Daily Mashriq

پاکستانی نوجوان کے قتل پر 2 یونانی شہریوں کو 21 سال قید کی سزا

پاکستانی نوجوان کے قتل پر 2 یونانی شہریوں کو 21 سال قید کی سزا

ایتھنز: نسل پرستی کی بنیاد پر پاکستانی پناہ گزین رضاکار کو قتل کرنے پر یونان کے 2 شہریوں کو 21 سال قید کی سزا سنادی گئی۔

عدالتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ نیو نازی گولڈن ڈان پارٹی کے تاریخی ٹرائل پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔

خیال رہے کہ 27 سالہ شہزاد لقمان سائیکل پر اییتھنز کے علاقے پیٹرالونا سے کام پر جارہے تھے جب 29 سالہ کرسٹو اسٹرگیپولوس اور 25 سالہ ڈائنسس لائیکوپولس نامی نوجوانوں نے انہیں بے دردی سے چاقو کے وار سے قتل کردیا تھا۔

اس سے قبل اس کیس کی سماعت کرنے والی عدالت نے دونوں مجرمان کو عمر قید کی سزا دی تھی جسے ایک اپیل پر گزشتہ روز کم کردیا گیا۔

شہزاد لقمان کے قتل کی تحقیقات 2015 میں شروع ہونے والے گولڈن ڈان ٹرائل کے تناظر میں کی گئیں۔

واضح رہے کہ یونانی پولیس کو مجرمان کے گھروں کی تلاشی کے بعد مختلف ہتھیار اور گولڈن ڈان پارٹی کے پمفلٹس ملے تھے تاہم قاتلوں نے اس پارٹی کے روابط سے انکار کرتے ہوئے قتل کو ایک تنازع کا شاخسانہ قرار دیا تھا۔

دوسری جانب استغاثہ یہ ثابت کرنے کی کوششوں میں لگا رہا کہ گولڈن ڈان پارٹی کے عہدیدار اگر براہِ راست سیاسی مخالفین اور غیر ملکیوں کے خلاف اس قسم کی اشتعال انگیزی کے احکامات نہیں دیتے تو اس کی حوصلہ افزائی ضرور کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ گولڈن ڈان پارٹی کے حوالے سے جاری مقدمے کا فیصلہ آئندہ سال متوقع ہے۔

ماضی میں یونان کی سیاست پر چھائی رہنے والی گولڈن ڈان پارٹی نے ملک کو غیر قانونی پناہ گزینوں کے خاتمے کے عہد کے ساتھ 2012 میں اس وقت ایوان میں پہلی مرتبہ قدم رکھا جب اس کے ووٹوں کی تعداد 19 ہزار سے بڑھ کر 4 لاکھ 26 ہزار تک پہنچ گئی تھی۔

جس کے بعد 2015 میں یہ پارٹی 3 لاکھ 80 ہزار ووٹس حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔

گولڈن ڈان پارٹی یونان کی چوتھی بڑی پارٹی ہے، اور رائے عامہ اس جانب اشارہ کررہی کہ اس سال ہونے والے انتخابات میں یہ جماعت مجموعی ووٹوں کی 8 فیصد تعداد حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں