Daily Mashriq

امریکی زمینی حقائق کو مد نظر رکھیں

امریکی زمینی حقائق کو مد نظر رکھیں

سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے امریکی قونصلر جنرل کی قیادت میں ملاقات کے لئے آنے والے امریکی وفد سے بجا طور پر درست بات کہی ہے کہ امریکہ کسی کو خوش کرنے کے لئے پاکستان پر الزام تراشی کی بجائے پچھلی چار دہائیوں میں دی گئی پاکستان اور پاکستانیوں کی قربانیوں کااعتراف کرے۔ بد قسمتی سے ٹرمپ حکومت کے قیام کے ساتھ ہی امریکہ میں موجود بھارتی لابی کے پروپیگنڈے اور چند دیگر وجوہات کی بنا پر امریکی حکام پاکستان بارے نا مناسب انداز تکلم اپنائے ہوئے ہیں جو مساوی بنیاد پر استوار دو طرفہ تعلقات اور سفارتی آداب کے منافی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ محض الزامات کی چاند ماری کی بجائے زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے استحکام میں تعاون کیاجائے۔ہمیں امید ہے کہ امریکی قیادت اور حکام کو جلد یا بدیر اپنی غلطیوں کا احساس ہوگا اور وہ پاکستان کے بارے میں اپنی پالیسیوں میں مناسب تبدیلی لانے پر غور کریں گے ۔ پاکستان اور امریکا کے تعلقات صرف پاکستان ہی کیلئے اہم نہیں بلکہ امریکہ کیلئے بھی یکساں اہمیت کے حامل ہیں خاص طور پر خطے کے معاملات اور افغانستان میں امن و استحکام کے سلسلے میں پاکستان اب بھی اہم کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے ۔
آملیں گے پھر سینہ چاکان چمن سے سینہ چاک
شمالی وزیرستان کے سابق طالبان کمانڈر اور انتقام وزیرستان نامی گروپ کے امیر کا افغانستان سے پاکستان واپس آکر خود کو سیکورٹی فورسز کے حوالے کرنے کا اقدام قابل قدرہے جو دیگر ناراض عناصر کی وطن واپسی اور خود کو حکام کے سامنے پیش کرنے کا باعث بن سکتا ہے ۔ ہمارے تئیں اولاً اس قسم کے عناصر کیلئے عام معافی کی گنجائش رکھی جانی چاہیئے اور اگر معاملے کی حساسیت کے باعث ایسا ممکن نہیں تو جو لوگ رضا کارانہ طور پر اپنے وطن واپس آکر اس سر زمین پر خود کو حکام کے حوالے کردیں ان کے ساتھ نرم اور بہتر سلوک ہونا چاہیئے جبکہ ان کے اہل خانہ اور بچوں کو مکمل تحفظ اور سہولیات ملنی چاہئیں بشرطیکہ ان میں سے کوئی براہ راست کسی واقعے میں ملوث نہ ہو ۔ انتقام وزیرستان گروپ جیسا کہ نام سے واضح ہے ایک جذباتی اور انتقام کے جذبے کے تحت بنائی گئی تنظیم تھی یا گروپ تھا اب جبکہ وہ اپنے خیالات سے رجوع کر چکے ہیں تو اس تنظیم کے وجود کا ازخود خاتمہ ہونا فطری امر ہے جب تنظیم کا نظر یاتی طور پر خاتمہ ہوہی گیا ہے تو پھر اس گروپ کے وابستگان سے بھی کوئی مخالفت باقی نہیں رہی بلکہ سلسلہ جہاں سے ٹوٹا تھا درمیانی مدت کو نکال کر اب وہیں سے جوڑ دینا چاہیئے اور ان کو معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے میں ان کی مدد کی جانی چاہیئے ۔ دشمنوں نے جو بیج ہمارے قبائلی علاقوں میں بوئے تھے اور جو کانٹے ان کی جانب سے بچھائے گئے تھے اور ہمارے جتنے بھائیوں کو ہمارا ہی دشمن بنا دیا تھا اگر ان میں سے ایک بھی خوش دلی اور رضا کارانہ طور پر لوٹ آئے تو اسے گلے لگانے کو خوش قسمتی گرداننا چاہیئے ۔ دشمنوں کی اگائی فصل ہم پہلے ہی جڑوں سے اکھاڑ کر پھینک چکے ہیں اور راہ کے کانٹوں کو بھی ممکنہ حد تک صاف کر دیا گیا ہے اب جتنا ممکن ہو سکے ہمیں اس معاشرے اور ماحول کی واپسی کیلئے تگ ودو کرنی چاہیئے جو ہمارے قبائلی معاشرے کا خاصا ہوا کرتا تھا ۔

اداریہ