آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے

آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے

دنیا میں پیشوں کی کہانی بھی بڑی عجیب ہے طرح طرح کے پیشے اور کام کاج ہیں صبح کا سورج نکلتے ہی سب اپنے اپنے کام پر روانہ ہوجاتے ہیں۔کام تو ایک بہانہ ہے ایک سبب ہے خالق اپنی مخلوق کا پالنے والا ہے وہ انسان حیوان چرند پرند سب کا رزاق ہے ہر بندہ اپنے پیشے میں ماہر ہوتا ہے۔ وہ جو کہتے ہیں کہ جس کا کام اسی کو ساجھے! کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اناڑی ہوتے ہیں یا پھر ہڈ حرام یا کام چوراور مسئلہ اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی اپنے کام میں طاق ہونے کے باوجوددل لگا کر کام نہیں کرتا یا اپنے کام میں ڈنڈی مارنے لگتا ہے جب کوئی اچھا بھلا استاد اپنے طلبہ کو کلاس میں کیمسٹری یا فزکس کے اسرار و رموزکھل کر نہیں بتاتا تھوڑا بہت پڑھانے کے ساتھ ساتھ بہت کچھ چھپا بھی جاتا ہے اور اشاروں کنایوں میں بتا تا رہتا ہے کہ اگر یہاں کوئی تشنگی رہ گئی ہو تو پھر میرا ٹیوشن سنٹر تمہا رے لیے حاضر ہے ہمارا تو کام ہی خدمت کرنا ہے اب اس خدمت کا صلہ جب ہزاروں میں ہوتا ہے تو بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ کالج میں پوری بات کیوں نہیں بتائی گئی۔ اسی طرح کے ایک استاد کی کلاس میں ان کے آنے سے پہلے کسی منچلے نے بلیک بورڈ پر یہ جملہ لکھ دیا۔استاد کا کام انسان بنانا ہے پیسے بنانا نہیں !ہم کہتے ہیں پیسے بھی بنائو لیکن دیانت کا دامن تو ہاتھ سے مت چھوڑو جس نے تمہارے رزق کا ذمہ لے رکھا ہے وہ تمہیں ہر حال میںتمہارا حصہ پہنچائے گا لیکن تمہار ا یقین تو اس پر ہو۔اگر یقین ٹیوشن کی مزدوری پر ہوتو پھر وہ کچھ بھی ہوسکتا ہے لیکن استاد نہیںہوسکتا۔اسی طرح جب ڈاکٹر مریض کو گاہک سمجھنے لگتا ہے تو پھر وہ ڈاکٹر نہیں رہتا مستری بن جاتا ہے۔ گاڑیوں کا مستری گاڑیوں کے وجود کی توڑپھوڑ کا علاج کرتا ہے اور یہ انسانی وجود کی چیر پھاڑ میں مصروف رہتا ہے۔ مریض بیچارا شدید درد کے ہاتھوں بے چین ہوکر ڈاکٹر کے مستری خانے پہنچا تو مستری نے اسے مال غنیمت سمجھ کر اس کا گردہ ہی نکال لیا۔ جب وہ واپس گھر پہنچا تو ایک گردے سے محروم ہوچکا تھا۔ مستری بھی قیمتی گاڑیوں کے پرزوں کے ساتھ کچھ اسی قسم کا سلوک کرتے رہتے ہیں۔ ایک گاڑی کا پرزہ دوسری میں ڈال کر دونوں سے پیسے وصول کرلیتے ہیں۔ اب دیکھیں کہ کلینک کے ساتھ موجود میڈیسن کی دکان کے ساتھ ڈاکٹروں نے کیسے کمیشن کے سلسلے جوڑ رکھے ہیں ایک ایک مہینے کی دوائیاںلکھ کر دی جارہی ہیں۔ ساتھ یہ تاکید کی جاتی ہے کہ اگر کورس پورا نہ کیا تو مرض دوبارہ بھی حملہ آور ہوسکتا ہے۔مریض کو کچھ اس طرح ڈرا دیا جاتا ہے کہ بیچارا گھر جاکر سب سے پہلے وصیت نامہ ہی لکھوا تا ہے ۔ جو جہاں ہے جس پیشے میں ہے اس کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے حق میں ڈنڈی مارکر کچھ زیادہ پیسے بنالیے جائیں تو بہتر ہے اب دیانت دار اور درد دل رکھنے والا ڈاکٹر کالے گلاب کی طرح نایا ب ہے اگر کوئی ہے تو وہ قابل احترام اور ہمارے سلیوٹ کامستحق ہے۔ کوئی پیشہ بھی اپنی ذات میں حقیر نہیں ہوتا یہ ہم جیسے بد دیانت اور لالچی لوگ ہوتے ہیں جو پیشوں کے تقدس کو مجروح کرتے رہتے ہیں۔مسیحا یا معلم ہوناتو بہت بڑی بات ہے کتنا بڑا اعزاز ہے ۔آج ہمارے بازاروں میں جو دودھ فروخت ہورہا ہے سب جانتے ہیں کوکنگ آئل ملانے سے دودھ میں چکنائی پیدا کی جارہی ہے دودھ میں یوریا کا استعمال کیا جارہا ہے دودھ میں سوڈا جھاگ کے لیے ملایا جاتا ہے جس سے بانجھ پن کی بیماری ہو سکتی ہے۔ اب اس تباہی کے لیے تو ہم ڈنڈی مارنا بھی نہیں کہہ سکتے یہ تو انسانوں کو مارنے والی بات ہے۔ پہلے گوالے کے حوالے سے جوبات سب جانتے تھے وہ یہ تھی کہ گوالا دودھ میں پانی ملاتا ہے آج کے دور کی ان جدید ملاوٹوں کے سامنے دودھ میں پانی ملانے کی کیا حیثیت ہے؟ ہمیں تو اب اس معصوم گوالے پر پیار آنے لگا ہے جو دودھ میں پانی ملایا کرتا تھااگر آج ہمیں پانی ملا دودھ مل جائے تو غنیمت ہے۔ اب یوریا ، فارملین، سوڈا،کوکنگ آئل والے دودھ سے جان کیسے بچائی جائے ؟۔ ارباب اختیار سے درخواست ہی کی جاسکتی ہے کہ جناب کچھ کیجیے عوام کو اس خوفناک شے سے بچائیے جسے دودھ کہا جاتا ہے شہر میں مضر صحت دودھ بکتا رہے گا لوگ بیمار ہوتے رہیں گے میڈیکل پلازے بنتے رہیں گے۔ ڈاکٹر کروڑ پتی بنتے رہیں گے۔ آج ہمارے ہسپتال آباد اور پارک نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ہم نے جب ایک دوست کے سامنے مسئلہ پیش کیا تو وہ ہنس کر کہنے لگے یار معلوم نہیں ہم کس راہ پر چل پڑے ہیں صرف دودھ میں ملاوٹ تو نہیں ہورہی آپ مجھے کوئی ایک چیز ہی بتادیں جس میں ملاوٹ نہ ہو جو خالص حالت میں دستیاب ہو۔ اب تو یوں لگتا ہے کہ جیسے ہمارے معاشرے میں کوئی چیز بھی اصلی نہیں ہے سب کچھ جعلی ہے! سارا آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ وزیر اعظم سے لے کر چپراسی تک سب بہتی گنگا میں ہاتھ دھورہے ہیں! آج جو حالات جو بگاڑ نظر آرہا ہے یہ سب ہمارے کالے کرتوتوں کا شاخسانہ ہے۔ کراچی میں چکن گونیا، پنجاب میں سموگ اور خیبر پختونخوا میں ڈینگی! کبھی وقت ملے تو اس پر ضرور سوچیے گا! ۔

اداریہ