انتخابات کا انعقاد بروقت ہونا چاہئے

انتخابات کا انعقاد بروقت ہونا چاہئے

تحریک انصاف کے مرکزی ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم انتخابات میں تاخیر نہیں بلکہ قبل از وقت انتخابات چاہتے ہیں اور اس کے لئے خیبرپختون خوا کی اسمبلی توڑنے کو بھی تیارہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حلقہ بندی بل پرمزید غور ہونا چاہئے اور یہ بل مشترکہ مفادات کونسل میں زیر بحث آئے لیکن ہم کسی صورت حلقہ بندی بل کی بنیاد پر الیکشن میں تاخیر قبول نہیں کریں گے۔پی ٹی آئی ترجمان نے کہا کہ ہم انتخابات میں تاخیر نہیں بلکہ قبل از وقت انتخابات چاہتے ہیں، ہماری رائے ہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلیاں توڑنے پر اتفاق کیا جائے اگر تمام فریق متفق ہوں تو تحریک انصاف بھی خیبرپختون خوا اسمبلی قبل از وقت توڑنے کو تیار ہے۔ پی ٹی آئی ترجمان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کی روح مردم شماری میں نہیں بلکہ انتخابات ہے۔ کسی ترمیم کے انتظار میں الیکشن میں تاخیر ہرگز قبول نہیں۔دوسری طرف قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈراور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے تجویز دی کہ 2018 میں منعقد کئے جانے والے عام انتخابات گزشتہ مردم شماری کے مطابق کرائے جائیں۔ اپوزیشن لیڈر نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ جب تک پیپلز پارٹی کے حال ہی میں ہونے والی مردم شماری کے نتائج اور اعداد و شمار کے حوالے سے خدشات دور نہیں کیے جاتے تب تک وہ مسلم لیگ ن کی جانب سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کی نئی حلقہ بندیوں کے آئینی ترمیمی بل کی کبھی حمایت نہیں کرے گی۔دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی اپنی مدت پوری کرے گی' پی ٹی آئی مارچ میں ہونے والے سینٹ الیکشن سے پریشان ہے۔ قومی اسمبلی اپنی مدت پوری کرکے برخواست ہوگی، مسلم لیگ (ن)کی حکومت روایت کے مطابق 5 سال پورے کرے گی اور انتخابات کے ذریعے نئی حکومت قائم ہوگی، دنیا کو بتادیں گے کہ پاکستان مستحکم جمہوری ملک ہے۔حال ہی میں سپیکر قومی اسمبلی کی صدارت میں منعقد ہونے والے پارلیمانی پارٹیوں کے سربراہی اجلاس میں آئندہ عام انتخابات نئی حلقہ بندیوں کے تحت کروانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔حلقہ بندیوں کے حوالے سے صوبوں کی قومی اسمبلی کے لئے نشستوں میں رد و بدل پر اتفاق کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے موجودہ حلقوں میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ بھی کیاگیا تھا۔ قومی اسمبلی کی صوبائی نشستوں میں رد و بدل سے پنجاب سے قومی اسمبلی کی 7جنرل اور دو خصوصی نشستیں کم ہوں گی جبکہ خیبر پختونخوا کے لئے قومی اسمبلی کی 4جنرل اور ایک خصوصی نشست میں اور بلوچستان کی 2جنرل اور ایک خصوصی نشست میں اضافہ ہوگا۔ اسی طرح وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی بھی ایک جنرل نشست بڑھ جائے گی۔ دستور اس حوالے سے صاف سیدھی رہنمائی کرتا ہے کہ مردم شماری کے بعد قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نئی حلقہ بندیاں کی جائیں۔ اس دستوری ضرورت کو مردم شماری کے لئے جاری کئے گئے نوٹیفیکیشن میں جس طرح نظر انداز کیاگیا تھا وہ اب سامنے آگیا ہے اور حلقہ بندیوں کے حوالے سے اختلافات کے باعث سیاسی جماعتوں پر ان حلقہ بندیوں کے مطابق انتخابات کاانعقاد چاہتی ہیں۔ ایسا ہونے کی صورت میں سب سے ز یادہ نقصان خیبر پختونخوا کو ہوگا او ر پنجاب فائدے میں رہے گا۔ سوال اب بھی اپنی جگہ اہمیت کاحامل ہے کہ مردم شماری پر سامنے آنے والے اعتراضات اور سنگین نوعیت کی شکایات سے آنکھیں پھیرنے سے کیا مسائل حل ہو جائیں گے؟ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ چھوٹے صوبوں کی قیادتوں نے ملکی حالات کے پیش نظر مردم شماری پر اپنا احتجاج تو ریکارڈ کروایا مگر ایسے عمل سے گریز کیا جس سے ماحول میں تنائو پیدا ہوتالیکن ایسا لگتا ہے کہ اب سیاسی جماعتیں اپنے تحفظات میں سنجیدہ ہیں اور وہ نئی حلقہ بندیوں کی جگہ پرانی حلقہ بندیوں کے تحت ہی انتخابات چاہتی ہیں۔وفاقی حکومت کے ذمہ داران کا بھی فرض تھا کہ وہ مردم شماری کے حوالے سے سامنے آنے والی شکایات پر ایک پارلیمانی کمیٹی بنا کر اس کاجائزہ لیتی کیونکہ مردم شماری فقط انتخابی عمل کے لئے نئے اقدامات کی متقاضی نہیں ہوتی بلکہ اس کی بنیاد پر صوبوں میں وسائل کی تقسیم کے ساتھ وفاقی ملازمتوں میں حصہ اور چند دیگر معاملات بھی طے ہوتے ہیں۔ یہ وہ بنیادی نکتہ ہے جس کی وجہ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ صوبوں کے لئے قومی اسمبلیوں کی نشستوں میں رد و بدل کے فارمولے پر اتفاق رائے سے اصل میں بنیادی نوعیت کے سنگین مسائل اور شکایات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی گئی ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ آخر مردم شماری کے نتائج پر اٹھنے والے اعتراضات سے یکسر منہ کیوں موڑاگیا۔ کیا صوبائی حکومتوں کا یہ حق نہیں تھا کہ ان کی شکایات دور کی جاتیں؟ یہاں ایک سوال اور ہے وہ یہ کہ مردم شماری پر اعتراضات کی موجودگی میں مستقبل میں اس کی بنیاد پر طے ہونے والے معاملات کا کیا ہوگا۔ کیا چھوٹے صوبوں کے حق مالیات اور دوسرے معاملات میں اضافہ کیا جائے گا؟ ہماری دانست میں اس سوال کو نظر انداز کرنے کی بجائے حقیقت پسندی کے مظاہرے کی ضرورت ہے۔ وفاقی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ انتخابات کے عمل کے آغاز سے قبل ہی اس معاملے کو کسی فورم پر طے کروائے۔ اسکے لئے دو راستے ہیں اولاً یہ کہ وزیر اعظم اور چاروں وزرائے اعلیٰ پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی معاملے کو دیکھے اور ثانیاً قومی اسمبلی کی ایک خصوصی پارلیمانی کمیٹی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر حکومت اتفاق رائے پیدا کرکے نئی حلقہ بندیوں کے مطابق آئندہ عام انتخابات کراسکے تو بہت بہتر ہوگا اور اگر ایسا نہ ہوسکاتو اس معاملے کو انتخابات میں تاخیر کاذریعہ بنانے کی بجائے پرانی حلقہ بندیوں کے مطابق ہی انتخابات کرادئیے جائیں۔ لیکن بہر حال یہ حکومت کی ناکامی اور عدم دلچسپی کا مظہر ضرور ہوگا جس کے نتیجے میں جن صوبوں کی نشستوں میں اضافہ ہونا ہے وہ محروم رہیں گے اور جس صوبے کی نشست میں کمی ہونی ہے وہ فائدے میں رہے گا۔ اگر پرانی حلقہ بندیوں کے مطابق نشستوں کی تعداد میں کمی بیشی کا فارمولہ متعین کرکے انتخابات کرائے جائیں تو اس کا ازالہ ہوسکتا ہے۔ بہر حال جو بھی ہو عام انتخابات بروقت ہونے چاہئیں۔ اس میں تاخیر نہ ہو قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ معقول نہیں اور نہ ہی اسے پذیرائی ملنے کا امکان ہے۔ بہتر ہے کہ اس طرح کے مطالبے سے دستبردار ہو کر مقررہ وقت پر انتخابات لڑنے کی تیاری کی جائے۔

اداریہ