Daily Mashriq

ساحر لودھی اور شبیر ابو طالب رمضان نشریات کے لیے پھر سے ایک ساتھ

ساحر لودھی اور شبیر ابو طالب رمضان نشریات کے لیے پھر سے ایک ساتھ

پاکستانی آرٹسٹ شبیر ابو طالب اپنی 15ویں سالانہ رمضان ٹرانسمیشن کی میزبانی کے لیے تیار ہیں، جبکہ اس ٹرانمیشن میں ایک مرتبہ پھر اداکار ساحر لودھی ان کا ساتھ دیتے نظر آئیں گے۔

شبیر ابو طالب کا اپنی رمضان ٹرانسمیشن کے حوالے سے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’اس ٹرانسمیشن کا آغاز سحری سے ہوگا، جس کے بعد افطار ٹرانسمیشن ہوگی اور پھر گیم شو نشر کیا جائے گا‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہماری افطار ٹرانسمیشن کی میزبانی ساحر لودھی کریں گے، اس ٹرانسمیشن میں کئی ایونٹس ہوں گے جیسے قوالی، محفل نعت اور محفل علما، جس کے بعد حاضرین کے درمیان مقابلے ہوں گے، جس میں لوگ کئی انعامات جیت سکیں گے، جس میں ایک انعام عمرے کا ٹکٹ بھی ہے، جبکہ شو میں کئی نامور شخصیات کو بھی مدعو کیا جائے گا‘۔

شبیر کا مزید کہنا تھا کہ ’افطار کے بعد گیم شو ہوگا، جو ساحر لودھی کے اسٹائل کا ہوگا، اس میں کئی دلچسپ کھیل کھیلے جائیں گے اور انعامات دیے جائیں گے‘۔

اس دوران شبیر ابو طالب نے اپنی ساتھی میزبان ساحر لودھی کو سراہاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہ نہایت پرجوش شخصیت کے مالک ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ان کی خاصیت یہ ہے کہ وہ بےحد پرجوش ہیں، وہ اپنے شو کے دوران لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنا جانتے ہیں، ان کا نام بہت بڑا ہے اور سب ہی انہیں پسند کرتے ہیں، خاص بات یہ ہے کہ وہ رمضان آنے سے قبل اپنی پوری تیاری مکمل کرلیتے ہیں‘۔

یہ رمضان ٹرانسمیشن ٹی وی ون پر نشر کی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے تقریباً تمام ٹی وی چینلز رمضان نشریات کے دوران سحر و وافطار کے اوقات میں مختلف پروگرامات نشر کرتے ہیں۔

رواں برس بھی مختلف ٹی وی چینلز کی جانب سے رمضان نشریات کے تحت پروگرامات نشر کیے جائیں گے۔

رمضان نشریات میں نشر کیے جانے والے پروگرامات کی میزبانی شو شخصیات کو دینے کے حوالے سے چند روز قبل ہی پنجاب اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی تھی۔

پنجاب اسمبلی کی جانب سے منظور کی گئی قراداد میں رمضان نشریات کے پروگراموں کی میزبانی شوبز شخصیات کو دینے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

قرارداد کے ذریعے وفاقی حکومت سے کہا گیا تھا کہ وہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹر اتھارٹی (پیمرا) کو اس بات کا پابند بنائے کہ رمضان نشریات کے کسی پروگرام کی میزبانی شوبز شخصیات کو نہ دی جائے۔

متعلقہ خبریں