Daily Mashriq

حکومت سے عوام کی توقعات

حکومت سے عوام کی توقعات

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ طاقت کے زور پر ملک کو اکٹھا نہیں رکھا جا سکتا، فوج نہیں عوام ملک کو متحد رکھتے ہیں۔ ریاست مدینہ کی بنیاد عدل وانصاف پر تھی طاقتور سے مال لیکر کمزور پر خرچ کیا جاتا تھا۔ انہوں نے ملک کے پسماندہ علاقوں کے عوام کی حالت زار کا حقیقت پسندانہ جائزہ بھی پیش کیا۔ اس بارے دو رائے نہیں کہ طاقت کے زور پر ملک کو اکٹھا نہیں رکھا جا سکتا حکمران عموماً اس قسم کے بیانات سے گریز کرتے ہیں اور اس طرح کا اظہار خیال حزب اختلاف کی جماعتیں یا ناراض قسم کے عناصر کرتی ہیں جن کو دور کرنا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر حکمران حکومت میں ہوتے ہوئے خود اپنے آپ کو مخاطب کریں اور اقدامات کی بجائے بیانات پراکتفا کرنے لگیں تو حکومت وریاست کی ذمہ داریاں کون پوری کرے گا۔ وزیراعظم کا فوج کے حوالے سے بیان کا تناظر اگر معلوم ہو اور وزیراعظم صراحت اور وضاحت سے بات کرتے تو ان کے مفہوم ومدعا سمجھنے میں مشکل پیش نہ آتی، ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کو اکٹھا اور متحد رکھنے میں عوام اور فوج کا ساتھ ساتھ ہونا بہت ضروری ہے۔ فوج اور عوام میں ہم آہنگی ہی ملک وقوم کے تحفظ وسلامتی وبقا اور اندرونی وبیرونی خطرات سے تحفظ کا ضامن ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم بار بار ریاست مدینہ کا حوالہ دینے کے باوجود فلاحی اسلامی مملکت اور خاص طور پر عوام کو مناسب آسانیوں کی فراہمی میں پیشرفت نہ ہونے سے خود ان کا موقف متاثر ہو رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جس عقیدے اور عقیدت کا باربار اظہار کیا جا رہا ہے اس ضمن میں ٹھوس اور مثبت پیشرفت میں اگر مشکلات حائل ہیں اور وسائل اس کی اجازت نہیں دے رہے تو کم ازکم سطحی اور کم سطح پر بھی کچھ ایسے اقدامات ہونے چاہئیں جس سے عوام کو قدرے ریلیف ملے۔ یہ بھی اگر ممکن نہ ہو تو مہنگائی کے اس جن کو قابو کیا جائے اور سرکاری نرخوں پر اشیا کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ عوام کی موجودہ حکومت سے توقعات گزشتہ حکومتوں سے کہیں بڑھ کر تھیں جن پر پورا اُترنے کے اقدامات ابھی تک نظر نہیں آرہے بلکہ مہنگائی میں دوگنا اضافہ ہونے سے عوام کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ عوام کو یوٹیلیٹی سٹورز پر رعایتی نرخوں پر اشیا کی فراہمی کیلئے رمضان المبارک میں ہر حکومت کوشاں رہی ہے اس مرتبہ اعلان کے باوجود یوٹیلیٹی سٹورز خالی ہیں اور عوام کو اشیائے ضروریہ کیلئے مجبوراً بازار کا رخ کرنا پڑ رہا ہے۔ حکومت کم ازکم یوٹیلیٹی سٹورز پر اشیائے صرف کی فراہمی یقینی بناسکے تو بقدر اشک بلبل عوام کو ریلیف مل سکے گا۔

ٹائیروں پر ڈیوٹی کی شرح کم کی جائے

ملک میں ٹائروں کے قانونی درآمد کے مقابلے میں سمگلنگ میں300فیصد اضافہ کو سوائے اعلیٰ حکام کی پوری ملی بھگت اور چشم پوشی کے علاوہ کسی اور بات سے تشبیہہ دینے کی گنجائش نہیں۔ یہ کوئی پوشیدہ حقیقت نہیں کہ کارخانو مارکیٹ سے ٹائروں کی صوبائی دارلحکومت پشاور کے مختلف علاقوں باالخصوص شعبہ بازار کو کھلے عام سپلائی ہوتی ہے۔ سمگلنگ کے باعث شہر کے مختلف مارکیٹ سمگلنگ شدہ ٹائروں سے بھرے پڑے ہیں۔ اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں بسوں، ٹرکوں کے ٹائروں کی قانونی درآمد 22فیصد اور ان کی سمگلنگ کا حجم ملکی مانگ کا76فیصد ہے۔ لائٹ ٹرک اور وین کے ٹائرز کی قانونی درآمد ملکی مانگ کے تیس فیصد، ملکی پیدوار گیارہ فیصد، اور سمگلنگ کا حجم ملکی مانگ کا59فیصد ہے۔ پسنجر کاروں اور ٹیکسیوں کے ٹائروں کی ملکی مانگ 19فیصد ملکی پیداوار سے پورا کیا جا رہا ہے۔ ٹرک اور بس کے ایک ٹائر کی درآمد پر3871 روپے ٹیکس ڈیوٹی ہے جن کے مقابلے میں پاکستان میں افغانستان سے سمگل ہوکر ٹائر کی لاگت 770روپے فی ٹائر ہے۔ سمگلنگ کے مکروہ دھندے کے باعث ملکی معیشت کو پہنچنے والے ناقابل تلافی نقصان کی کوئی توجیہہ پیش نہیں کی جا سکتی لیکن ٹائروں پر جس قدر بھاری ٹیکس ڈیوٹی عاید ہوتی ہے ان کے سمگلنگ کی سب سے بڑی وجہ غیرحقیقت پسندانہ ڈیوٹی ہے۔ حکومت اگر ڈیوٹی کم کر کے سمگلنگ کی مکمل روک تھام یقینی بنائے تو ملکی خزانے کو خطیر رقم آئے گی۔ سمگلنگ کی حوصلہ شکنی ہونے کیساتھ ساتھ صارفین کو بھی مناسب قیمت پر چیز میسر آئے گی اس قدر بھاری ڈیوٹی عائد کر کے اس کی وصولی نہ کر سکنا کونسی حکمت عملی ہے، اس کا جواب متعلقہ حکام ہی دے سکتے ہیں۔ حکومت کو اس پالیسی پر نظرثانی کرکے حقیقت پسندانہ شرح مقررکرنا چاہئے اور ملکی معیشت کو سمگلنگ سے پہنچنے والی صورتحال کا سخت انتظامی اقدامات کیساتھ ساتھ پالیسی میں تبدیلی لا کر بھی مقابلہ کرنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں