Daily Mashriq

نوجوانوں کی بات کرنے کا فیشن

نوجوانوں کی بات کرنے کا فیشن

آج کل نوجوانوں کی بات کرنا فیشن بن گیا ہے۔ فیشن اس لئے کہ جو لوگ نوجوانوں کی بات کرتے ہیں اولاًان کو نوجوانوں کے مسائل و معاملات مشکلات اور حالات بارے آگاہی نہیں ہوتی۔ دوم یہ کہ نوجوانوں کے مسائل پر بات کرنے والے ان کے مسائل کے حل سے مخلص نظر نہیں آتے۔ اس کا اندازہ قدم قدم پر پیش آمدہ مشکلات میں حکومت، اداروں اور معاشرے کے کردار وعمل سے ہوتا ہے ۔ نوجوانوں کے اجتماعی مسائل میں سر فہرست روزگار اور حصول روزگار کی مشکلات ہیں جب واسطہ پڑتا ہے تو لگ پتہ جاتا ہے کہ نوجوانوں کی تعلیم ومہارت اور ان کی امنگوں کی سرکار اور معاشرے میں کیا قدر ہے ۔ ایک قدر دان معاشرہ ہو تو امنگوں کے بر آنے کی توقع وابستہ ہو سکتی ہے مگر ہمارے ہاں بد قسمتی سے معاملہ ہی الٹ ہے ۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں و ہ تعلیم دی ہی نہیں جاتی جس کے بل بوتے پر کوئی طالب علم فارغ التحصیل ہونے پر کسی آسامی کے لئے مطلوبہ مہارت اور استعداد پر پورا اتر سکے ۔

یہاں نظام ایک طرح کا ہے اور ڈیمانڈ دوسری قسم کی تقریباًہر اسامی کے سامنے تین چار پانچ سال کا تجربہ لکھا ہوتا ہے کیا اسے اوپن میرٹ کا نام دیا جائے کیسے دیں اوپن میرٹ کا مطلب ہوتا ہے کہ امتحان میں بیٹھیں ٹیسٹ پاس کریں تربیت حاصل کریں اور سیٹ سنبھالیں۔ یہاں دوران طالب علمی پارٹ ٹائم جاب کرنے کی کوئی سہولت میسر نہیں کہ تعلیم اور تجربہ ساتھ ساتھ حاصل کیا جا سکے۔ ہمارے ہاں پارٹ ٹائم کا م کرنے کا کوئی طریقہ کار ہی وضع نہیں اگر ایسا ہوتا تو کارکنوں سے دس دس بارہ بارہ گھنٹے کی مشقت نہ لی جاتی۔ آٹھ گھنٹے کے بعد بقیہ دو ، تین ، چار اورپانچ گھنٹوں کیلئے ورکرز میسر آتے اور جو طالب علم مالی استطاعت میں مشکلات کے باعث تعلیم حا صل کرنے میں مشکل کا شکار ہوں وہ محنت مشقت اور پڑھائی دونوں ہی کے مواقع سے فائدہ اٹھا کر تعلیم و تجربہ دونوں حاصل کرتے۔ تعلیم بس ایک تصورات اور نظریات کا نام ہے یا پھر کسی خاص شعبے کا نظریاتی علم حاصل کرنا جسے بر سر زمین استعمال کیلئے اگر دوران تحصیل علم مواقع میسر آئیں تو سیکھنا اور تجربہ ساتھ ساتھ حاصل ہوں ۔
میرے نزدیک تجربہ صرف متعلقہ شعبے میں شرط بعض خاص مواقع اور جگہوں ہی پر کی شرط ضروررکھی جائے لیکن عمومی طور پر یہ دیکھا جائے کہ عام نوعیت کی اسامیوں پر خاص شعبہ جاتی تجربہ کی شرط نہ رکھی جائے بلکہ یہ دیکھا جائے کہ دور طالب علمی اور بعد از حصول تعلیم امیدوار نے علمی دنیا کا کوئی تجربہ حاصل کیا ہے اسے دنیا کی تلخیوں اور حالات سے کس قدر واسطہ پڑا ہے نوجوان نے آستین چڑھا کر کسی دکان ، میڈیکل سٹور، ہوٹل ، ٹریول ایجنسی ، بیکری ،کلینک ،ہسپتال یا کسی کے ہاں بھلے نجی ملازمت ہی کی ہے یانہیں میرے تئیں سب سے بڑا تجربہ ہی تو دنیا میں جینے کا ڈھنگ سیکھنا ہوتا ہے۔ زندگی کی تلخ حقیقتوں اور بے رحم معاشرے کا سامنا کرنا کوئی کم تعلیم و تجربہ نہیں اگر کسی امید وار نے کسی شادی حال میں کھانا پیش کرنے کی ڈیوٹی کی ہو ، وہ اس امید وار سے کہیں بڑھ کر ہے جس کے سامنے ماں بہنیںکھانا رکھتی ہوں اور پلیٹیں اٹھاتی ہوں۔
کسی نوجوان نے کسی شوروم میں گاڑیوں اور دفاتر کے شیشے صاف کیئے ہوں اس کا تجربہ بزنس ایڈ منسٹریشن کی ڈگری صرف ٹائی لگا کر کلاس لینے اور امتحان پاس کرنے والے کسی ڈگری ہولڈر سے زیادہ ہوگا کہ اس نے پڑھائی بھی کی ہوتی ہے اور عملی کام بھی ۔بھلے ان کا کام ان کی تعلیم سے مطابقت کا نہیں مگر عملی دنیا میں کیا ہوتا ہے اس کا تو ان کو علم ہے نا جبکہ دوسرا کورا اور ماں باپ کی محنت کی کمائی پر ہاتھ صاف کرنے والا جن کو اس بات کا علم ہی نہیں کہ حقیقت میں محنت کیا ہوتی ہے کاروبار کیا ہوتا ہے لوگوں سے کس انداز میں معاملات طے کرنے ہوتے ہیں۔ ان کے مزاح اور مذاق کا کس طرح سے سامنا کیا جائے سختی گرمی سردی کیا ہوتی ہے۔ کسی سیٹھ کے مزاج اور کسی گاہک کے تیور کیسے بھانپ کر پیش بندی کی جائے ۔ ہم نوجوانوں کو ڈرائیونگ سیٹ حوالے نہیں کرتے ان کو ڈرائیونگ کے متعلق بتاتے نہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ وہ سٹیرنگ سنبھالتے ہی گاڑی محفوظ طریقے سے چلائیں گے۔ بھلا ایسا کبھی ہوا ہے ۔ میرے تئیں یہ جو سالوں کا تجربہ اور چہرے پر اس کے چھائے اثرات لئے امیدواروں کی اکثر یت انٹر ویو دینے جاتی ہے گو کہ ان کی امنگ اور آگے بڑھنے اور خوب سے خوب تر کی تلاش ان کی منزل ہوتی ہے مگر ان میں ایسو ں کی بھی کمی نہیں ہوتی جو خود کسی جگہ ٹکا نہیں پائے ۔ان کو اطمینان نہیں ہوتا یا ان کو مطمئن ہونے دیا نہیں جاتا۔ ایسے تجربے کاکیا فائدہ کہ بندہ ایک مرتبہ پھر اسی جگہ واپس آکھڑا ہو جائے جہاں سے اس نے پہلا قدم اٹھایا تھا۔ آغاز سفرہوا تھا مگر بجائے آگے بڑھنے کے واپسی کا سامنا ہوا ۔ مجھے ان کی جدوجہد اور محنت پر اعتراض نہیں افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ ایسا ہونا نہیں چاہیئے کہ کسی ادارے میں وہ سالوں ٹھوکریں کھاتے رہیں مگر ان کو اس کا صلہ اور آگے بڑھنے کے مواقع نہ ملے اور وہ پھر گھوم کر ایک نئی قطار میں نئی امنگ کے ساتھ آکھڑے ہوگئے ۔ اگر ان کو ابتداً درست مواقع فراہم ہوتے اور ان کا انتخاب درست ہوتا ان کی درست رہنمائی ہو چکی ہوتی تو ان کو یہ وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے کی صورتحال سے دوچار نہ ہونا پڑتا ۔

اداریہ