Daily Mashriq


ہرا بھرا مذاق

ہرا بھرا مذاق

حکومتی زبان میں رولز آف بزنس اس امر کو کہا جاتا ہے کہ حکومتی امور کن ضوابط کے دائرے میں انجام دیئے جائیں گے، جب وفاقی کابینہ میں تبدیلی لائی گئی تو یہ تاثر تھا کہ جن کی کارکردگی بہتر نہیں تھی ان کو ادھر ادھر کر دیا گیا چنانچہ ادویہ کی قیمتوں پر جب عوام کی چیخیں نکل گئیں تو خبر آئی کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کی اطلاع پاکر وزیراعظم پریشان سے ہوگئے چنانچہ انہوں نے فوری طور پر قیمتوں کو پرانے مقام پر لانے کا حکم دیا ہے حالانکہ ہر شخص اس بزنس آف رولز سے واقف ہے کہ اشیاء کی قیمتوں میں کابینہ کی منظوری لی جاتی ہے جس کی صدارت وزیراعظم کرتے ہیں حیرت ہے کہ جب کابینہ نے منظوری دی تو اس وقت انہیں علم نہیںہو پایا، پھر ان کی طرف سے قیمتوں کا کم کرنے کا حکم آیا اس کا کیا ردعمل نکلا، بہرحال وفاقی کابینہ نے قیمتیں کم کرنے کی منظوری دیدی ہے لیکن عمل درآمد ہونا ابھی باقی ہی ہے، اس قضئے کے بعد اب حکومت نے رمضان سے قبل پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے فی لیٹر پیٹرول9روپے42پیسے مہنگا کر دیا جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 108روپے 31پیسے ہوگئی جبکہ مٹی کا تیل اضافے کے بعد 96روپے 77 پیسے فی لیٹر ہوگیا۔ ڈیزل کی نئی قیمت122روپے32 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی جبکہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت 86روپے 94پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ابھی پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں کی منظوری کابینہ سے لینا باقی ہے، لیکن پہلی بار قیمتوں میں اضافے کی اطلاع براہ راست آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو دی گئی ہے اس کیساتھ ہی ایف بی آر نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر لاگو ٹیکس میں اضافے کی نئی شرح بھی جاری کر دی ہے۔ پیٹرول پر جی ایس ٹی2فیصد سے بڑھا کر12فیصد کر دیا، ہائی اسپیڈ اور لائٹ ڈیزل پر ٹیکس کی یکساں شرح بڑھا کر17فیصد کی گئی ہے جبکہ مٹی کے تیل پر جی ایس ٹی 8فیصد سے بڑھا کر17فیصد کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب ہرا بھرا مذاق یہ ہوا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کہتی ہیں کہ پیٹرول بم جان بوجھ کر نہیں گرایا، عالمی سطح پر تیل کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے، قیمتوں میں اضافے کا بوجھ حکومت اور عوام کو ملکر برداشت کرنا پڑیگا جبکہ عالمی منڈی میں اسی روز تیل کی قیمتو ں میں ڈیڑھ ڈالر سے زیادہ کی کمی ہوئی۔ ادھر ایک بھڑکتی اور جھلملاتی خبر یہ مل رہی ہے کہ صحت گرانے کا فیصلہ ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق ایم ٹی آئی، بورڈ آف گورنرز میڈیکل ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان کی اہم میٹنگ میں ہسپتال میں دی جانے والے سہولیات میں اضافے اور ایسی سہولیات کہ جن پر فیسس نہیں لی جاتی ان کی فیسس لینے پر بلائی گئی ، جس میں یہ طے پایا کہ 39سہولیات میں سے فٹنس سرٹیفکیٹ، معذوری سرٹیفکیٹ لینے کیلئے100روپے فیس ادا کرنا ہوگی، میڈیکولیگل رپورٹ لینے کیلئے100روپے فیس، میڈیکل بورڈ کی فیس300روپے، او پی ڈی پرچی20روپے اور داخلہ فیس50روپے کر دی گئی، یہ تمام فیس 1مئی2019سے لاگو کر دی جائیں گی جب سے پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہوئی ہے تب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ خزانہ خالی ہے عوام کو مہنگائی اور ٹیکسوں کی صورت میں بوجھ اٹھانا ہی ہوگا مگر ورلڈ بینک کیا کہہ رہا ہے اس طرف بھی نظر ڈالی جائے تو بہتر ہے۔ ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اپنی آمدن کی کمی پوری کرنے کیلئے اضافی ٹیکسز عائد کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق مذکورہ انکشاف ورلڈ بینک کی جانب سے پاکستان ریونیو موبلائیزیشن پروجیکٹ کی تیار کردہ رپورٹ میں سامنے آیا۔ عالمی بینک رپورٹ میں کہا گیا کہ اس وقت پاکستان میں ٹیکس حکام آمدن کی صلاحیت کا صرف 50فیصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ دنیا کے دیگر ٹیکس حکام کے برعکس پاکستان کا فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اپنے کام کیساتھ ایک منظم ادارہ نہیں ہے اور نہ ہی اس میں واضح درجہ بندی موجود ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ایف بی آر پورے ملک میں موجودگی ہے جہاں اس کے پاس مجموعی طور پر 21ہزار ملازمین ہیں، جن میں سے 2تہائی حصہ ان لینڈ ریونیو سروس (آئی آر ایس) کیلئے جبکہ ایک تہائی حصہ پاکستان کسٹمز کیلئے کام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ عالمی بینک نے وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون کی کمی کا بھی انکشاف کیا اور بتایا کہ اس کی وجہ سے ملک کی مجموعی ٹیکس آمدن پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔ عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں تجویز پیش کی کہ پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ وہ مالی استحکام اور سرمایہ کاری کی فضا قائم کرنے کیلئے اپنی ٹیکس آمدن بڑھائے۔ ایک ماہر اقتصادیات ومعاشیات کا کہنا ہے کہ مہنگائی گھنٹوں کے حساب سے بڑھ رہی ہے جبکہ آمدن منٹوں کے حساب سے گھٹ رہی ہے، ایک بزنس مین کا بتانا ہے کہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے صرف گاڑیو ں کی درآمد میںکمی کی وجہ سے اربوں روپے کی آمدنی گھٹ گئی ہے، کراچی بندرگاہ پر ہر ماہ تقریباً آٹھ ہزار گاڑیاں آیا کرتی تھیں جس کے ٹیکس اور ڈیوٹی سے حکومت کو اربوں روپے کی آمدنی ہر ماہ تھی مگر غلط فیصلوں اور پالیسیوں کی وجہ سے گزشتہ ماہ صرف اٹہتر گاڑیاں بندرگاہ پر اُتریں جس سے حکومت کے ٹیکسز کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، یہ گاڑیاں نجی طور پر منگوائی جاتی ہیں، ڈالر میں ادائیگی ہوتی ہے اور ٹیکس بھی ڈالر میں ادا کئے جاتے ہیں جس سے قومی خزانے کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ہے۔ اگر سرکاری ادارے ٹیکس چوری چھوڑ دیں اور حکومت کوئی فعال کردار ادا کرے اور ٹیکس ریونیو پوری طرح وصول کرے تو ملک میں اشیاء ضروریہ کی قیمتیں بھی گر جا ئیں گی، اقتصادی پالیسی آئی ایم ایف کے حوالے کرنے کی بھی ضرورت نہ پڑیگی۔

متعلقہ خبریں