Daily Mashriq

احتیاط ضروری ہے

احتیاط ضروری ہے

پاکستان میں سیاست کے حوالے سے کم ہی نام ایسے ہیں جن کے بارے میں اکثریت مثبت رائے رکھتی ہو۔ یا ان کے بارے میں یہ گمان کیا جاتا ہو کہ یہ لوگ کبھی اس ملک کے وسائل کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ ان لوگوں کے بارے میں یہ عمومی رائے عدالت میں بھی موجود ہو اور ان کے بارے میں یہ بات عام لوگ بھی کہتے ہوں کہ ان پر کم از کم لوٹ مار کا الزام تو کسی صورت نہیں لگایا جاسکتا۔ پاکستان جیسے سیاسی نظام میں یہ شہرت ہونا نہ صرف کمال کامیابی ہے بلکہ تقریباً اچنبھے کی بات ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ایسی ہی شہرت کے حامل ہیں۔ ان کے بارے میں تو عدالت عالیہ نے خود یہ کہا کہ اگر ملک میں صادق و امین کی شق پورے طور سے نافذ کی جائے تو شاید وہ اکیلے ہی سیاست کے میدان میں باقی بچیں۔ ایسی کمال شہرت رکھتے ہوئے میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ آخر وہ کونسی سیاسی مجبوریاں ہیں جو ہر بار جماعت اسلامی کو ایم ایم اے میں شامل ہونے پر مجبور کردیتی ہیں۔ کیونکہ ایم ایم اے میں جو دوسری بڑی مذہبی سیاسی جماعتیں شامل ہیں ان کی اور جماعت اسلامی کی شہرت آپس میں میل نہیں کھاتی۔ ہر بار جب بھی مذہبی جماعتوں کو ملک میں سیاسی تبدیلی جنم لیتی نظر آتی ہے یا انہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ شاید کوئی ایسا خلا جنم لے رہا ہے جس میں انہیں اپنے قدم جمانے کی جگہ مل سکتی ہے تو وہ ایم ایم اے کی صورت میں متحد ہو جاتی ہیں تاکہ سیاست میں اپنی موجودگی کو بہتر طور پر ثابت کرسکیں۔ جماعت اسلامی کی بھی یہی مجبوری ہوگی۔ اسے بھی اس وقت سیاست میں ایک ایسا خلا جنم لیتا محسوس ہو رہا ہوگا جس کے نتیجے میں اس کا جمعیت علمائے اسلام سے اتحاد اسے سود مند محسوس ہوتا ہوگا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسے اس اتحاد کا ایسا ہی فائدہ ہوتا ہے جس کو ذہن میں رکھتے ہوئے وہ اس اتحاد کا آغاز کرتی ہے۔ کیا ماضی کا کوئی تجربہ اسے ایک بار پھر اس اتحاد کاحصہ بننے سے نہیں روکتا۔ کیا اسے یہ خیال نہیں آتا کہ پہلے بھی اسے اس اتحاد کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوا تھا۔ خیبر پختونخوا میں ایم ایم اے کی حکومت نے کئی لوگوں کو جماعت اسلامی سے خصوصی طور پر بد ظن کردیا تھا۔ خود جماعت اسلامی میں اندرونی بے چینی نے بھی جنم لیا تھا۔ اب ایک بار پھر ایم ایم اے منظر عام پر آئی ہے تو سوچ کے اور کئی دریچے وا ہو رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ اکثر اتحاد' مختلف آراء کو جنم دیتے ہیں اور انہیں ہر طرف سے پذیرائی بھی حاصل نہیں ہوتی۔ یہ بھی کوئی نئی بات نہیں کہ مذہبی جماعتوں کا پاکستان میں ایک مخصوص ووٹ بینک ہے جس میں سالہا سال سے کوئی تبدیلی' مثبت یا منفی پیدا نہیں ہوئی۔ ایسے اتحاد کے نتیجے میں مذہبی جماعتیں اسی مخصوص ووٹ بینک سے بہتر فائدہ اٹھا سکتی ہیں کیونکہ ایک د وسرے کے مد مقابل ان کے سیاسی نمائندگان کھڑے نہیں ہوتے۔ لوگوں کے لئے فیصلہ کرنے میں آسانی رہتی ہے کہ وہ سب اپنا ووٹ کیسے ڈالیں گے۔ اسی طرح ایک بار ایم ایم اے خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے میں بھی کامیاب ہوئی۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اب کی بار ایسے کوئی حالات دکھائی دیتے ہیں یا یہ محض جمعیت علمائے اسلام کی عمران خان سے مقابلہ کرنے کی خواہش ہے جس نے جماعت اسلامی کی طاقت کو تسلیم کرلیا ہے اور ایم ایم اے کی صورت میں مجسم شکل اختیار کرلی ہے۔ جناب سراج الحق کی باتیں بھی دل کو بہت بھلی لگ رہی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی سیاست حکومت کے لئے نہیں ان کی بات درست مان لی جائے تو ایم ایم اے کی بنیاد میں ہی دراڑ پڑتی دکھائی دیتی ہے کیونکہ جمعیت علمائے اسلام کی سیاست میں حکومت اور غلبے کا رنگ چھپائے نہیں چھپتا۔ امت مسلمہ کے اتحاد کی بات تو ساری مذہبی جماعتیں کرتی ہیں لیکن اس میں انہیں کس حد تک کامیابی حاصل ہوتی ہے یہ سوال توجہ طلب ہے۔ اپنی تمام تر محنت اورخلوص نیت کے باوجود اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ مذہبی جماعتیں پاکستان میں اپنا ووٹ بینک بڑھانے میں کامیاب نہیں۔ حال ہی میں بریلوی طبقہ فکر نے بھی پاکستانی سیاست میں حصہ لینا شروع کیا ہے جو یقینا دیو بندی طبقہ فکر کے لئے غور و فکر کی بات ہے۔ ایم ایم اے کا اس بار کاقیام شاید اس تفکر کا نتیجہ بھی ہو۔ کیونکہ اس حقیقت سے بھی مفر ممکن ہے کہ بریلوی طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والی مذہبی رجحانات کے لوگوں کی تعداد پاکستان میں دیو بندی طبقہ فکر سے وابستگی رکھنے والوں سے کہیں زیادہ ہے لیکن وہ آج تک خاموش ہی رہے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ساری صورتحال بھی کسی سوچی سمجھی کیفیت کانتیجہ ہو جس کا تعلق بالآخر امت مسلمہ میں نفاق کو جنم دینے سے ہو۔ کیا کہا جاسکتا ہے' مسلمان کی طاقت کاخوف اقوام عالم کے دلوں سے جاتا ہی نہیں اس لئے ہمہ وقت ان کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی سازش کی دیگ بھی چڑھی رہتی ہے۔ بہت کچھ سوچنے سمجھنے کی ضرورت ہے اور انتہائی احتیاط سے قدم اٹھانا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری نظر کہیں اور ٹکی رہے اور وار کہیں اور ہو جائے۔

متعلقہ خبریں