Daily Mashriq

چاند کی رویت کا تنازع حل کرنے کے لیے کمیٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری

چاند کی رویت کا تنازع حل کرنے کے لیے کمیٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ چاند کی رویت کا تنازع حل کرنے کے لیے کمیٹی قائم کردی گئی۔

سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ کمیٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ چاند کا تنازع حل کرنے کے لیے کمیٹی کا قیام عمل میں لایا چکا ہے۔

وفاقی وزیر کی جانب سے شیئر کیے جانے والے نوٹیفکیشن کے مطابق چاند کی رویت کے معاملے پر وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی 6 رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔

کمیٹی کی سربراہی وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے جوائنٹ سائنٹفیک ایڈوائز ڈاکٹر محمد طارق مسعود کررہے ہیں جبکہ کمیٹی کے دیگر ارکان میں محکمہ موسمیات سے ڈاکٹر وقار احمد، ندیم فیصل، ابو نسان اور سپارکو سے غلام مرتضی شامل ہیں۔

5 مئی 2019 کو پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے آئندہ 10 سال تک اسلامی کلینڈرز کے تعین اور چاند کی رویت کے معاملے میں اختلافات کو دور کرنے کے لیے ایک کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا تھا۔

یہ اعلان وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیا تھا، وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں چاند کے معاملے پر تنازع کو ختم کرنے کے لیے ایک کمیٹی قائم کردی گئی ہے جو آئندہ 10 سال کے لیے اسلامی کلینڈر کی تاریخ کا تعین کرے گی۔

انہوں نے بتایا تھا کہ مذکورہ کمیٹی 5 اراکین پر مشتمل ہوگی جن میں سپارکو، محکمہ موسمیات اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ماہرین شامل ہوں گے۔

فواد چوہدری نے بتایا تھا کہ کمیٹی عیدین، محرم اور رمضان سمیت پورے 12 مہینوں کی تاریخ کے کلینڈر کا اعلان کرے گی، ان کا کہنا تھا کہ آئندہ 10 برس کے لیے آنے والے اس کلینڈر سے ہر سال پیدا ہونے والا تنازع ختم ہوجائے گا۔

پانچ رکنی کمیٹی قائم کی ہے جس میں سپارکو،محکمہ موسمیات اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے ماھرین شامل ہوں گے یہ کمیٹی اگلے دس سال کے چاند، عیدین ، محرم اور رمضان سمیت دیگر اہم کیلنڈر کی تاریخ کا کیلنڈر جاری کرےگی۔ اس سے ہر سال پیدا ہونیوالا تنازعہ ختم ہو گا۔

 اپنے ایک اور ٹوئٹ میں فواد چوہدری نے ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی وزارت نے یہ فیصلہ کیا کہ کمیٹی جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے پاکستان کا ایک قمری کلینڈر جاری کیا جائے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ہم نے عید اور رمضان کے مہینوں میں یہ دیکھا ہے کہ چاند کی رویت پر ایک تنازع کھڑا ہوجاتا ہے، تاہم اگر جدید ٹیکنالوجی موجود ہے تو چاند کی حتمی تاریخ کا تعین کرنے کے لیے ہم اسے کیوں استعمال نہیں کر سکتے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ رویت ہلال کمیٹی بھی اس وقت دوربین سے چاند دیکھتی ہے تاہم اگر پرانی ٹیکنالوجی استعمال کی جاسکتی ہے تو جدید ٹیکنالوجی استعمال کیوں نہیں کی جاسکتی؟

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا کہنا تھا کہ ان کی وزارت نے اپنا فیصلہ کرلیا ہے، ہم بہت جلد ایک کلینڈر ترتیب دے کر وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کریں گے جس کے بعد کابینہ کے پاس اس کی منظوری اور مسترد کرنے کا اختیار ہوگا۔

 دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ان سے سوال کیا گیا کہ کیا مذہبی طبقہ اس فیصلے کو قبول کر لے گا جس پر فواد چوہدری نے کہا کہ ملک چلانے کا فیصلہ مولانا پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔

فواد چوہدری نے دعویٰ کیا کہ مذہبی طبقے کے قبول کرنے یا نہ کرنے کی رو سے پاکستان کا قیام ہی عمل میں نہ آتا کیونکہ تمام بڑے علما تو قیام پاکستان کے مخالف تھے۔

فواد چوہدری نے واضح کیا کہ ملک کے مستقبل کا سفر ’مولویوں‘ نے نہیں بلکہ نوجوانوں نے کرنا ہے اور ٹیکنالوجی ہی قوم کو آگے لے جاسکتی ہے۔

یہ فیصلہ کہ ملک کیسے چلنا ہے مولانا پر نہیں چھوڑا جا سکتا، اس رو سے پاکستان کا قیام ہی عمل میں نہ آتا کیونکہ تمام بڑے علماء تو پاکستان کے قیام کے مخالف تھے اور جناح صاحب کو کافر آعظم کہتے تھے، آگے کا سفر مولویوں نے نہیں نوجوانوں نے کرنا ہے اور ٹیکنالوجی ہی قوم کو آگے لیجا سکتی ہے

خیال رہے کہ رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لیے آج کراچی میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس ہوگا جبکہ محکمہ موسمیات کی جانب سے امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ آج چاند نظر نہیں آئے گا۔

متعلقہ خبریں