سعودی شاہی محلات میں آنے والا زلزلہ

سعودی شاہی محلات میں آنے والا زلزلہ

2011ء کے اواخر میں سعودی عرب میں ہونے والے احتجاج کا کسی نے بھی خاص نوٹس نہیںلیا تھا کیونکہ یہ وہ وقت تھا جب تیونس ، شام ، لیبیا اور یمن سمیت مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے کئی ممالک میں عوامی احتجاج کے ذریعے بہت سے حکمرانوں کو اقتدار کے ایوانوں سے نکال باہر کردیا گیاتھا۔ لیکن 2009ء اور 2011ء میں جدہ میں آنے والے سیلابوں اور حکومت کی جانب سے ان سیلابوں کے متاثرین کو امداد نہ فراہم کئے جانے پر ہونے والا احتجاج ان وجوہات میں سے ایک ہے جن کی بناء پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے شاہی خاندان اور فوج سمیت ہر اس ادارے سے سختی سے نمٹنے کی پالیسی اپنائی ہے جو ان کی روز افزوں بڑھتی ہوئی مقبولیت، معاشی اور سماجی اصلاحات اور یمن کی جنگ پر تنقید کرے گا۔سعودی عرب میں حالیہ سیاسی ہلچل میں شاہی خاندان کے گیارہ شہزادوں اور کئی سینئر حکومتی اہلکاروں کو معطل اور گرفتار کرنے کے علاوہ شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں ایک اینٹی کرپشن کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے ۔شاہی خاندان کے مختلف افراد اور اعلیٰ فوجی افسران کے بہت سے بڑے کاروباروں کو سیل کردیا گیا ہے۔اس کے علاوہ حکومت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ نئی بنائی جانے والی کمیٹی سیلاب سے نمٹنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات اور ریسکیو کے کاموں کا جائزہ بھی لے گی۔لیکن شاہی خاندان کے افراد اور دیگر حکومتی عہدیداروں پر کیے جانے والے حالیہ کریک ڈائون کی وجہ صرف جدہ میں آنے والے سیلاب نہیں ہیں ۔ حالیہ کریک ڈائون میں گرفتار ہونے والی شخصیات میں نیشنل گارڈ کے سربراہ پرنس مہتاب بن عبداللہ، وزیرِ معیشت اور جدہ کے سابق میئر عادل بن محمد فقیح ، نیوی کمانڈر عبداللہ السلطان ، بلیو چپ اور موگل جیسے دنیا کے چند بڑے کاروباروں میں حصہ دا راور لبرل خیالات کے حامل ارب پتی بزنس مین پرنس الولید بن طلال بن عبدالعزیز ، شاہ فہد کے برادرِنسبتی ولید بن ابراہیم الابراہیم کے علاوہ سابق شاہ کے صاحبزادے اور مڈل ایسٹ براڈ کاسٹنگ کمپنی کے (ایم بی سی ) کے مالک عبدالعزیز اور مڈل ایسٹ کے سب سے بڑے بزنس اشتراک کے مالک صالح کمال ، جن کے ماضی میں مسلم برادر ہڈ سے بھی تعلقات رہے ہیں،شامل ہیں۔ پرنس مہتاب ، شاہ عبداللہ مرحوم کے بیٹے اور شاہ سلمان کے خاندان کے علاوہ حکومتی حلقوں میں شامل آخری سینئر عہدیدار ، کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔ شاہی خاندان کی حفاظت پر مامور جانثاروں کے دستے کو شاہ عبداللہ کے قریبی ساتھیوں میں سے سمجھا جاتا تھا اس لئے اس دستے کے بارے میں بھی تفتیش کی جارہی ہے۔ نیشنل گارڈ اور ملٹری کمانڈروں کے خلاف کئے جانے والے کریک ڈائون کے دوران ہی یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے داغے جانے والے میزائل دارالحکومت ریاض کے پاس گرے ہیں۔ ان میزائلوں کی حالیہ شیلنگ سے اندازہ ہوتا ہے کہ یمن میں ڈھائی سال سے جاری سعودی عرب کی زمینی کی بجائے فضائی کارروائیوں کی حکمتِ عملی ناکام ہوچکی ہے کیونکہ یمن میں کارروائی کا سب سے بڑا مقصد سعودی عرب کی حفاظت تھا۔ اس کریک ڈائون کے بعد یورپ میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے شاہی خاندان کے چار باغی ارکان کی گمشدگی اور اغواء کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی ان شخصیات میں پرنس ترکی بن بندر، شاہی خاندان کی حفاظت پر مامورایک سابق سینئر پولیس آفیسر اور شاہ عبداللہ مرحوم کے داماد پرنس سلطان بن ترکی شامل ہیں۔حالیہ کریک ڈائون سے پہلے ایسے علمائ، ججوں اوردانشوروں کو بھی گرفتار کیاگیا تھا جن کے خیالات بہت زیادہ قدامت پسند یا لبرل تھے۔ ان اہم افراد میں سلمان الاودہ، ایدالقرنی اور علی العمری جیسے علماء ، زیاد بن نہیت جیسے شاعر اور عصام الزامل جیسے ماہرینِ معاشیات شامل ہیں۔ ان گرفتاریوں کی وجہ قطر پر لگائی جانے والی پابندیوں پر تنقید کا خاتمہ کرنا، یمن جنگ کے لڑنے کے طریقہِ کار پر ہونے والے تنقید کو روکنا اور پرنس محمدبن سلمان کی اصلاحات پر اٹھنے والی مخالفانہ آوازوں کو دبانا ہے۔ پرنس محمد بن سلمان کی جانب سے پیش کئے جانے والے وژن 2030ء کے شاندار منصوبے کی معاشی اصلاحات کے اثرات ابھی تک کہیں نظر نہیں آئے ہیں۔ پرنس نے ابھی تک خواتین کو ڈرائیونگ اور کھیلوں کے میدانوں میں جانے کی اجازت دینے اور ملک کے نوجوانوں ، جو کہ ملکی آبادی کی اکثریت ہیں، کے لئے تفریحی مواقعوں میں اضافہ کرنے جیسے سماجی آزادی کے اقدامات ہی کئے ہیں جن کے ذریعے وہ میڈیا میں مقبول ہوچکے ہیں۔پرنس کی جانب سے ملک سے بے روزگاری کے خاتمے جیسے وعدوں پر عمل درآمد دور دور تک نظر نہیں آرہا۔حالیہ کریک ڈائون ان شاہی اقدار کے منافی ہے جو شاہی خاندان میں مکمل اتحاد کی یقین دہانی کراتی ہیں۔ پرنس محمد بن سلمان کے حالیہ اقدامات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شاہی خاندان کے اندر پائے جانے والے اختلافات کو الائنس کی بجائے گرفتاریوں اور معطلیوں سے ختم کرنا چاہتے ہیں تاکہ اقتدار پر ان کی گرفت مضبوط ہوسکے اور ان کی اصلاحات اور یمن جنگ پر ہونے والی تنقید کا بھی خاتمہ کیا جاسکے۔ ان اقدامات سے پرنس محمد بن سلمان کے اصلاحاتی عمل پر سوالات اٹھتے ہیں جو سعودی عرب کے سماجی نظام میں اتفاقِ رائے سے کی جانے والی تبدیلیوں کی بجائے یک طرفہ حکمت ِ عملی کے طور پر دیکھے جارہے ہیں۔

(ترجمہ: اکرام الاحد ،بشکریہ ، بلومبرگ)

اداریہ