نہیں اور یہ چین کو درپیش بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے۔چین بنگلہ دیش میانمار مفاہمت سے تجربہ حاصل کرکے اسے کشمیر میں استعمال کر سکتا ہے۔چینی اخبار کے اس مضمون نے بھارتی میڈیا کو بھڑکا دیا ہے۔بھارت کے ایک اخبار نے اسے ''فرسٹ انوسٹمنٹ نیکسٹ انٹرفیئر''یعنی پہلے سرمایہ کاری پھر مداخلت کا طریقہ قرار دیا ہے۔ہندوستان ٹائمز نے ایک طویل مضمون میں کشمیر سے متعلق چین کی پالیسی کو موضوع بحث بنایا ہے ۔ہندوستان ٹائمز نے لکھا ہے کہ بھارت کو ہوشیار رہنا چاہئے کہ سی پیک کا ایک جیو پولیٹیکل (جغرافیائی سیاست) ایجنڈا بھی ہے۔یہ بات عیاں ہو چکی ہے کہ سی پیک چین کا کشمیر کو جانے والا راستہ ہوگا۔اس سے بھارت کے سب خوف سچ ثابت ہورہے ہیں۔اب چین اپنی سرمایہ کاری کے نام پر اس مسئلے میں کود سکتا ہے ۔بیجنگ نے اپنی کشمیر پالیسی کوتاریخ میں سب سے زیادہ اسلام آباد کے قریب کر دیا ہے۔2009ئمیں کشمیریوں کو سادہ کاغذ پر ویزہ دینے کی پالیسی اپنائی گئی ۔بھارتی فوج کی شمالی کمان کے چین کے سفر پر پابندی عائد کی گئی ۔مسعود اظہر کے خلاف قراردادوں کو بار بار ویٹو کیا جانے لگا۔اخبار کے مطابق چین کے ایک سکالر نے بھی یہ عندیہ دیا ہے کہ چین تنازعہ کشمیر میں مداخلت کر سکتا ہے۔ہندوستان ٹائمز کے مطابق یہ سب اس موقف کو رد کر نے کے لئے کافی ہے کہ سی پیک صرف ایک معاشی سرگرمی ہے اور اس کے کوئی جیوپولیٹیکل مقاصد نہیں۔بھارت اس وقت کشمیر میں جس شدت اور بے رحمی سے کشمیریوں کی مزاحمت کو کچل رہا ہے وہ کسی نارمل ریاست کاوتیرہ نہیں ۔ظلم کا یہ انداز صرف اسی وقت اپنایا جا تا ہے جب کسی طاقت کو ذہنی طور شکست ہونے لگتی ہے ۔ خداجانے بھارت کودیوار پر کیا لکھا نظر آرہا ہے کہ وہ کشمیر میں اپنے تمام تیر آزمااور تمام کارڈ کھیل رہا ہے۔

اداریہ