Daily Mashriq

’’ہم نے ہر کام والہانہ کیا‘‘

’’ہم نے ہر کام والہانہ کیا‘‘

عجیب سا موسم ہے‘ پڑھنے لکھنے کو جی ہی نہیں چاہتا حالانکہ روزگار اس پڑھنے لکھنے سے بندھا ہوا ہے۔ پچھلے چند دنوں کے دوران کچھ کتب خریدیں اور کچھ دوستوں نے عنایت کیں۔ میرے دو عزیز ترین دوستوں کے بڑے بھائی سید قمر رضا شہزاد نے اپنے تین شعری مجموعے عطا کئے۔ قمر بھائی کے گھٹنے چھوتا ہوں تو ایسا لگتا ہے اپنے بھیا ابو کی قدم بوسی کر رہا ہوں۔ اُردو کے معروف شاعر ہیں‘ چند دن قبل ان کا نیا مجموعہ کلام ’’خامشی‘‘ شائع ہوا ہے۔ اس کا ایک شعر آپ کی نذر کرتا ہوں

جنگ چھیڑی کہ دوستانہ کیا

ہم نے ہر کام والہانہ کیا

عجیب سے موسم کی بات کرتے ہیں‘ مجھے ملتان جانا تھا نہیں جا سکا۔ ساؤتھ پنجاب لیٹریری فیسٹیول کے منتظمین نے برادر محترم شاکر حسین شاکر کی معفرت مدعو کیا تھا۔ ’’وائس آف ساؤتھ پنجاب‘‘ کے طور پر اعزاز کا اعلان بھی ہوا۔ یہ اعزازیہ بہت سارے اہل علم ودانش‘ صحافیوں‘ براڈ کاسٹرز اور فنکاروں نے وصول کیا۔ دل نہیں مانا کئی عشروں سے سرائیکی شناخت کو مقصد زندگی قرار دیتے رہے اب وائس آف ساؤتھ پنجاب بن جائیں۔ شاکر حسین شاکر بڑے دل اور وسیع مطالعہ رکھنے والے مہربان ہیں‘ مجھ زمین زادے کی مجبوری سمجھ گئے ہوں گے۔ اب اس عمر میں نام بدل کر کیا کریں گے۔ سرائیکی تحریک کی داستان بہت طویل ہے فی الوقت تو یہ ہے کہ ایک عزیزجاں دوست جو ان دنوں ناراضگی کے بہانے تلاش کرتے رہتے ہیں پھر سے غیراعلانیہ چاند ماری میں مصروف ہوگئے ہیں۔ کتنی عجیب سی بات ہے کہ صبح وشام کتابوں کی دنیا میں رہنے والوں کے پاس ناراض ہونے کیلئے وقت بھی ہوتا ہے۔ فقیر راحموں کہتے ہیں دوست تو کعبہ کی طرح محترم ومحبوب ہوتے ہیں مگر یہ بات لوگوں کو کون سمجھائے۔ ہم قدم قدم پر سیکھنے کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ دوسرا المیہ یہ ہے کہ پنجابی زبان کی ترویج کیلئے قائم ایک ادارے کے حوالے سے سرائیکی اہل دانش کے دو ٹوک فیصلے کے بعد محض ایک معاملے میں مشاورت کو لابنگ قرار دیکر اہل دانش کی دو نمائندہ شخصیات کے لشکری سوشل میڈیا پر دست وگریباں ہیں۔ کھود کھود کے بدتر الفاظ لائے اور کہے جا رہے ہیں۔ لشکریوں کی اس ات پر پورا وسیب پریشان ہے۔ ہم تو گنگ دام ہیں کیا عرض کریں۔ طرفین سے تعلق پر احتراماً درخواستیں ضرور کیں مگر لشکری جنگ بندی کو کفر سمجھتے ہوئے ڈٹے ہوئے ہیں۔ پچھلے چالیس برسوں کے دوران جن اہل قلم نے سرائیکی قومی شناخت اور صوبے کیلئے متحرک ہوئے وسیب زادوں کی اپنے قلم سے رہنمائی کی ان میں لالہ زمان مہدی‘ جناب شمشاد احمد مرحوم کے علاوہ رحیم طلب‘ عمر علی خان بلوچ‘ مرید حسین‘ خان راز جتوئی‘ صوفی تاج محمد گوپانگ‘ سید اختر‘ عامر حسینی‘ میر کامران مگسی‘ ارشاد احمد امین‘ صفدر بلوچ سمیت درجنوں اہل قلم شامل ہیں۔ ان اہل قلم ودانش کی محنتوں کا ثمر ہی ہے کہ آج سرائیکی قومی سوال پر سیدھے سبھاؤ مکالمہ ہو رہا ہے۔ اپنی شناخت کی بحالی اور رنجیت سنگھ کے دور میں ہوئے قبضہ کے خاتمے کیلئے پرعزم جدوجہد سرائیکی وسیب کے دونوں حصوں میں ڈیرہ اسماعیل خان سے ٹانک جاری ہے۔ یہی اہل قلم ودانش ہیں جو معترض رہنے والوں کو دلیل کیساتھ جواب دیتے اور قومی شعور کے تحفظ میں دن رات ایک کئے ہوئے ہیں البتہ یہ امر بھی مسلمہ ہے کہ کوئی اخبار نویس جب اس حوالے سے تحریر لکھتا ہے اسے ذاتی پسند وناپسند سے بالاتر ہو کر ان شخصیات کا ذکر بھی کرنا پڑتا ہے جن سے اسے کوئی ذاتی رنجش ہو۔پچھلے کچھ عرصہ سے نامساعد حالات‘ بیماری اور دوسرے معاملات کی وجہ سے کبھی کبھی کالموں کے درمیان وقفہ زیادہ ہو جاتا ہے، کوشش کروں گا کہ مستقبل میں ایسا نہ ہونے پائے۔ دو دن ادھر ڈیرہ اسماعیل خان سے ایک قاری توقیر احمد مروت نے دریافت کیا آپ اب کم کیوں لکھنے لگے؟ عرض کیا کچھ ذاتی وجوہات ہیں کسی طرف سے کوئی پابندی ہے نا دباؤ۔ 3مئی کو عالمی یوم صحافت کے موقع پر سوشل میڈیا پر ایک منصوبے کے تحت اہل صحافت کیخلاف زہریلی مہم چلائی گئی اس میں پیش پیش تبدیلی والے اور مذہبی جماعتوں کے متاثرین تھے۔ کیسے بدقسمت سماج میں سانس لینے پر مجبور ہیں کہ دو لفظ ٹائپ کر لینے والا بھی اعلیٰ درجہ کا دانشور بنا پھرتا ہے۔ آزادی صحافت کیلئے اس ملک کے صحافیوں نے جتنی قربانیاں دیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ قید وبند، کوڑے‘ جرمانے ‘ بیروزگاری‘ عقوبت خانوں میں تشدد کا سامنا کرنیوالے انگنت صحافیوں نے قلم کی آبرو کی حفاظت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ لاریب چند کالی بھیڑیں ہوں گی مگر ان کے جرائم کا ملبہ شعبہ صحافت پر کیوں ڈالا جائے؟ کوئی سمجھائے انہیں کہ کیا یہ حاجیوں کا سماج ہے۔ 3مئی کو اہل صحافت کیخلاف منظم مہم کے دوران ایک صاحب سے کہا آپ جو دونمبر کھاد فروخت کرتے ہیں وہ کس قانون کے تحت حلال ہے؟ جواب دینے کی بجائے واہی بتاہی پر اُتر آئے۔ کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ اہل صحافت‘ دانش اور جمہوریت کیخلاف منظم مہم کے پیچھے موجود عقبریوں کی ایک ہی خواہش ہے کہ عوام الناس ان کے سوا سب کو چور اچکا ‘ غدار‘ ضمیر فروش سمجھیں کہیں لکھیں۔ کیا ان کی خدمت میں یہ عرض کیا جاسکتا ہے کہ وقت ایک جیسا نہیں رہتا، عدم برداشت کے جس طوفان بدتمیزی کو وہ حب الوطنی قرار دے رہے ہیں یہ ایسی بربادیوں کا دروازہ کھولنے کا ذریعہ ہوگا جس کی تباہ کاریوں سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔

متعلقہ خبریں