فاٹا انضمام میں تاخیر کیوں؟

فاٹا انضمام میں تاخیر کیوں؟

صوبہ خیبر پختونخوا سے منسلک علاقہ فاٹا 27220 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہے ۔جو پاکستان کے کل رقبے 796096مربع سکوائر کلومیٹر کا 3.4فی صد بنتا ہے۔ 2017ء کی مردم شماری کے مطابق فاٹا کی کل آبادی 50لاکھ سے کچھ زیادہ ہے۔FRپشاور، FRکوہاٹ، FRبنوں ، FRٹانک، FRڈی آئی خان کے علاقے بھی فاٹا کا حصہ ہیں۔یہ علاقہ ابھی تک منفرد انداز سے اور آئین پاکستان کی رو سے پاکستان کی حدود میں شامل ہے۔فاٹا میں انتظامی اختیارات ذرا مختلف ہیں۔فاٹا کو نہ صوبے کی حیثیت دی گئی ہے ۔نہ صوبوں جیسے قوانین وہاں لاگو ہیں۔بلکہ خاص اختیارات کے تحت گورنر صوبہ خیبر پختونخوا کے زیر انتظام فاٹا ڈویلپمنٹ کاپوریشن کے تحت فاٹا کا انتظامی ڈھانچہ چل رہا ہے۔اس لئے قبائلی علاقہ جات میں وہ سارے قوانین لاگو نہیں ہیں۔طویل عرصے سے قبائلی عوام کی جانب سے قبائلی علاقہ جات کو قومی دھارے میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔1947 ء میں قیام پاکستان کے بعد قبائلی مشران نے بھی چند مخصوص فیصلے کئے تھے۔قبائلی علاقے کی نیم خود مختار حیثیت برقرار رکھی گئی تھی۔ انتظامی مسائل کو پولیٹکل انتظامیہ کے تحت حل کرنے کی کوشش کی گئی۔1973 ء میں آئین کے مطابق فاٹا کا انتظامی ڈھانچہ FATA DCسٹیٹس اینڈ فرنٹیئر ریجن کے حوالہ کیا گیا ۔ گورنر صوبہ خیبر پختونخوا یہ اختیارات استعمال کرتا چلا آرہا ہے۔1947 ء میں پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیا ۔لیکن قبائلی علاقوں میں 1901 ء کا نافذ کردہ فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن چند ترامیم کے ساتھ اب بھی جاری ہے۔جس کو نئی نسل کی حمایت حاصل نہیں ہے۔نوجوان قبائلی علاقے کے موجودہ نظام سے مطمئن نہیں ہے۔عوام کی اکثریت قبائلی علاقوں میں موجودہ نظام کو بدلنے پرمتفق ہے۔اس وقت قبائلی عوام کو قومی اسمبلی اور سینٹ میں نمائندگی دی گئی ہے۔لیکن صوبہ خیبر پختونخوا کی اسمبلی میں قبائلی علاقے کے عوام کی کوئی نمائندگی نہیں ہے۔جس سے قبائلی علاقے کے عوام کو روز مرہ زندگی میں دفاتر میں کام کرنے میں دشواری پیش آرہی ہے۔محل وقوع کے اعتبار سے عملی طور پر قبائلی علاقوں اور بندوبستی علاقوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔لیکن ان دو علاقوں کو مصلحتوں کے تحت الگ الگ رکھا گیا تھا۔ بلکہ اس سے قبل ملاکنڈ کا علاقہ PATAکے نام سے جانا جاتاتھا۔حکومت نے برابری کی سہولتیں مہیا کرنے کیلئے PATAکی جد اگانہ حیثیت کو ختم کیا ۔قبائلی علاقے تاریخی ،نسلی ،لسانی اعتبار سے صوبہ خیبر پختونخوا کے عوام جیسے ہیں ۔رہن سہن ،رسم و رواج ،شادی بیاہ کی سب رسمیں بھی ایک ہیں۔اگر کلتوری ،تاریخی ،مذہبی لحاظ سے ایک کلچر کا حصہ یکساں تاریخ اور ایک اسلام کے ماننے والے ہیںتو توڑنے کی بجائے جوڑنے میں کیا قباحت ہے ؟ کہ ایک وحدت بن کر قومی دھارے میں شامل ہو کر معاشی تفاوت کو دور کیا جاسکے۔اس وقت بندوبستی علاقوں اور قبائلی علاقوں میں صحت ،تعلیم ،صنعتوں اور زندگی کے دیگر شعبوں میں بہت فرق پایا جاتاہے ۔اس فرق کو ختم کرنے کے لئے قبائلی علاقوں کو صوبے میں ضم کر کے اس مسئلہ کو حل کیا جاسکتا ہے۔لیکن ضم کرنے سے پہلے وفاق سے حاصل شدہ محصولات میں قبائلی علاقوں کا حصہ صوبہ خیبر پختونخوا میں شامل کرنا نہایت ہی ضروری ہے اور آبادی کی بنیاد پر ان محاصل سے وصولی کو یقینی بنایا جائے۔2017 ء کی مردم شماری میں صوبہ خیبر پختونخوا کی آبادی میں کافی اضافہ ہوا ہے۔اُس اضافے کی مناسبت سے محاصل میں اضافہ ضروری ہوگیا ہے۔قوم پرست جماعتوں نے ہمیشہ پشتون قوم کی یک جہتی اور ایک ہونے پر سیاست کی ہے اور ہمیشہ سے ان کے ٹکڑے ہونے پر آنسو بہائے ہیں۔لیکن جب حالات نے خود بخود پلٹا کھایا اور حکومت اب ان دو ٹکڑوں کے ایک دوسرے میں انضمام کی بات کررہی ہے۔ تو چند پشتون قوم پرست جماعتوں نے انضمام کی مخالفت شروع کی ہے۔دیگر جماعتیں اگر اس کی مخالفت کریں تو اُن کی سوچ مختلف ہو سکتی ہے۔لیکن جن جماعتوں کی سیاست کا محور قوم پرستی تھی ۔اب انضمام کے موقع پر اُن کی طرف سے مخالفت سمجھ سے باہر ہے ۔اُن کی منطق سمجھ نہیں آتی کہ ان کے سیاسی مقاصد اس وقت کیا ہو سکتے ہیں؟یہ تو وقت بتائے گا۔ اس انضمام سے کیا بہتری لائی جا سکتی ہے۔لیکن بظاہر لگتا ہے کہ یہ انضمام قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا دونوں کے مفاد میں ہے یہ ایک ایسا موقع ہے ۔جس میں اکثریت ایک صفحے پر ہے۔حکومت کو دیر نہیں کرنی چاہیے۔انضمام کا اعلان کر کے پروسیس کو مکمل کرنے کیلئے ٹائم فریم وضع کرے۔لیکن اگر یہ موقع ضائع کیا گیا تو شاید دوبارہ اتفاق رائے بنانا بڑا مشکل ہوگا۔حال ہی میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے واضح طور پر فاٹا کو ایک الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کیاہے اور بیک وقت فاٹا میں ریفرنڈم کرانے کا بھی مشور ہ دیا ہے۔ان دونوں باتوں میں تضاد ہے۔ایک طرف وہ اگر ایک الگ صوبے کا مطالبہ اور دوسری طرف ریفرنڈم کی بات کررہے ہیں۔اگر ریفرنڈم میں فاٹا کے عوام نے انضما م کے حق میں ووٹ دیا تو پھر الگ صوبے کا کیا بنے گا؟کیا مولانا فضل الرحمن الگ صوبے کی رٹ چھوڑ دینگے۔اگر صوبہ بنانے کی روایت چل پڑی تو صوبہ ہزارہ،صوبہ کراچی، صوبہ بہاولپور اور سرائیکی صوبے بنانے کی جو چنگاری سلگ رہی ہے وہ بھڑک اُٹھے گی۔موجودہ حالات میں جب دو سرحدوں پر غیر اعلانیہ جنگ کے خطرات منڈلارہے ہیں تو کیا ہم اس نازک دور میں صوبے بنانے کے اس نازک مسئلے کے متحمل ہو سکتے ہیں۔اس وقت یہ سوچ ملکی مفاد میں نہیں ہے۔حالات کا تقاضا یہ ہے کہ ہم آہنگی ،اتفاق و اتحاد کو مضبوط کیا جائے۔نہ کہ مزید صوبوں کا قیام عمل میں لا کر باہمی روابط کو نقصان پہنچائیں۔

اداریہ