Daily Mashriq


یہ کس کا سال ہے

یہ کس کا سال ہے

چینی دیو مالائی کہانیوں کے مطابق چینی سالوں کے مختلف جانوروں سے مماثلت ایک مقابلے کا نتیجہ تھی۔ ان کا ایک بادشاہ اپنے لئے بارہ جانوروں کو محافظ رکھنا چاہتا تھا۔ چنانچہ اس نے اپنے ایک نمائندے کو دنیا میں بھیجا تاکہ وہ اس کا پیغام دنیا میں جانوروں تک پہنچا سکے۔ اس ہر کارے نے جانوروں کو آسمانی بادشاہ کا پیغام سنایا اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ جو جانور پہلے آسمانی دروازہ' صبح کے وقت پار کرے گا اسے اتنا ہی بہتر عہدہ ملے گا۔ چنانچہ اگلی صبح بارہ جانوروں نے آسمانی دروازہ پار کیا جس میں چوہا اول تھا۔ اس کے بعد بیل' پھر چیتا پھر خرگوش اس کے بعد ڈریگن' اس کے بعد سانپ' گھوڑا' بکری' بندر' مرغا' کتا اور سور تھے۔ یہ محافظ جانور بارہ سالوں کے محافظ تعینات کئے گئے اور ایک چینی کیلنڈر بنایاگیا جو سالوں کا کیلینڈر ہے۔ یہ بارہ سال ان جانوروں کے ناموں سے تفویض ہیں۔ ہر سال کے محافظ جانور کی اپنی خصوصیات ہیں اور ان خصوصیات کو اس سال میں پیدا ہونے والے لوگوں کے کردار کا حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ دیو مالائی کہانی تو حقیقت سے کوسوں دور ہے لیکن چینی لوگوں کا ان جانوروں کی خصوصیات کے سالوں پر یقین اس طرح ہے جس طرح عام فہم زبان میں برجوں کی خصوصیات ہیں اور لوگ ان پر یقین رکھتے ہیں۔ مختلف برجوں کی خصوصیات کی بات کرتے ہوئے وہ خود اپنے کردار میں وہ مماثلت محسوس بھی کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ برج بھی پرانے مصری علوم کا حصہ تھے اور اس کے بعد بابل میں اس علم پر خاصا کام ہوا۔ ان برجوں کا تعلق کسی دیو مالائی کہانی سے زیادہ اس علم سے ہے جس کی بنیاد سورج کے مقام اور آسمانی طول پر رکھی گئی ہے۔ اس عالم کا آغاز پرانے مصر میں ضرور ہوا لیکن مصر اور یورپ کے آپس میں تجارتی تعلق نے یورپ کو بھی اس علم سے آشکار کردیا تھا۔ روم اور مصر کا تعلق اس علم کے فروغ اور ترقی میں خاصا ممد معاون ثابت رہا۔ اگرچہ پرانی لا طینی زبان میں Zodiac کوZodiacos کہا جا تا تھا جس کا مطلب بھی ننھے جانوروں کا دائرہ تھا اور بنیادی طور پر ان برجوں میں بھی مختلف جانوروں کو ہی بطور تمثیل استعمال کیاگیا ہے لیکن اس کی ایک لمبی تفصیل ہے جس پر پھر کبھی بات کی جاسکتی ہے۔ 

