Daily Mashriq


نیب، کرپشن اور معیشت

نیب، کرپشن اور معیشت

چند دن قبل سابق صدر آصف زرداری نے کہا تھا کہ معیشت اور نیب ایک ساتھ نہیں چل سکتے یا نیب کی کارروائیاں چلیں گی یا معیشت کا پہیہ رواں رہے گا۔ اسی بات کا جواب چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے ایک تقریب سے خطاب کے دوران دیا ہے۔ چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ نیب بھی چلے گا اور معیشت بھی البتہ نیب اور کرپشن ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ بدعنوانی نہ ہوتی تو ملک کو قرض نہ لینا پڑتا۔ ڈکیتیوں میں مصروف لوگوں کیلئے نیب کالا قانون ہے۔ انہوں نے کہا کہ پلی بارگین قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے اور یہ ترمیم ہونی چاہئے۔ آصف علی زرداری کا یہ استدلال واقعی ناقابل فہم تھا کہ نیب اور معیشت ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ نیب کا کام بدعنوانی کی روک تھام، قانون کا خوف اور احترام کا جذبہ پیدا کرنا اور قومی دولت لوٹنے والوں سے یہ دولت واپس لینا بصورت دیگر ان کے مقدمات متعلقہ عدالتوں میں بھیجنا ہے۔ یہ دنیا میں کوئی انوکھا کام نہیں اور نہ ہی پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں بدعنوانی کیخلاف اقدامات اُٹھائے جا رہے ہیں۔

قائد اور اقبال نے اس پاکستان کا خواب دیکھا تھا نہ اس کیلئے عملی جدوجہد کی تھی۔ آج ملک کو اس حال تک پہنچانے کی بڑی وجہ بدعنوانی اور وسائل کی لوٹ مار ہے۔ اس گنگا میں سب نے حسب توفیق اور حسب طاقت نہایا ہے۔ گاجریں سب نے کھائی ہیں کسی نے کم تو کسی نے زیادہ۔ اب کسی کے پیٹ میں درد ہو رہا ہے تو یہ اس کے اعمال کا منطقی نتیجہ ہے۔ ماضی میں مرضی کے احتساب کا عمل چلتا رہا یا احتساب گاڑی تھوڑی دور چل کر این آر او کی کھائی میں گر جاتی رہی اس لئے موجودہ احتسابی عمل لوگوں کو بے چین اور پریشاں کئے ہوئے ہے۔ دنیا میں احتساب سے معیشت کا پہیہ کبھی رکتا نہیں۔ ایسا ہوتا تو بڑی جمہوریتیں جہاں مضبوط احتسابی ادارے کام کرتے ہیں معاشی طور پر کنگال ہو چکے ہوتے۔ یہ قطعی ایک غلط تصور ہے جس کی اصلاح چیئرمین نیب نے یہ کہہ کے کر دی ہے کہ نیب اور کرپشن ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ نیب کے قوانین میں جہاں سقم ہے اسے دور کیا جا سکتا ہے مگر یہ کہنا کہ نیب کے دفاتر کو تالے لگا دئیے جائیں پتلی گلی سے نکلنے کی کوشش ہے۔ ایک دوبار یہ تو شاطرانہ چال چل جاتی ہے مگر ہر بار داؤ لگنا ممکن نہیں ہوتا۔ نیب کا مطلب برا یا بھلا احتساب ہے۔ نیب ازخود کوئی چیز نہیں یہ ایک مقصد کیلئے قائم اور اس سے منسوب ادارہ ہے۔ احتساب بھی پوری قوت اور رفتار سے جاری رہنا چاہئے اور معیشت کا پہیہ بھی تیزی سے دوڑتا چلے جانا چاہئے۔ حکومت نے اسد عمر کو ہٹا کر حفیظ شیخ کو مشیر خزانہ کا چارج دیا تھا تو اسی وقت کہا جانے لگا تھا کہ آئی ایم ایف نے ملک کے مالیاتی شعبے میں اپنی پسند کے لوگ تعینات کرانا شروع کر دئیے ہیں۔ حفیظ شیخ بھی آئی ایم ایف کی پسند سمجھے جاتے ہیں۔ یوں لگتا ہے حفیظ شیخ اب اپنے بااعتماد لوگ آگے لارہے ہیں۔ ایک طرف حالات یہ ہیں کہ مہنگائی کنٹرول سے باہر ہو رہی ہے تو دوسری طرف مشیر تجارت رزاق داؤد کہہ رہے ہیں کہ مہنگائی صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں مگر پاکستان کے لوگوں کو اس سے کیا غرض ہے۔ وہ اپنی مہنگائی اور اپنے مقدر کا رونا روسکتے ہیں اور حکومت سے سوال پوچھنا اور فریاد کرنا ان کا حق ہے۔ اس کے جواب میں روس، چین اور برطانیہ کی مثالوں سے عوام کو مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔ انہیں باعزت زندگی گزارنے کیلئے سازگار ماحول چاہئے۔ اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ماضی کی حکمران جماعتیں بھی نمبر سکور کرنے سے باز نہیں آتیں اور آئیں بھی کیوں انہیں تو مدت بعد حساب بے باق کرنے کا موقع مل گیا ہے۔ مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے تو کہا ہے ملک پر آئی ایم ایف کی حکومت قائم ہو گئی ہے۔ آصف زرداری کہہ چکے ہیں کہ نیب اور معیشت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ شہباز شریف بھی لندن سے مہنگائی دیکھ کر توبہ توبہ کرنے لگے ہیں۔ حد تو یہ کہ سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار بھی حکومت کو اس معاشی بھنور سے نکلنے کے مشورے دے رہے ہیں۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی تو سب پر بازی لے گئے انہوں نے عمران خان ہوشیارباش کے انداز میں کہا کہ ملک میں آمریت کا خطرہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں انہوں نے عمران خان کو اشارہ دیا ہے کہ اگر معاشی حالات یونہی قابو سے باہر رہے تو فوج براہ راست اقتدار سنبھال سکتی ہے۔ یہ شاید دور کی کوڑی ہے۔ فوج نے اپنے دوستوں، معاونین، ہمنواؤں اور ٹیکنوکریٹس کی ساری ٹیم حکومت کے حوالے کر دی ہے۔ یہ ٹیم براہ راست فوجی حکومت کے دور میں جنرل مشرف کے گرد جمع تھی اور اسی دور میں تنکا تنکا کرکے جوڑی گئی تھی۔ اب یہی شہ دماغ عمران خان کی حکومت کی معاشی پالیسیوں کو چلارہے ہیں اگر اس ٹیم سے حالات سنبھل نہ سکے تو پھر فوج کے پاس مسائل کے حل کی کون سی گیدڑ سنگھی ہے؟۔

متعلقہ خبریں