Daily Mashriq


رویت ہلال کے روایتی تنازعے کا اعادہ

رویت ہلال کے روایتی تنازعے کا اعادہ

رویت ہلال پر حسب روایت اتفاق نہ ہونے کی افسوسناک صورتحال کا اعادہ ہونے سے ملک میں ایک ہی وقت میں روزہ شروع نہ ہوسکا۔ بابرکت ماہ صیام کا نااتفاقی اور شکوک وشبہات کی فضاء میںآغاز میں معلوم نہیں شرعی معاملہ کتنا ہے، ضد اور انا کی آمیزش کتنی ہے۔ عوام مخمصے کا شکار ہیں۔ حکومت کی جانب سے بھی اتفاقی روزہ رکھنے کی کوئی سعی نہیں کی گئی قطع نظر اس کے کہ یہ سرکاری ذمہ داری کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں لیکن اس عظیم دینی فریضے کی ہم آہنگی اور اتفاق کی فضا میں ہونے کو یقینی بنانے کیلئے مساعی احسن ہوتیں جس پر توجہ نظر نہیں آئی۔ خیبر پختونخوا میں معمول بن چکا ہے کہ روزہ اور عید الفطر پر اختلاف کیا جائے لیکن عیدالاضحی میں ایسا نہ ہونا اپنی جگہ ناقابل فہم سوال ہے۔ اگر رویت ہلال کا اصول عیدالفطر اور رمضان کیلئے طے ہے تو پھر عیدالاضحی میں خاموشی اختیار کرنے کا جواز کیا ہے چونکہ یہ ایک نہایت نازک شرعی مسئلہ ہے جس کا تعلق ہر ایک مسلمان کی دینی اور روحانی وابستگی سے ہے۔ مخمصہ تو یہ ہے کہ عوام کو اس امر کی سمجھ بالکل نہیں آتی کہ کون درست ہے اور کون غلطی پر ہے۔ جس طرف دیکھئے جید علمائے کرام ہیں۔ ایسے علمائے کرام جن پر شک کی گنجائش نہیں۔ کوئی دنیاوی منفعت بھی نہیں اور لیڈری کا بھی سوال نہیں۔ کسی بنیادی وجہ اور نکتے کا تعین محال ہے مگر حیرت واستعجاب اس پر ہے کہ طرفین میں سے ہر ایک اپنے موقف اپنے فیصلے اور اپنے طریقہ کار کو درست اور دوسرے کو غلط گردانتا ہے۔ اختلاف اپنی جگہ لیکن اس سے بھی افسوسناک امر یہ ہے کہ اختلافات کو دور کرنے کی کوئی مخلصانہ سعی نظر نہیں آتی۔ باہم بیٹھ کر درد دل سے ایک دوسرے کو قائل کرنے ایک دوسرے کی غلطی کی نشاندہی کرنے پر کوئی تیار ہی نہیں۔ حسرت ہی رہ گئی ہے کہ وطن عزیز پاکستان میں کب وہ دن دیکھنا نصیب ہو جب علمائے کرام باہمی اتفاق سے فیصلہ کریں کہ روزہ کب رکھنا ہے اور عید کب منانی ہے۔دونوں طرف علمائے کرام ہیںدونوں مفتیان کرام ہیں۔ دونوں ہی شرعی تقاضوں کو خوب نبھاتے ہیں اور عملی طور پر کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں چھوڑتے۔ عوام منقسم ہیں ۔ بڑی اکثریت مرکزی رویت ہلال کمیٹی جو سرکاری اورحکومت وقت کی نامزد کردہ کمیٹی ہے، عوام کی اکثریت اس کی پیروی کو مقدم ٹھہراتی ہے۔ اس کے فیصلوں کا احترام بھی کیا جاتا ہے اس پر عمل بھی ہوتا ہے لیکن ان کا فیصلہ یکسوئی اور شرح صدر کے ساتھ تسلیم نہیں کیاجاتا بلکہ رمضان بھر بحث چلتی رہتی ہے۔ دوسری جانب مسجد قاسم علی خان میں جید علمائے کرام کا بورڈ بیٹھتا ہے جو ہلال کی رویت کے دعویداروں کی شہادتوں کا ٹھوک بجا کر جائزہ لیتی ہے۔ سوال و جواب کے ساتھ ساتھ شہادت دینے والے کے حوالے سے بھی حصول اطمینان کی سعی بھی ہوتی ہے جس کے بعد ہی مشاورت کے ساتھ شرعی فیصلہ کا اعلان کیا جاتا ہے۔ طریقہ کار مختلف نہیں فیصلہ سازوں پر شک و شبہ کی گنجائش نہیں پھر فیصلہ مختلف کیوں آتا ہے۔ خرابی کہاں ہے۔ اس کا سرا نہیں ملتا حسب دستور امسال بھی حکومت اور پشاور کی مقامی رویت ہلا ل کمیٹی میں فیصلوں پر اختلافات کی روایت برقراررہی ‘اور ایک بار پھر رمضان کا چاند متنازعہ رہا۔ چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان کے مطابق ملک کے کسی بھی حصے سے چاند نظر آنے کی کوئی شہادت نہیں ملی جبکہ 22 شہادتوں کی بنیاد پر مسجد قاسم علی خان میں منعقدہ مقامی رویت ہلال کمیٹی نے چاند نظر آنے اعلان کر دیا۔ پشاور، چارسدہ، مردان، بنوں اور قبائلی اضلاع سمیت صوبہ کے مختلف اضلاع میں روزہ رکھا گیا۔ ہمارے پاس کسی بھی فریق کے فیصلے کی مخالفت کا اختیار نہیں کہ مفتی کا فیصلہ قابل قبول ہوتا ہے۔ خواہ اس کی حکمت کی سمجھ آئے یا نہ آئے۔ ہمارے تئیں ہر دو آخرت میں اپنے اپنے فیصلوں کے لئے جوابدہ ہیں۔ عوام اپنی دانست اور حالات کے مطابق جس کی بھی تقدلید کریں گے ان پر کوئی وبال نہیں۔ چاند نظر آنے بارے یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ جب مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو کوئی شہادت موصول نہیں ہوئی تو خیبر پختونخوا میں اتنے بڑے پیمانے پر لوگوں نے چاند کیسے دیکھا ۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب عیدالفطر کے گزرنے تک ملے گا نہیں مگر پھر بھی سوال اٹھایا جاتا رہے گا۔ رویت ہلال کے تنازعے میں ہمیں نہ تو محکمہ موسمیات کی رپورٹ کا پاس ہوتا ہے اور نہ ہی رصد گاہوں سے ملنے والی رپورٹ کو وقعت دی جاتی ہے۔ عقل اور سائنس کو ایک طرف رکھ کر شہادتوں پر اکتفا کرنا تقاضائے شریعت ٹھہرایا جاتا ہے۔ حکومت لوگوں کے عقیدے میں مداخلت کا اختیار نہیں رکھتی۔ علمائے کرام مل بیٹھنے کو تیار نہیں۔ یہاں تک کہ ایک محفل میں بیٹھ کر چاند دیکھنے کے روادار نہیں جس کا نتیجہ روزوں اور عید کی تقسیم کی صورت میں نکلتا ہے۔ ہمیں جس دینی وحدت کی ضرورت ہے ہمارا دین ہم سے جس یکجہتی ویگانگت کا متقاضی ہے۔ وحدت کی اس پکار کو کوئی نہیں سنتا اس کی ذمہ داری کا تعین ہو نہیں پاتا مگر بالآخر فیصلہ سازوں نے آنا ہے جس پر ہمارا یقین بھی ہے مگر پھر بھی ہم اس مسئلے کے حل کیلئے شاید اسی دن کے منتظر ہیں۔ آخر ہمارے علمائے کرام کب تک مسلمانوں کو یوں گروہوں اور ٹکڑیوں میں بٹنے کا سبب بنتے جائیں گے۔ وہ دن کب آئے گا جب رمضان اور شوال کے چاند کی رویت کا متفقہ اعلان سننے کی حیرت سے ہم دوچار ہوں گے اور پورے ملک میں یکجہتی اور یگانگت کیساتھ ایک ہی دن روزہ اور عیدالفطر ہوگی۔

متعلقہ خبریں