چینی کیلنڈر کا خیال شاید اس لئے ذہن میں آیا کیونکہ پاکستان میں ایک نئی سوچ جنم لے رہی ہے' ایک نیا دور جنم لے رہا ہے' ایک نئے عہد کا آغاز ہو رہا ہے جس سے شاید ہم میں سے کچھ خوفزدہ ہیں جبکہ کچھ اس کے حوالے سے بہت مثبت جذبات رکھتے ہیں۔ ملا جلا رجحان اس لئے بھی ہے کہ ہم ابھی تک خاصے اندھیرے میں ہیں۔ حکمران ہیں جو مسلسل مرغابیوں کی طرح سی پیک سی پیک چلا تو رہے ہیں لیکن ہمیں ان کی باتیں سمجھ نہیں آتیں۔ سی پیک بہت اچھا ہے' چینی ہمارے دوست ہیں' ہمیں ان کی نیت پر کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہونا چاہئے لیکن اس سب کے باوجود ایک عجیب تشویش ہے جو ذہن میں پنجے گاڑے بیٹھی ہے۔ اس ملک میں ہونے والی ہر برائی کا ذمہ دار ہم سیاست دانوں کو ٹھہراتے ہیں۔ ہم میں سے اکثریت کا یہی خیال ہے۔ ہم ا پنی فوج کو اپنا صحیح معنوں میں محافظ سمجھتے ہیں لیکن یہ خیال بھی کسی طور دامن چھوڑنے کو تیار نہیں کہ ہماری فوج نے اس معاملے میں کس حد تک اور ہمارا کیا خیال کیا۔ جب کوئلے سے چلنے والے بجلی بنانے کے کارخانے لگانے کی بات چیت ہو رہی تھی اور ہماری فوج ہر بات کو ملکی مفاد کے حوالے سے بہت تفصیل سے دیکھتی ہے تو اس معاملے میں بھی کوتاہی نہ کی گئی۔ یقینا وہ ہر بات کو بہت غور سے دھیان سے باریکی سے دیکھ رہے ہوں گے۔ اس کا جائزہ لے رہے ہوں گے۔ پھر سی پیک کے حوالے سے دلوں میں ایسی بے کلی کیوں ہے؟ کیوں کہیں سے کوئی جواب نہیں آتا کہیں سے کوئی ایسے سروے یا تحقیق نہیں ملتی جو دل کو مطمئن کرسکے۔ کیوں ملک میں بڑھتی ہوئی آلودگی جان لیوا محسوس ہوتی ہے۔ ہم میں سے اکثریت سیاستدانوں کو جھوٹا سمجھتی ہے۔ اس لئے وہ درست بات بھی کرتے ہوں تو ہمیں ان کی باتوں پر یقین نہیں آتا۔ ان کی باتوں سے تو جھوٹ کی بو آتی ہے لیکن کوئی سچ تو پھر بھی کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ فضول باتیں کرنے والے' بے وجہ چیخ چیخ کر بولنے والے سیاستدان اس آلودگی کا ذمہ دار کبھی صرف خیبرپختونخوا کو ٹھہراتے ہیں حالانکہ لاہور کی حالت کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ساہیوال اور اوکاڑہ کے بیچوں بیچ لگنے والے کارخانوں میں بھی خیبر پختونخوا کی حکومت کا کوئی حصہ نہیں لیکن یہ سب تو جھوٹے ہیں۔ ان کی پیشانیوں پر جھوٹ لکھا ہے۔ ہم انہیں ووٹ بھی دیتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ سب جھوٹ بولتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ جنہیں ہم سچا سمجھتے ہیں جنہیں ہم اس ملک کا خیر خواہ' اس ملک کا وفار دار سمجھتے ہیں ان کے بارے میں ذوالفقار علی بھٹو کی کی ہوئی باتوں پر بھی ہم کان نہیں دھرتے۔ ان کے بارے میں ہم اپنے گھروں میں ایسی محبت پیدا کرتے ہیں کہ ہمارے بچے اس ملک سے وفاداری کے اظہار کے لئے انہی جیسے ہوجانا چاہتے ہیں۔ ان میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ انہی نے ہمیشہ اس ملک کے لوگوں کو اپنی وفا کا یقین بھی دلایا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ سال پاکستان کے لئے سوال کا سال ہے۔ لیکن وہ ان سوالوں کے جواب ہمارے لئے فراہم کرنے میں کوئی مدد نہیں کر رہے۔ ہمارے ارد گرد جو دھول اڑ رہی ہے سیاست کی جو آلودگی موجود ہے اس کی صفائی کے آغاز سے سورج تک گرد پھیل گئی ہے اور اس ملک کا عام آدمی خون تھوک رہا ہے۔ کھانس رہا ہے' کینسر جھیل رہاہے۔ وہ ہمارے دوست' ہمارے محافظ کسی سوال کا جواب ہی دیں۔ کوئی یقین دہانی ہی کروائیں۔ ورنہ ہم تو بس برجوں کے مزاج کی کہانیاں پڑھنے میں ایک ایک دن خرچ کررہے ہیں۔ سانپ کی طرح یہ واہمے ہمارے سالوں کے سر پر کنڈلی مارے بیٹھے ہیں اور ہم الجھ رہے ہیں یہ کس کا سال ہے؟۔

متعلقہ خبریں