Daily Mashriq


ہار جیت کوئی بھی آخری نہیں ہوتی

ہار جیت کوئی بھی آخری نہیں ہوتی

صبح بخیر کا دعائیہ اور خیرسگالی کلمہ ہمیں ہر روز صبح سویرے اپنے میٹھے پیارے دوست احباب یار بیلیوں کے چہکتے ایس ایم ایس کے ذریعے ملتا ہے تو ہمارا دل بلیوں اچھلنے لگتا ہے اور ہم دل کی اتھاہ گہرایوں سے اپنی زندگی کو رواں رکھنے کا بہانہ بننے والے ان سنگی ساتھیوں کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔ اسے تساہل کہہ لیں، ناسازیٔ طبع یا عدیم الفرصتی کہ کبھی ہم اپنے محبوب دوستوں کے پیار بھرے جذبات کا جواب اس ہی جوش اور جذبہ سے دے پاتے ہیں اور کبھی شومئی قسمت سے ہم ایسا کرنے میں ناکام قرار پاتے ہیں لیکن بھلا ہو ان کا جو ہماری اس سرد مہری کے باوجود صبح نور کی ہر کرن کے دوش پر اپنے پیار بھرے دل کی دھک دھک نہ صرف ہمیں بھیجتے ہیں، ہماری طرح کے ہر کس وناکس کی جھولی میں یہ شیرینی ڈالتے رہتے ہیں۔ جزاک اللہ، اللہ انہیں اجر عظیم دے۔ ہمارے دل کی گہرایوں سے نکلے ہوئے یہ الفاظ نوک کلک تک پہنچنے کے فوراً بعد تیز رفتار انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بدولت جانے ایک سیکنڈ کے کتنے ویں حصے میں میلوں کا سفر طے کرکے ان تک پہنچ جاتے ہیں۔ صبح بخیر کا یہ کلمہ ہمیں صرف ہمارے دوست احباب کی جانب سے موصول نہیں ہوتا رب کن فیکون کی اس کائنات کا ہر ہر منظر اپنے ان سحر خیز دوستوں کے آنکھوں کی تراوٹ کا باعث بنتا ہے۔ جو ’الصَّلٰواۃُ خیرُ مِنَِ النَّوم‘ کی دعوت سن کر بیدار ہوتے ہیں اور جب وہ عبادت صبح گاہی سے فارغ ہوتے ہیں تو رب کائنات کی حمد وثناء کرنے کے عادی پنکھ پکھیرو اور پنچھیوں کی چہکتی آوازوں میں صبح بخیر کا یہی میٹھا اور پیارا کلمہ ان کے کانوں میں سحر بھرا رس پھونکنے لگتا ہے اور کبھی کبھی تو صبح سویرے منہ اندھیرے چڑیوں کے غول درغول اتنے شور سے صبح بخیر کا یہ نغمہ الاپتے ہیں کہ شاعروںکے اشعار بول اُٹھتے ہیں کہ

سورج نے نکلنے میں ذرا دیر کیا کردی

چڑیوں نے آسمان کو سر پر اُٹھا لیا

صبح دم تیتر جب صبح بخیر کا نغمہ الاپتا ہے تو سینہ پھلا پھلا کر اور چیخ چیخ کر کہہ رہا ہوتا ہے۔ سبحان تیری قدرت، ہم نے یہ بات اپنے بڑے بزرگوں سے سن رکھی تھی۔ تیتر کی آواز سن کر ہمارے لبوں پر ’سبحان اللہ وبحمدہ‘ کا کلمہ مچلنے لگا۔ سنو سنو تیتر کیا کہہ رہا ہے۔ ہم نے بھولے باچھا کو مخاطب کر کے کہا۔ یہ کہہ رہا ہے! سبحان تیری قدرت۔ نہیں نہیں یہ کہہ رہا ہے کھا گھی اور کر ورزش، بھولے باچھا نے ہماری اس بات کا ترکی بہ ترکی ایسا جواب دیا کہ ہم چکرا کر رہ گئے۔ اصل میں قصور بھولے باچھا کا نہیں تھا۔ ان دنوں اسے پہلوانی کرنے کا شوق تھا اور اس کے سر میں اسکے اس شوق کا اس قدر سودا سمایا ہوا تھا کہ اسے سبحان تیری قدرت کی آواز میں بھی پہلوانی کے داؤ پیچ کے علاوہ ورزش کرنے اور گھی کھانے کی نصیحت نظر آنے لگی۔ ہم اس دنیا کو دارالمکافات کہتے ہیں اور لوگوں کو بتاتے رہتے ہیں

سو برس کی زندگی میں ایک پل

تو اگر کر لے کوئی اچھا عمل

تجھ کو دنیا میں ملے گا اس کا پھل

آج جو کچھ بوئے گا کاٹے گا کل

کچھ اہل دانش کی نظر میں یہ دنیا عالم اضداد ہے یعنی یہاں اگر دن ہے تو اس کی ضد رات بھی ہے۔ دھوپ ہے تو چھاؤں بھی ہے۔ بہار ہے تو خزاں کی موجودگی سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔

جانتے ہیں اس راز کو ارباب حسن وعشق

آبادیوں کے واسطے ویرانہ چاہئے

یہ دنیائے آب وگل عجیب سی جادو نگری ہے۔ جس نے اپنی آنکھوں پر جونسا چشمہ لگا رکھا ہے اس کو دنیا ویسی ہی نظر آتی ہے۔ اگر آج کے دن ہم بھولے باچھا نامی پہلوان سے دنیا کیسی نظر آتی ہے کہتے تو وہ ہمارے اس سوال کے جواب میں کہہ اُٹھتا کہ یہ دنیا ایک اکھاڑہ ہے اور ہم اس کا یہ جواب سن کر ہم بھی کہہ اُٹھتے کہ جواب درست ہے کیونکہ آج پاکستان سمیت ساری دنیا میں اتھلیٹک ڈے منایا جا رہا ہے۔ آج کے دن آپ اس دنیا کو ریسلنگ رنگ کہہ لیں یا کسی کھیل کا میدان اسداللہ خان غالب کی وہ تماشا گاہ مان لیں جسکے متعلق انہوں نے برسوں پہلے کہا تھا کہ

بازیچۂ اطفال ہے دنیا میرے آگے

ہوتا ہے شب وروز تماشا میرے آگے

ہم اس بازیچۂ اطفال میں ہوش سنبھالتے ہی کھیلتے کودتے وارد ہوتے ہیں اور ہمارے بڑے بزرگ ہمیں لاکھ کہتے رہیں کہ

پڑھو گے لکھو کے بنو گے نواب

جو کھیلو گے کودو گے ہوگے خراب

ہم اپنی فطرت کے مطابق ان کی اس بات کو خاطر میں نہیں لاتے اور فتح وکامرانی کی تلاش میں دنیا کو اتھلیٹک گراؤنڈ سمجھ کر کھیل کود کر اور لڑ جھگڑ کر اپنے سے کمزور کو کچل کر دوسروں کے حقوق غصب کرکے آگے بڑھنے کا شوق پورا کرتے رہتے ہیں مگر ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اچھا اتھلیٹ کبھی بھی ان اصول اور ضابطوں کی دھجیاں نہیں اُڑاتا جو کھلاڑی کو اتھلیٹک کی منزل ومعیار تک پہنچانے کا باعث بنتے ہیں۔ اگر آپ اس دنیا کو اتھلیٹک گراؤنڈ ہی تصور کر لیں تب بھی آپ کو اسے دارالمکافات ماننا پڑیگا کیونکہ یعنی جیسا کرنا ویسا بھرنا پڑتا ہے۔اس عالم اضداد میں ہار اور جیت لازم وملزوم ہیں اور ہر ہارنے والا جیت بھی سکتا ہے اور جیتنے والے کے گلے میں ہار تو ڈالے ہی جاتے ہیں

کھیل زندگی کے تم کھیلتے رہو یارو

ہار جیت کوئی بھی آخری نہیں ہوتی

متعلقہ خبریں